Category Archives: Urdu News

ن لیگ سرکاری اداروں کی نجکاریاں سے باز رہے ،یوسف اعوان

333749_225587220846263_1532480542_o

پاکستان پیپلز پارٹی علماء و مشائخ ونگ پنجاب کے صدر و رُکن اسلامی نظر یاتی کو نسل پیر علامہ یوسف اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ( ن) ورکر دشمن پالیسی اختیار کر تے ہوئے سرکاری اداروں کی نجکاریاں کر نے میں لگ گئی ہے جو کہ غر یب عوام کے ساتھ کسی ظلم سے کم نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ملک کو اندھیر وں سے نکالنے والوں نے مزید اندھیروں کے ساتھ بے روزگاری اور مہنگائی کا تحفہ بھی دے دیا ہے جس کی ذمہ دار مسلم لیگ ( ن) کے بے حس شیر ہیں انہوں نے کہا کہ آج غر یب عوام سڑ کوں پر ہے اور اپنا حق مانگ رہی ہے مگر حکومت وقت ظالمانہ اقدامات کر نے میں لگی ہوئی ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں عوام کو ریلیف فراہم کر نے کے ساتھ نوکری پیشہ افراد کو مستقل اور دیگر مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ حل کیا مگر یہاں آج صوتحال مختلف ہے اور عوام کے سامنے آہستہ آہستہ حقائق اور مسلم لیگ ( ن) کا اصل چہر ہ نظر آنے لگا ہے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گر دوں کے سامنے ڈٹ کر بیان دیا ہے اور دھمکیاں دینے والے حکومت وقت کی گود میں بیٹھے ہو ئے ہیں اور اہم شخصیات کا ساتھ ہے کالعدم تنظیموں کی جانب سے اس طرح کی کاروائیاں افسوس ناک ہیں ۔
مسلم لیگ ( ن) کی خود ساختہ طاقت رکھنے والے بچوں کو ابھی پیپلز پارٹی کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے کیونکہ آرام کی خاطر ملک سے بھاگنے والے کیا جانے کہ قر بانی کیا ہو تی ہے ۔

Advertisements

بھولا بھالا شریف اور غدار کون؟

تصویر

تحریر: امام بخش

بُراہوہماری سنگدِل اسٹیبلشمنٹ کا جس نے صفات وخصائل کے اعتبار سے انتہائی بے ضرر میاں محمدنواز شریف کو اپنی  ڈھب کا بندہ سمجھنے کے بعد بہلا پھسلا کر اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیےاقتدارکے ایوانوں میں لا پھینکا۔  بھولے بھالے نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے چُنگل میں پھنسنے سے قبل اپنی زندگی بڑی شاہانہ انداز میں گذاررہے تھے۔گوالمنڈی لاہور کے خوش خوراکوں کی طرح نوجوانی میں سری اور زبان کے کئی پیالے ناشتے پر چٹ کر جاتے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد لسی پی کر لمبی تان کر سو جانا ان کا معمول تھا۔ عصر کے قریب اُٹھتے تو “بھولی جُوس کارنر” سے اپنے پسندیدہ جوس سے دل بہلاتے۔ اس کے بعد باقرخانی یا سموسوں کی پلیٹیں ختم کرنے کے بعد رات کے کھانے میں ملنے والی شب دیگ کا انتظار شروع کر دیتے۔  اور ہاں کبھی کبھی اپنے معمولات سے ہٹ کر لاہور جِم خانہ میں کرکٹ بھی کھیلنے یا اپنے اُستاد رنگیلا مرحوم سے مزاحیہ اداکاری سیکھنے  کے لیے چلے جاتے۔

اِقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے اپنے معمولات زندگی  کو برقرار رکھا۔  وزارتِ عظمٰی کے دوران بھی کھانے کی میز پر ڈیڑھ دو گھنٹے گذارتے تھے۔  انواع واقسام کے کھانے۔۔۔۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا طعام، دوسرے کے بعد تیسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ خوش خوراک اِتنے ہیں کہ دن میں چار یا پانچ بار کھاناضرورتناول فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ کھانے کے دوران لطیفوں کے سُننے اور سُنانے کے طویل دورانیے چلتے ہیں۔

لکشمی چوک میں گول گپے کی ریڑھی لگانے والے نوجوان محمد اکرم کے بقول وہ دو درجن گول گپےکھا جاتے تھے۔  صادق حلوائی کی دکان سے حلوہ پوری اور چودھری جاوید کی دکان سے سری پائے کھاتے رہے ہیں۔ وزارت عظمٰی کے دوران ناشتےکے لئے صادق کی حلوہ پوری اسلام آباد منگوائی جاتی تھی۔

شجاع بٹ رام گلیاں کے ایک ریستوران کے مالک کے مطابق وزیراعظم بن جانے کے بعد میاں نواز شریف وقت کی قلت کے باعث سو دو سو پائے اور کھد زبان مغز وغیرہ پرائم منسٹرہاؤس منگوا لیا کرتے تھے اور اگر انہیں پرانے محلے کی زیادہ ہی یاد ستا رہی ہوتی تو ہمارے دیگچے، بنچ، برتن اپنے گھر کے لان میں منگوا کر تندور لگوا لیا کرتے تھے اور پوری فیملی کھانا کھاتی تھی۔

یاد رہے کہ میاں نوازشریف کےیہ من پسند کھانے لانے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر خاص طور پروزیراعظم ہاؤس اسلام آباد سے لاہور جاتا۔

چند چالاک دست لوگوں نے نوازشریف کے اس بے ضررشوق سے ناجائز فائدے بھی  اُٹھائے۔  مثال کے طور پر ایک صاحب نے نوازشریف کو اپنے گھر کا لذیذ ساگ گوشت کھلا کر انعام کے طور پر ناروے اور تھائی لینڈ کی سفارت کاری کے مزے لوٹے۔ ایک اور صاحب نواز شریف کے معدے کے راستے چیف جسٹس لاہور کی کُرسی تک جا پہنچے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ بھی لندن میں مفت کھانوں کی مہنگی قیمت ہیں۔

جیسا کہ ہم نے قبل ازیں ذکر کیا کہ میاں نواز شریف کرکٹ کھیلنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔  ملک جتنے بھی نازک دور سےگزر رہا ہوتا وہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی شانِ بے نیازی سے اتوار کا میچ کھیلنا نہیں بھولتے تھے۔

ہماری دانست میں میاں نواز شریف اور عمران خان میں دو عادتیں مشترک ہیں ایک کرکٹ، دوسری رنگین طبیعت مگر تیسری کے بارے میں نوازشریف نے پچھلے سال”پاشا ،پاشا”  کا شور اُٹھنے کے دنوں میں خود ہی بھانڈا پھوڑا جب عطاءالحق قاسمی کےہاں  دعوت ِ شیراز  پر مجیب الرحمٰن شامی،   عارف نظامی سمیت چند صحافی مدعو تھے ۔  وہاں میاں  صاحب پوری شدومد سے عمران خان کو ایجینسوں کا کل پُرزہ  ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔  ایک دانشور نے پوچھ لیا کہ میاں صاحب  آپ یہ بات اتنے اعتماد سے کیسے کہہ سکتے ہیں۔ تو میاں صاحب نے جواب دیا کہ’ ہم سے یہ کام لیا جاتا رہاہے اور رقوم بھی خود چل کر آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔’ مان لیا بھئی کہ سب سے اہم خصلت تو تیسری ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ قسمت کے دَھنی نواز شریف،عمران خان کے مقابلے میں پہلےدوغیر اہم میدانوں میں عشر عشیر نہیں تو اتنی بڑی بات نہیں کیونکہ دُھن کےپکےمیاں نوازشریف ان دونوں فنون میں بھی اپنی استطاعت کے مطابق دال دلیاکرتے چلے آرہے ہیں۔

محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے اکثر معشوق فریبی کِم بارکر پر بہت غصہ آتا ہےکہ وہ بے وفاسارے فائدے اُٹھانے کے باوجوداپنی کتاب بیچنے کے چکر میں سچے اظہارِعشق کوپوری دنیا میں بے توقیر کرنے سے باز نہیں آئی۔۔۔۔۔۔ اِرشاد بیگم بھی بے مروت نکلی جو رات رات بھرٹیلفون پر ہمارےمترنم وزیراعظم سے گانے سُننے کے باوجود کہنے سے باز نہیں آئی کہ ‘یہ صر ف نام کے شریف ہیں’۔  ارشاد بیگم سے تو آئی۔کے۔گجرال ہی اچھے جو گانے اور کشمیری مجاہدین کےخفیہ راز سُننے  پر زندگی بھر نوازشریف سے دوستی کا دم بھرتے رہے۔  باقیوں کا ذکرچھوڑیں کیونکہ معماملہ ‘give-n-take’ کی بنیاد پر برابری کی سطح پر رہا۔

اب پھر اس نگوڑی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگلے وزیرِاعظم میاں محمد نوازشریف ہوں گے۔ ہمیں میاں صاحب پر ترس آ رہا ہے۔ مگر اُمید ہے کہ اب میاں صاحب کافی سیانے ہوگئے ہیں کیونکہ وہ اکثر خود  کہتے ہیں کہ میں نے، “قدم بڑھاؤ میاں محمد نوازشریف، ہم تمھارے ساتھ ہیں”، نعروں کی گونج میں قدم تو بڑھا دیا مگرجب مڑکر دیکھا تو پیچھے کوئی بھی نہیں تھا۔ اور اگلے ہی لمحے ڈنڈا ڈولی بنی ہُوئی تھی۔

 مگر ہمارا مشورہ ہے کہ وزیرِاعظم  بننے کے بعدمیاں صاحب اپنے بے ضرر معمولات زندگی جاری رکھیں۔ حکومتی معاملات انھیں ہی چلانے دیں جن کی سردردی ہے۔ صرف مزے مزے کے کھانوں اور لطیفوں سے محظوظ ہوں۔ اپنے خاندانی کاروبار کو ماضی کی طرح خوب ترقی دیں۔  لگائی بُچھائی کرنے والوں کی باتوں پر ہرگز کان نہ دھریں۔ کسی کی ہلاشیری میں نہ آئیں ورنہ پھر باروچیوں کی  فوج ظفر موج کے ساتھ کُوچ کرنا پڑے گا اور سہیل وڑائچ سے “غدارکون” کا دوسرا والیم لکھوانا پڑے گا جسں میں ایک بار پھر ان اِقراروں کی بھرمار ہو گی کہ یہ سب کچھ ہم نے آئی ایس آئی، آرمی یا چوہدری نثاروغیرہ کے کہنے پر کیا۔

 بشکریہ  ٹاپ سٹوری آن لائن، 7 اپریل 2013

http://www.topstoryonline.com/imam-bakhsh-blog-130407

ترقی پسند دانشور سینئیر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کے نگران وزیر اعلی کا فیصلہ خوش آئند ہے: تنویر اشرف کائرہ اور راجہ عامر

541624_383063468467147_2098360362_n

ترقی پسند دانشور سینئیر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کے نگران وزیر اعلی کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس سے پنجاب میں آزادانہ ، منصفانہ ، اور شفاف انتخابات یقینی بنانے میں مدد ملے گی – تنویر اشرف کائرہ جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی پنجاب اور راجہ عامر خان سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے پارٹی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے تو اس معاملہ کو لٹکانے اور نگران وزیر اعظم کی طرح نگران وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے پاس بھجوانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن صدر مملکت آصف زرداری کی ہدایت اور رہنمائی میں پیپلز پارٹی نے یہ معاملہ پارلیمانی کمیشن میں ہی طے کرا کے جمہوریت اور منتخب جمہوری عوامی نمائندوں کی آبرو رکھ لی – انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے مخالفین بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری – تنویر اشرف کائرہ اور راجہ عامر نے امید ظاہر کی کہ نگران وزیر اعلی پنجاب نجم سیٹھی عوامی توقعات پر پورا اتریں گے اور سب سے بڑے صوبے میں شفاف انتخابات اور پر امن و آزادانہ پولنگ کو یقینی بنائیں گے – انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی جمہوریت دشمنی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ انہو ں نے نگران وزیر اعلی پنجاب کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا بھی گوارا نہ کی _ انہوں نے کہا کہ ان حرکات سے جمہوریت دشمن بے نقاب ہو چکے ہیں اور عوام بھی عام انتخابات میں ایسے عناصر کو عبرتناک شکست سے دوچار کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں – انہو ں نے کہا کہ ن لیگی قیادت کی ناقص پالیسیوں، عوام دشمن کارکردگی ، ناکام منصوبوں اور لوٹ مار سے تنگ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لانے کے لئے تیار ہیں اور بے چینی سے 11 مئی کے دن کا انتظار کر رہے ہیں – انہوں نے کہا کہ 11 مئی ملک و قوم کی تقدیر اور مستقبل کے حوالہ سے فیصلے کا دن ہے اور اانہیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ پنجاب کے باشعور عوام انقلابی تبدیلی اور محفوظ و روشن مستقبل کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کو تاریخی فتح سے ہمکنار کرائیں گے

تمام محب وطن جمہوری جماعتیں آئینی تقاضے پورے کریں اور عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے صوبائی اسمبلیوں کی 27 مارچ تک تحلیل کو یقینی بنائیں: منیر احمد خان

485895_234044706733292_563595522_n

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان منیر احمد خان نے کہا ہے کہ تمام محب وطن جمہوری جماعتیں آئینی تقاضے پورے کریں اور عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے صوبائی اسمبلیوں کی 27 مارچ تک تحلیل کو یقینی بنائیں – پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری سوچ رکھنے والے عناصر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عام انتخابات ملتوی کرانے کے لئے کوشاں ہیں ، تمام جمہوری جماعتوں کو ملکر یہ سازش ناکام بنا دینی چاہئے – انہوں نے کہاکہ ملکی سالمیت ، بقا، استحکام اور ترقی کے لئے جمہوریت کا تسلسل اور عام انتخابات کا بروقت انعقاد بنیاد ی اہمیت کے حامل ہیں – منیر احمد خان نے کہا کہ اگر الیکشن ملتوی کرانے کی سازش کامیاب ہوئی تو اس سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ان پر عائد ہو گی جو سازش کرنے والوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کا موقع فراہم کریں گے – انہوں نے کہا کہ تمام محب وطن حلقے نازک ملکی صورتحال کے باعث عام انتخابات کا بروقت انعقاد اور شفاف و آزادانہ پولنگ چاہتے ہیں ، اس کے لوے تمام سیاسی جماعتوں کو مروجہ انتخابی قواعد و ضوابط کی پیروی اور آئینی تقاضے پورے کرنے پر توجہ دینا ہو گی – انہوں نے کہا کہ ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کاانتخاب عوام کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے ، بصورت دیگر عوامی غیض و غضب کے آگے بند باندھنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی