Asif Ali Zardari condoles the death of Said Ali

Picture
Islamabad, 7 April 2015: Former President, Asif Ali Zardari has condoled the death of Said Ali, a party leader in Swat who was shot dead in Swat the other day. He was brother of Shaheed Fazal Hayat Chattan.
In a condolence message, the former president said that he was grieved to learn about the death of Said Ali, the brother of Shaheed Fazal Hayat.
The former President also prayed to Almighty Allah to rest deceased soul in eternal peace and grant patience to the members of bereaved family to bear the loss with equanimity.

Advertisements

Mian Manzoor Ahmad Wattoo welcomes PTI’s return to parliament

wattoo-terms-military-courts-as-right-step-to-deal-with-terrorists-1420901440-6228
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President PPP Central Punjab, has welcomed the return of PTI members to the Parliament adding that the PPP policy of negotiation and reconciliation stood vindicated as the only way for the resolution of the political issues facing the country

He maintained that after the setting up of the Judicial Commission there was no justification on the part of PTI to continue the boycott of the Parliament and their rejoining was quite rational and logical.

He regretted the use of the unparliamentarily language by some ruling stalwarts against the PTI’s return to the Parliament and described it as irresponsible if not condemnable or in bad taste.

He highly appreciated the speeches of the Opposition leader, Syed Khurshid Shah and Senator Aitzaz Ehsan at the floor of the Parliament describing these prefectly representative of the sense of the whole House.

He recalled that the Co-Chairman Asif Ali Zardari had been consistently urging the protesting parties to return to the negotiation table for the redressal of their grievances because dialogues offered the only solutions to their grievances. The policy of confrontation is counter-productive and against the democratic ethos, he maintained.

He said that the Co- Chairman after meeting scores of Party leaders in Lahore addressed the press conference in which he committed himself to salvage democracy with the support of the other political leaders and he succeeded in this count, he argued.

He played a key role and as such there was no danger to democracy in Pakistan now, he asserted.

پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری بیان میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمان میں واپسی کی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے موقف کی بھرپور تائید ہوئی ہے جس نے کہا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہی پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا اسمبلیوں سے علیحدہ رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین اسمبلی کی غیر پارلیمانی زبان کے استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے غیر ذمہ دار اور غیر جمہوری رویہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومتی کی دوغلے پن کی عکاسی کرتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا موقف شروع دن ہی سے بڑا واضح اور جمہوری روایات کے عین مطابق رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور سینیٹر اعتزاز احسن کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی تقاریر کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممبران اسمبلی کے کردار کی صحیح عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے یاددلایا کہ کوچےئرمین آصف علی زرداری نے لاہور میں ملک کے سیاسی قائدین سے ملاقات کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بڑے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ملکی سیاسی مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے فیصلے کن کردار کی وجہ سے ملک میں جمہوریت مضبوط بھی ہوئی اور محفوظ بھی کیونکہ اب ملک میں غیر جمہوری طاقتوں کی تمام سازشیں دم توڑ چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی محاذ آرائی اور انتقامی سیاست جمہوریت کی روح کے منافی ہونے کے علاوہ معاشرے میں شدت پسندی اور انتہاء پسندی کے رجحانات کو ہوا دیتی ہیں۔

Farhatullah Babar’s speech in joint session on Yemen

Picture
ISLAMABAD – This is the very important time in the history of the Pakistan and we are sowing the good tradition of taking decisions in the Parliament with the consensus of all the political parties.
The speaker has showed good commitment to the democracy while not accepting the resignations of the PTI’s members.
In the Joint Session of the Parliament Farhatullah Babar said that the attitude and tone of the Khawaja Asif was very undermining. Govt should change its attitude and this is not the place to discredit anyone but to create the unity among the representatives of the people.
We welcome the PTI members back in the Parliament and I believe that PTI will also welcome their those members who attended the Parliament against their wish, he said.
Nawaz Sharif should tell the insight of the talks between the Saudi Authorities and Defense Minister of Pakistan, Khawaja Asif.
Government should call in-camera session of the talk of what would be the limit for us to jump into the war and should try to take in confidence all the parties of the parliament, he added.
“I appreciate that this parliamentary session was called and it was a good gesture for the PM to be here on both days,” says Pakistan Peoples Party (PPP) representative Senator Farhatullah Babar.

“The situation in Yemen is a war between different tribes. Saudi Arabia was not attacked; it was Yemen,” he says.

“We should not repeat the mistakes we committed in the past; these issues were discussed earlier. Let’s try and move forward as indicated by the PM when he asked the House to give concrete suggestions on how to respond to Saudi Arabia’s request.”

Babar says no one would refuse Saudi Arabia’s request outright, but there was a consensus that Pakistan did not want to be part of a distant war in civil lands.

“We have a security agreement with Saudi Arabia and some troops are present there but they have not been mandated to go and fight in Yemen.”

He says Pakistan could help Saudi Arabia in the areas of logistical support, intelligence sharing, medical support and helping troops in mountain warfare.

Babar says Pakistan should step up dialogue with Iran and clarify that its assistance to Saudi Arabia was not against Iran’s interests.

وفاقی حکومت نے اب تک سندھ حکومت کے آئل اور گیس سے متعلق مسائل اور خدشات کو دور نہیں کیا ہے:-وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ

Picture

 سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کی نئی انرجی پالیسی کو اس وقت تک قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جب تک کہ آئل اینڈ گیس سے متعلق سندھ کامسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ و انرجی سید مراد علی شاہ، چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن، سیکریٹری انرجی آغا واصف علی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو و دیگر نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر خزانہ و انرجی سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے اب تک سندھ حکومت کے آئل اور گیس سے متعلق مسائل اور خدشات کو دور نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت پیٹرولیم نے آئی پی سی کے اجلاس کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے آئل اور گیس سے متعلق مسائل پر غور کیلئے 7۔ اپریل کو اسلام آباد میں اجلاس طلب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس آئی پی سی سی ڈویژن کوبلانا چاہیے جوکہ ان مسائل پر غور کیلئے مجاز ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئی انرجی پالیسی قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پہلے سندھ حکومت کے آئل اور گیس سے متعلق مسائل کا تدارک ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے آئل اور گیس سے متعلق مسائل کو درج ذیل طریقے سے اٹھایا ہے۔
1۔ میسرز اینگرو فرٹیلائیزر کو قدرتی گیس کی رعائتی نرخوں پر فراہمی کے نتیجے میں گیس ڈولپمینٹ سرچارج(جی ڈی ایس) کی مد میں سالانہ 4تا 5ارب روپے کا مالی نقصان ہے۔
2۔ ایس ایس جی سی ایل/ایس این جی پی ایل کیلئے گیس ٹیرف کی ایڈجسٹمینٹ کیلئے پالیسی گائیڈ لائنس کا اجراء۔ اس پالیسی کے تحت سندھ حکومت کو گیس ڈولپمینٹ سرچارج(جی ڈی ایس) کی مد میں سالانہ 5تا8ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
3۔ ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹیڈ کے گیس پرائس ایگریمنٹ( جی پی اے) سبوتاز کرنا۔ اس فیصلے کی وجہ سے بھی سندھ حکومت کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ماری گیس کمپنی کا گیس سرچارج جمع کرنے کی مد میں ایک بڑا حصہ ہے۔ اور ماری گیس کمپنی کے حوالے سے بھی سندھ حکومت کو سالانہ 10۔ ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
4۔ گیس انفراسٹریکچر ڈولپمینٹ سیس آرڈیننس کا نفاذ۔ یہ آرڈیننس آئین کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ پہلے ہی جی آئی ڈی سی ایکٹ 2011ء کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔لیکیوفائیڈ قدرتی گیس(ایل این جی) کی درآمد اور اس کے استعمال سے صوبہ سندھ کے انرجی سیکیورٹی بری طرح سے متاثر ہوتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل158کے تحت جس صوبہ میں آئل اور گیس پیدا ہوتی ہے اسے ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں اس کے استعمال میں ترجیح دی جائے گی اور اس کی مثال سوان اور زمزمہ گیس فیلڈ ہیں جہاں سے نکلنے والی گیس پنجاب میں ایس این جی پی ایل نیٹ ورک کو منتقل کردی جائیگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر خزانہ و انرجی سے کہا کہ وہ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں شریک نہ ہوں اور آئی پی سی سی ڈویژن کو بتادیں کہ اجلاس کا اہتمام آئی پی سی سی ڈویژن کر سکتی ہے

To make Pakistan a true liberal, democratic and developed country.