Category Archives: Urdu Article

اِک گھسی پٹی کہانی

1

تحریر: امام بخش

 آج ہماری خواہش تھی کہ دنیا کی بہترین آرمی یعنی وطنِ عزیز کی  مایۂ نازفوج پر لکھاجائے۔ اِرادہ ہمارا یہ  تھا کہ  اِس پُروقار ادارے کی  زبردست  کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔ لیکن ناجانے کیوں  ذہن ایک پرانی اور گھسی پٹی کہانی پر اٹک گیا ہے۔ یہ کہانی آپ نے بھی ضرور سنی یا پڑھی ہو گی۔ مگر  ہم پھر بھی آپ کو  سُنانے پر بضدہیں۔ آپ بھی دل کڑا کرکے ایک بار پھرسے پڑھ لیجیئے۔

 ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ایک سخت گیربادشاہ عقلِ کُل اور  لاثانی ہونے کے خبط میں بُری طرح  مبتلا تھا۔  ایک بار اُس نے حکم جاری کیا کہ جو مجھے ایسا پُروقار اور عظیم الشان  لباس لا کر دے گا جو دنیا میں کسی کے پاس نہ ہو تو میں اُسے مالا مال کر دوں گا۔ بادشاہ کے ذوقِ لطیف کو سمجھتے ہوئے  ٹھگوں کا ایک ٹولہ بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر ہوا۔ “حضور ہم آپ کے لئے ایک خاص لباس تیار کریں گے، جواس سے پہلے تاریخ میں کسی نے دیکھا نہ سُنا، اِس لباس کی باکمال خصوصیت یہ ہوگی کہ اِسے پہننے سے آپ  پُر وقار لگیں گے اور آپ کی قوت و طاقت، دانائی و بہادری اور دہشت و وحشت  مزید بڑھ جائے گی۔ اس لباس کے بارے میں راز کی یہ بات بھی ہے کہ اِس کی شان وشوکت اور خُود یہ  (لباس) صرف اُنھی لوگوں کو دکھائی دے گا، جو صِرف محبِ وطن ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم وفراست رکھتے  ہیں۔ سلطنتِ عزیز کے غدار، احمق اور عقل سے پیدل لوگ یہ عظیم الشان لباس دیکھنے کی سعادت سے محروم رہیں گے۔ مزید برآں اس لباس کو پہننے سےآپ کو اپنے عقل مند مشیر اور وزیر چننے میں بھی آسانی ہو گی”۔

 بادشاہ ظاہری طور پرصاحبِ تدبیر اور راست باز مگر باطنی طور پرٹھگوں   کی باکمال پریزنٹیشن سے متاثر ہُوا اور اُنھیں حیرت انگیز لباس کی فوری تیاری کا حکم جاری کردیا۔ ٹھگوں کوعوام کے خون پسینے سے کمائے گئے ٹیکسوں سے بھاری مراعات کے ساتھ ساتھ محل میں ایک  بہت بڑا ہا ل عطا کردیا گیا۔ وہ اپنی مشینری لے آئے اور ان کے آدمی مشینوں پردِن رات مصروف ہو گئے۔ کچھ دنوں کے بعد ٹھگوں نے بادشاہ کو بتایا کہ لباس تیار ہو گیا ہے۔ بادشاہ مشاہدہ کرنے گیا تو ٹھگوں نے تخیلاتی لباس کی اِشاراتی نمائش پیش کی۔ بادشاہ کو  کچھ بھی نظر نہ آیا لیکن مکھن مسکہ ٹھگوں نے اپنی متاثرکن باتوں سے بادشاہ کو پورا یقین دلا دیا کہ  شان وشکوہ  والا لباس وجود رکھتا ہے۔ بادشاہ یہ سوچ کر کہ وہ کہیں بیوقوف نہ کہلائے، لباس کی تعریف کر کے آ گیا۔ دوسرے دن دربار میں اعلان کیا گیا کہ اگلے روز بادشاہ سلامت عظیم الشان جلوس کی قیادت کریں گے ۔وہ ایک ایسا لباس پہن کر آئیں گے، جو صرف عقلمندوں  اور محبِ وطن لوگوں کو نظر آتا ہے۔

 دوسرے روز جلوس میں  جانے سے قبل بادشاہ کو بڑے اہتمام سے ٹھگوں نےغیر مرئی “باوقار اورعظیم الشان لباس” پہنایاتو  بادشاہ کو اِس بار بھی   کچھ نظر آیا اور نہ ہی اُسےکچھ محسوس ہوا، بلکہ وہ اپنے آپ کو واضح طور پر بے لباس محسوس کر رہا تھا۔ مگران ٹھگوں اور چاپلوس درباریوں کے سامنے خود مابدولت کو احمق، عقل سے پیدل اوربادشاہی منصب کے لیے نااہل ثابت کرنا  ہرگزقبول نہیں تھا۔دوسرا  یہ کہ  لن ترانی میں بے مِثل ٹھگوں کی طرف سے کی گئی برین واشنگ سے  بادشاہ کو  اپنی بے لباسی ہی میں شان و شوکت، طاقت و قوت اور اپنی اہلیت سب نظر آنے لگی۔ وہ پُورے اعتماد سے ننگ دھڑنگ ہی جلوس کی قیادت کرنے کے لیے  باہر نکل آیا۔

 عزت مآب نے ایک نظر عوام پر ڈالی جو وحشت انگیز سُناٹے میں ہکا بکا کھڑے تھے۔ زبان کو تالو سے  چپکائے سہمے ہوئے عوام میں سے کسی کویہ سچ بولنے کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اظہار کرسکے کہ بادشاہ تو الف ننگا ہے۔ اور  ویسے بھی بھلا کون یہ کہہ کراپنے آپ کوسزا کا حقدار،  غدارِ وطن، احمق، عقل سے پیدل اور اپنے شاہی منصب کے لیے نااہل قرار دلواتا؟ قصیدہ گو خوشامدیوں کا ایک جمِ غفیر تھا، جس نے بادشاہ کے لباس کی شان وشوکت اور قوت و طاقت کے قصیدے پڑھ کر زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔

 “ارے واہ! اس پُروقار لباس کی کیاشان ہے”۔

“سبحان اﷲ! کیا بہادر انہ انداز ہے”۔

“ماشاءاللہ! حضور کو لباسِ فاخرہ کیاخوب جچ رہا  ہے”۔ 

“الحمداللہ! ہمارا بادشاہ عوام کاخیرخواہ  اور عظیم ہے”-

“واہ واہ! کیاہیبت ہے، کیا شوکت ہے”۔

“اُف! کیارعب ہے، کیاطنطنہ ہے، کیا طاقت ہے، کیا لیاقت ہے”۔

“اللہ رے! کیا زور ہے، کیا قوت ہے”۔

“میرا ماہی چَھیل چَھبیلا، میں تو ناچوں گی” (ایک سُریلی  نسوانی آواز گونجی) –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 المختصر  قاضیِ وقت نے بھی اِس  ننگی مطلق العنانی کے طمطراق کو  برحق مان کر عدالتی مہر ثبت کردی  اور “کن فیکونی” اختیا رات کو بھی جائز قراردے دیا۔

 بادشاہ نے انعام کے طور پر “عظیم الشان” لباس کے کاریگروں  اور قصیدہ نگاروں کو  اپنے وزیر، مشیر، سفیر، نمایندگان خصوصی، گورنر اور ممبر پارلیمنٹ بنالیا،   کچھ کوسرکاری اداروں میں بھاری تنخواہوں پرعہدے دیئے ، کچھ میں کرنسی سے بھرے بڑے سائز کے لفافے بانٹے  اور دھڑادھڑ قیمتی پلاٹ، کنسٹرکشن ٹھیکے اور سرکاری اثاثوں کی سستے ترین ریٹ پر  لیز عطا کی ۔

 روز مرّہ کے معمول  کے مطابق ہرروز نئے انداز میں  قصیدے پڑھے جاتے اور اخبارات میں جلی سُرخیوں کے ساتھ چھپتے۔ گفتار کے غازی قلمی منشی اور ماہر  پراکسی قلمکار اپنے تجزیوں اور کالموں کے ذریعے اپنے وظائف حلال کرتے۔

 کہتے ہیں بادشاہ سلامت چھ عشروں سے زیادہ اسی لباس میں عوامی جلوس کی قیادت فرماتے رہے۔ جلوس میں شامل  سب ناچتے تھے، کسی کو جُھوٹےکیسز  کا خوف نچاتا تھا تو کسی کو خاندانی مجبوری، کسی کو پیٹ نچاتا تھا تو کسی کو سٹیٹس، کسی کو کرسی تو کسی کو فیشن، سب کے سب ٹھمکے پے ٹھمکا لگانے میں مگن۔ اور ساتھ میں  تکرار کے ساتھ نعرے بھی گونجتے کہ ہم ہی  تو سیانے  اور  محبِ وطن ہیں،  ہمارا بادشاہ عظیم ہے۔ اگر سلطنت کا کوئی  شہری ناچنے سے انکاری  ہوتا یا   بادشاہ سلامت کے وقار، شان وشوکت، قوت و طاقت اور  دانائی و بہادری کے بارے میں  اُس کی  نیت پر ذرا سابھی شک گذرتا،  تو غدارِ سلطنت  کاٹھپہ جھٹ سے لگا دیا جاتا، غائب کردیا جاتا ، بدنام کردیا جاتا، اُس کا کاروبار تباہ کردیاجاتا یا  پھر وہ  بے روزگاری، جیل ، پھانسی،  گولی یا خُودکُش دھماکےکی نظرہوجاتا۔  یعنی جو ناچے وہ سکندر، جو نہ ناچے وہ بندر۔

 بادشاہ نے اپنی دھرتی کے سادہ لوح نوجوانوں کو (جوجہاد کےنظریئے کےساتھ فوج میں بھرتی ہوئے تھے) کرائے پر غیرملکی جنگوں میں دھکیل دیا، جس کی وجہ سے بادشاہ کی فوج  کےڈنکے چار دانگِ عالم میں بجنے لگے کہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی بجائے یہ توصرف  کرائے  پر کام کرنے والی فوج ہے۔بادشاہ سلامت کو اندرونی و بیرونی  ذِلت آمیز شکستوں پر شکستیں ہوئیں۔  سلطنت کے اندر ہرقلعے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، دشمن ملک نے آدھی سلطنت تک چھین لی۔  مزید برآں میرٹ کا کھلے عام قتل کیا گیا۔ اقربا پروری نےنئی رفعتوں کو چُھوا۔ فرقہ واریت، نشے اور اسلحے کے کلچر کو دانستہ طور پر  عام کیا گیا۔ بادشاہ کے پالے ہوئے غنڈوں اور دہشت گردوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا، جس سے پوری سلطنت دہشت زدہ ہوگئی اور دہشت گردی نے مُستقل ڈیرے ڈال دیئے۔  امن وامان برباد ہوگیا۔ خون میں نہائی لاشیں روز کا معمول بن گئیں۔ خود سپردگی ، بزدلی،بے غیرتی اور بے حمیتی قوم کا خاصہ بن گئیں، پڑھے لکھے لوگ اور سرمایہ دار ہجرت کرگئے۔ مگر پھر بھی دُشمن ملکوں کے سامنے ہمیشہ سر جھکانے والا ڈرپوک بادشاہ اپنی عوام پر ہیبت کے ساتھ مسلط رہا اور بے پناہ ظلم وستم ڈھاتا رہا۔ بندوق کے زور پر اپنے آپ کو پُروقار  منوانے کی تکرار کرتا رہا۔

 ہرچیز روزِروشن کی طرح واضح ہونے کے باوجود خُصیے سہلانے کے ماہر بوزنے، بونے ، بالشتیئے،  دیہاڑی باز، کمیشن خور، اور ہوس اقتدار کے مریضدرباریوں نے بادشاہ  کی عوامی خیرخواہی،  قوت و طاقت اور دانائی  و بہادری کےجُھوٹے قصیدے  جاری وساری رکھے۔ اور جنتُ الحُمقاء کے ہم زانُو بادشاہ نے بھی ایک پل کے لیےنہ سوچا کہ ایک دن  وہ تاریخ کے کُوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا اور آنے والی نسلیں اُس  پر تھوکنا بھی گوارانہیں کریں گی۔

 ایک روز کا ذِکر ہے  کہ ننگے بادشاہ کا جلوس شان وشوکت سے چلا جارہا تھا۔مفلوک الحال عوام میں سے  کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں  کرپارہاتھا کہ اُسے کوئی شان وشوکت نظر آرہی ہے ،نہ طاقت و قوت اور  نہ بادشاہ کے تن پر کوئی لباس۔ ایک پاگل دیوانہ بھی گُھومتا پھرتا بادشاہ کے جلوس میں آ نکلا۔ دیوانے نے جب بادشاہ اور تعریفی نعرے لگاتے اُس کے حواریوں کو دیکھا، تو زوردارقہقہہ لگایا،بادشاہ کی طرف اُنگلی سے اشارہ کیا اور کلمۂ حق بلند کیا:

 “عقل کے اندھو!۔۔۔ ہمارا بادشاہ تو بالکل ننگا ہے۔”

یہ سنتے ہی جلوس میں سُناٹا چھا گیا اور تھوڑی دیر بعد کچھ پُھس پُھساوَٹ کے ساتھ مکھیاں سی بھنبھنانے لگیں:

“ہیں جی۔۔۔۔ کچھ کچھ شک تو مجھے بھی پڑتا ہے”!

“ہاں جی ۔۔۔۔ ذرا دیکھوتو سہی”!

“۔۔۔۔ ننگا تو مجھے بھی لگ رہاہے”!

“اِس کے بدن پر ایک اِنچ کپڑا بھی نہیں”!

” ہاں واقعی، دیوانہ توبالکل ٹھیک کہہ رہا ہے!”

اس کے بعد تو پورا جلوس بلند آواز سے نعرہ زن ہوگیا:

“بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے”۔

 اس ذلت آمیز صورتحال میں ظالم بادشاہ کے اوسان خطا ہوگئے، سارا  خودساختہ  وقار، طنطنہ  اور رعونت کافور ہوگئے،  صورتحال ایسی ہوگئی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔  بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنے ننگے بدن پر آگے پیچھے ہاتھ رکھے، زمین پھٹے اور وہ زمین میں زندہ دفن ہوجائے۔ ساری کی ساری ڈھنگوسلہ بازی چشمِ زدن میں دھڑام سے گر گئی۔ بدبخت بادشاہ کو یہ بھی   دیکھناپڑا کہ “باوقار اور عظیم الشان لباس” بنانے والے ابن الوقت ٹھگوں کا ٹولہ بھی اُس کی انتہادرجے کی بے وقوفی کے ٹھٹھے اُڑانے میں مصروف تھا۔ بدلتی ہوا کا رُخ دیکھ کر سب کے ساتھ ٹھگ بھی جوش وخروش سے نعرے بازی  میں شریک ہوگئے کہ:

 “بادشاہ ننگا ہے! ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے !۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے!”

(نوٹ:یہ کوئی الف لیلوی داستاں ہے نہ گُل و بُلبل کا قصہ کہ پڑھا ، مزہ لیا اور  سوچےسمجھے بغیر بھلا دیا۔)

ذوالفقار علی بھٹو…معمار وطن تو زندہ ہے .. سید خورشید احمد شاہ کی خصوصی تحریر

1479358_560065637402501_1057031676_n

ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک زیرک سیاستدان ، مدبر رہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے ۔ انہوں نے سیاست کو سرمایہ داروں کے ڈرائینگ روموں سے نکال کر غریبوں کی دہلیزوں پر لاکھڑا کیا۔ اس تبدیلی کی بدولت بے زبان عوام کو زبان ملی اور انہیں اپنے حق کیلئے لڑنے کا سلیقہ آیا۔ آج کا نظام بھٹو شہید کی عطا ہے جنہو ںنے نہ صرف جمہوری سیاست کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک قابل عمل اور قابل تقلید  نظام بنادیا ۔ ماضی قریب کے ورق الٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس ملک میں مفاد پرستوں نے آمروں کے ساتھ مل کر بھٹو شہید کے فلسفے اور نظام   کوآئین سے نکال باہر کرنے میں کوئی کسرباقی نہ چھوڑی۔ مگر آج  بھی اگر ملک کے مسائل کا  درست  اورسب کیلئے قابل قبول کوئی حل موجود ہے تو وہ   صرف  1973   کیجمہوری آئین کی بدولت ہے ۔ جسے بھٹو شہید نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ بھٹو کی سیاست کا مقصد عوامی نمائندگی کا حق وڈیروں سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مٹھی سے نکال عوام کی جھولی میں ڈالنا تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے سرزمین بے آئین کو 1973میں متفقہ آئین دیا ۔ پسے ہوئے طبقات کو شعور دیا، عوام کو عزت نفس اور خود اعتمادی دی۔ بھٹو شہید جانتے تھے کہ عوام کے حق میں مثبت اور پائیدار تبدیلی محض نعروں سے نہیں آ سکتی۔  انہوں نے ایک طرف خلیجی ممالک میں پاکستانی عوام کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع مہیا کئے، تو دوسری جانب پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی، سٹیل مل کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا، کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس کی تکمیل کی ۔ بھٹو نے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا  ، غریبوں کیلئے مفت تعلیم کے دروازے کھولے اور سب سے بڑھ کے تیسری دنیا اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے لئے عظیم تر جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ بھٹو  پاک چین دوستی کے معمار  تھے اور  1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس اسلامی دنیا سے ہمارے تعلقات کے ضمن میں ایک سنہرا باب ہے۔ بھٹو نے  ملک کو حقیقی جمہوری فلاحی مملکت بنایا۔ بھٹو نے  آئین اور قانون میں  محمد عربی کے خاتم الرسل  ہونے کا اقرار کر کے دین  اسلام کے ایک عاجز خدمتگار کا ثبوت دیا۔ بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے مگر بھٹو کے ساتھ کیا ہوا ؟ ایک آمر ضیاالحق نے یہ درخشندہ چراغ گل کر دیا، ضیاالحق اسلام کا نام لیوا تھا مگر اس آمر کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ بیرونی اور استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل  ہی  اس کا مشن تھا۔  جس کی تکمیل کے لئے  اس نے    ناجائز  اقتدار کو طول دے کر بیرونی آقائوں کی جنبش ابرو پر پر ایسے ایسے  اقدامات کئے  کہ ملک میں دہشت گردی، لاقانونیت، منشیات فروشی، اسلحہ کی سمگلنگ اور عدم استحکام کو پنپنے کا  موقع مل سکے۔ کیا  ایک سچا مسلمان دوسروں کے اشاروں پر ایسا کر سکتا ہے، حکمرانی  ضیاء الحق کا حق نہیں تھا مگر اس نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا۔ 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور بلاوجہ وعدہ توڑا۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے قوم سے ریفرنڈم کی صورت میں تاریخی جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا۔ ضیاء الحق نے اپنے دور آمریت کے ابتدائی حصہ میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پیپلزپارٹی کے کارکنوں رہنمائوں اور عام لوگوں پر کوڑے برسائے اور تاثر دیا کہ ــ”اسلامی دورـ”  میںـ ” اسلامی سزائوں” کا اجراء ہوگیا ہے۔ مگر بھٹو شہید کو ناحق پھانسی پر چڑھانے کے بعد اور اس اطمینان کے بعد کہ بھٹو ایسی عظیم شخصیت کو راستے سے ہٹا کر اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں رہا اس آمر نے کوڑوں کی سزا موقوف کردی۔ میں پوچھتا ہوں کہ نعوذبااللہ کیا ضیاالحق  کو کوئی الہام ہوا تھا کہ اس نے کچھ عرصہ کوڑوں کی سزا دی اور پھر اسے  ہمیشہ کیلئے ترک کردیا۔ اگر اسلام میں کوڑے تھے تو اس نے اپنے تمام دور میں اس سزا کو کیوں  رائج نہ رکھا ؟ اس کا جواب بہت آسان  ہے  ایسا اس نے صرف بھٹو کی مقبولیت کو طاقت سے کچلنے  کیلئے کیا تاکہ اس کے اقتدار پر منڈلاتے حظرات دور ہوسکیں ۔ بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد اور” افغان جہاد کے آغاز کے بعد جب اسے مغربی آقائوں کی آشیر باد حاصل ہوگئی تو اس کو اسلامی سزائوں کا  کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا۔   درحقیقت وہ اسلام نہیں تھا بلکہ ضیا کا اسلام تھا جس میں سیاسی کا رکنوں کو کوڑے مارے گئے مگر مجرموں سے رعایت برتی گئی۔ اسے یہ اختیار کس نے دیا  اس کا  وہ کبھی جواب نہ دے سکے ۔

 

وقت سب سے بڑا منصف ہے اور وقت کا انصاف ہم نے دیکھ لیا کہ بھٹو شہید نے عوام اور ملک سے اپنی سچی لگن کی بدولت قبر سے بھی ملک اور عوام کے دلوں پر حکومت کی اور  ضیاء الحق آج تک محر وم و تنہا ہے۔  عوام بھٹو شہید کے نظریات، عمل اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ اس نے قتل گاہوں سے خوف کھا کر سچائی کا راستہ نہیں چھوڑا بھٹو نے جو کہا وہ کر دکھایا ” میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے۔  میں مسلمان ہوں اور مسلمان کی تقدیر خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہے   اور میں اپنے شفاف ضمیر کے ساتھ اپنے  رب کا سامنا کر سکتا ہوں۔  بھٹو نے کہا اور  پھرایسا ہی کیا۔  یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شہادت کے 35 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہے اور عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم جدوجہد اور قربانی کا ثمر ہے کہ آج جمہوریت پھل پھول رہی ہے اورــ ” ظلمت کو ضیائ” کہنے والا اب کوئی نہیں۔ 4 اپریل 1979 کو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائداعظم سے کیا گیا اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور غریبوں اور محروموں کو عزت نفس اور توقیر دینے والا اپنی خود داری اور انا کا سودا کئے بغیر پھانسی کے تختہ پر جھول گیا۔ 1945میں بھٹو شہید نے قائداعظم کو ایک خط تحریر کیا جبکہ وہ اس وقت سکول کے طالب علم تھے انہوںنے لکھا ” ہماری تقدیر پاکستان ہے ہماری منزل پاکستان ہے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ نے ہم کوانسپائر کیا اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ابھی میں سکول میں ہوں اور اپنی مقدس سرزمین کے حل و عقد کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب میںپاکستان کیلئے اپنی جان بھی قربان کردوں گا ” بھٹو نے یہ کر دکھایا اور اس کی قربانی بہت عظیم تھی ۔ اسی لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح سقراط زندہ ہے مگر اس کے قاتل مٹ چکے ہیں۔ اسی طرح بھٹو زندہ رہے گا اور اس کے قاتل بے نام و نشان ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجائیں گے۔

 

جیل کی دہشت، کھوکھلے سُورمے اور مردِحُر

ZARDARI

تحریر: امام بخش

imamism@gmail.com

 ایک زمانہ تھا کہ ہمارے کمانڈو پرویزمشرف نے اپنی بہادری کی دھاک پوری قوم پر بٹھائی ہوئی تھی کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ وردی میں سوا چھ لاکھ فوج کے بل بوتے پر بڑھکیں مارنا اور بات بات پر مُکے دکھانا اُن کی فطرت ِ ثانیہ بن گئی تھی۔ ان کے دلیر چہرے سے نقاب بیچ چوراہے تب اُترا، جب غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اُنھیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ۔ اور بہادر کمانڈو خود ساختہ حیلے بہانوں کے بعد ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کےجلوس میں، عدالت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ہی  ‘کثرتِ شُجاعَت’ کا شکارہونے کے بعد اب ایک فوجی ہاسپٹل میں قلعہ بند ہیں۔

عمومی طور پر سچ سمجھی جانے والی ایک رائے کے مطابق پرویز مشرف کا ہارٹ اٹیک یا دوسری بیماریاں صرف بہانےہیں۔ اگر یہ گُمان دُرست ہے تو بھگوڑے کمانڈو نے بہادروں کی بجائے بُزدلوں کی طرح 1965ء اور کارگل کی جنگوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی اپنی روایت ایک بار پھر دوہرا کر پاک فوج کی ‘توقیر’ میں خوب اضافہ کیا ہے۔ ویسے کمانڈو جنرل پاک فوج کا ‘وقار’ بڑھانے کے کئی دیگر ریکارڈ پہلے ہی قائم کرچکے ہیں۔ موصوف کی طرف سے ٹیک اوور کے ‘صائب’ فیصلے کے بعد فوج کی ‘مقبولیت’ کا عروج تب دیکھنے میں آیا جب فوجی جوان عام پبلک کے سامنے وردی پہن کر نہیں جاسکتے تھے۔

جب سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی ہے، اُن کے چہرے پر ہوائیوں کے مسلسل طوفاں برپا ہیں۔ اُن کےحواس مختل ہو چکے ہیں، سارا جاہ وحشمت، کروفراورتحکم ہوا ہوگیا ہے اور موصوف ہمہ وقت زہریلے کانٹوں اور دہکتے کوئلوں پر لَوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جناب عدالت سے ایسے بدک رہے ہیں جیسے وہاں عزرائیل بیٹھا ہوا ہے جو شدت سے صرف ان کے انتظار میں ہے۔

آثار بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف سچی جھوٹی پھیلی افواہ سے دہشت زدہ ہوگئے ہیں کہ نظربندی کے احکامات تیار ہیں اور پہلی پیشی کے بعد اُن کو چک شہزاد میں واقع ان کے اپنے ذاتی عشرت کدے یعنی فارم ہاؤس میں بھیجنے کی بجائے کسی ریسٹ ہاؤس میں نظربند کر دیا جائے گا ۔

نظربند ی کے خوف سے پرویز مشرف پر بیتنے والی یہ “واردات قلبی” ہمیں قوم کے چند دوسرے رہنما ؤں کےاحوال یاد دلا گئی جو مختلف ادوار اور مختلف مقدمات میں نظربند رہے یا جیلوں میں قید ہوئے۔ پاکستان کی دلچسپ سیاسی تاریخ کے حوالے سے یہ فہرست ہے تو طویل مگر ہم یہاں اختصار کی خاطر محض وقتِ موجود کے چند سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ ہی کررہے ہیں۔

1۔ شریف برادران

حکمرانی  کی سِلور جُوبلی منانے والے اور ‘لشکرِصادق و امین’ کے محبوب ترین خاندانِ شریفاں نے جیل میں ایک سال  کا عرصہ نالوں، فریادوں،  مِنتوں اور ترلوں میں  بڑی مشکل سے کاٹا۔  جیسے ہی ان کے معاملا ت ڈکٹیٹر  پرویز مشرف کے ساتھ طے  پائے،  تو یہ پُورا خاندان عوام  اور  جیلوں میں بندمسلم لیگی لیڈروں تک کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میں  انھیں تنہا چھوڑکررفوچکر ہو کر سعودی عرب میں سَروَر  پیلس میں سَرُور لینے  جاپہنچا۔ یاد رہے کہ یہ خاندان اپنا پُرتعیش سامان،  پسندیدہ باورچی اور مالیشئے ساتھ لے جانا نہیں بُھولا۔

اُن دنوں جیل میں نوازشریف کے ساتھ والے سَیل میں  بند سینئر مسلم لیگی رہنما غوث علی شاہ  ( جن کو میاں صاحب نے جیل سے چُھوٹنے اور پاکستان چھوڑنے کے معاہدے کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی اوراُنھیں خاندانِ شریفاں کی روانگی کے بعد حقیقتِ حال کا پتہ چلا) کی طرف سے اپنے قائد نوازشریف کے حضور اس یاس بھرے شِکوے نے بہت سوں کو رُلا دیا تھا کہ “جناب اِتنے بڑے جہاز میں ایک سیٹ ہمارے لیے بھی رکھ لی ہوتی، ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کے گھرچلے جاتے اور اس عذاب سے بچ جاتے جو بعد میں بُھگتا”۔

ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے “حرم” میں نازونعم سے پرورش پانے والے شریف برادران، اپنے پورے خاند ان سمیت ایک دوسرے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدوں کی دستخط شدہ دستاویزات منظر عام پر آ نے سے پہلے کامل سات سال (2000ء سے لے کر 2007 ء تک) قوم کے سامنے پورے اعتماد سے بار بارجھوٹ بولتے رہے کہ انھوں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط۔

پاکستانی قوم 22 اگست 2007ء کو اُس وقت سکتے میں آگئی، جب پرویز مشرف حکومت کی طر ف سے اُس معاہدے کی مصدقہ نقول سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئیں، جس پرمیاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے 20 دیگر افراد نے دسمبر 2000ء کو جیل سے جان چھڑانے اورپاکستان چھوڑنے کے وقت دستخط فرمائے تھے۔

سرور پیلس میں گذری اس “وی وی آئی پی جلاوطنی” کے دوران خاندانِ شریفاں پاکستان سے آنے والی ٹیلیفون کال کی گھنٹی پر بھی تھرتھرا جاتا تھا، حالت یہ تھی کہ قربانیاں دینے والے مسلم لیگی لیڈروں تک کے فون نہیں سُنے جاتے تھے۔

شریف فیملی نے سعودی عرب میں بھی سٹیل ملز لگا کر نوٹ کمانے کا سفر البتہ جاری رکھا۔ وہاں سرُور پیلس میں بیٹھ کر لطیفے سننے اوراپنے پسندیدہ کھابے کھانے اور کھلانے میں وقت خُوب مزے میں گزرتا رہا۔ البتہ پیچھےنون لیگ کے متوالے ذلیل وخوار ہوکر مُنہ چھپاتے پھرے۔

سات برس سے زیادہ عرصہ بیتنے کے بعد بالآخر 8 ستمبر2007ء کو میاں نواز شریف نے وطن واپس لوٹنے کا اعلان کرتے ہوئے لندن میں، پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ان کی جلاوطنی ایک معاہدہ کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم ان کا ارشاد تھا کہ اس معاہدے کی مدت 5 سال کے لیے تھی نہ کہ 10 سال کے لیے۔

میاں محمد نواز شریف نے نومبر 2007ء میں پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کمال ڈھٹائی کا پھر سے مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ”ہم کوئی عہدہ لینے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر واپس آئے ہیں۔ ہم ڈیل ویل پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم ڈیلوں والے لوگ نہیں ہیں، ہماری رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا ہے۔ ہم نے کبھی سات دن ملک سے باہر نہیں گذارے تھے لیکن ملک و قوم کی خاطر سات برس جلاوطنی کاٹی اور ڈیل نہیں کی”۔

جدّہ اور لندن میں نواز شریف کی جانب سے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے سے انکاراور پرویز مشرف کا ساتھ دینے والو ں کو اپنے ساتھ کبھی نہ ملانے کی بے شمار قسموں،  وعدوں کے چشم دِید گواہ صحافی اِس دنیا میں ابھِی موجود ہیں۔ جن کے مطابق میاں صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ “پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہو گا”۔ بعد میں جیل سے جان چُھڑانے کےلئے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے منظر عام پر آگئے، ثابت بھی ہوگئےاور آمر پرویز مشرف کے تقریباً 200 پارلیمنٹرین ساتھی بھی آج نون لیگ میں نواز شریف کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

2۔ چوہدری نثار علی خان

جیل تو بہرحال جیل ہوتی ہے، مگر اپنے گھر میں دنیا بھر کی سہولتوں کے ساتھ نظر بند ی بھی بہت سوں کیلئے ناقابل برداشت ہوا کرتی ہے۔ یقین نہیں تو طنطنے اور رعونت کے طومار  اور بڑھی پونچھ کے آدمی چوہدری نثارعلی خان سے پوچھ لیں، جو پرویز مشرف کے دورحکومت میں جب اپنے گھرمیں فرمائشی طور پرنظربند تھے تو نظربندی کی تکلیف اتنی شدت تک پہنچ گئی کہ موصوف اپنی والدہ سے پرویز مشرف کو خط لکھوانے پر مجبور ہوگئے۔ جس میں درخواست کی گئی کہ جنرل صاحب ان کے بیٹے کو رہا کردیں تو وہ وعدہ کرتی ہیں کہ برخوردار آئندہ کبھی سیاست نہیں کریں گے، اور اگر کبھی سیاست کرتے نظر آئے تو وہ انھیں اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔

3۔ شیخ رشید اور اعجازالحق

جیل کی دہشت کا راز ‘پسرِ عسکر’ اعجازالحق اور شیخی بازشیخ رشیدپر تب کھلا، جب 1993ء میں اُن کی طرف سے راولپنڈی کے ایک جلسے میں کلاشنکوف لہرا لہرا کر حکومت کے خلاف بڑھکیں مارنے کے بعد نصیر اللہ بابر مرحوم ایکشن میں آگئے۔ اعجازالحق تو کھلونا کلاشنکوف کہہ کراپنی جان بچاگئے مگر شیخ رشید اپنی زبان کی تُندی کو کلاشنکوف سے زیادہ تیز سمجھ کر اس پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے جیل جا پہنچے۔ بے خزاں باتونی کا زبان پر بھروسہ سچا نکلا کیونکہ زبان تو تیز تررہی مگر بچوں کی طرح بلند چیخیں مارکر ہمسائے قیدیوں کا جینا حرام کردیا اور خود ساختہ بہادری کا سارا کچا چٹھا کھل کر سامنے آگیا۔ یہ کھجلی زدہ زبان کے مالک شخص پانچ کلو برف روزانہ اور ایک عدد روم کُولر کے لیے پارٹی تک بدلنے کو تیار ہوگئے۔ سیدہ عابدہ حسین کے ذریعے فریادوں کے انبار لگادیئے مگر محترمہ بینظیر بھٹونے انھیں اپنی پارٹی میں لینے سے انکار کردیا۔

4۔ عمران خان

آج کے ‘محمود غزنوی’ عمران خان، جو جمہوری رویّے کے حامل اشخاص پر بہ ہتھیار دشنام طرازی باربار حملے کرنے میں  ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ اُن کا فرمان ہے کہ وہ ٹیپو سُلطان کی طرح جینا چاہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے تخلیق کاروں سمیت طالبان کی بدمعاشیوں پر بطور احتجاج ہلکی سی “چُوں” بھی نہیں فرما سکے۔ اِن سے متعلق ایک ضرب المثل یاد آتی ہے “ڈریں لومڑی سے نام دلیر خان”۔

عمران خان پر  بھی جیل کی حقیقت پوری طرح وا ہے کیونکہ اُن کے اپنے بقول  جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو پولیس نے اُن کے گھر چھاپہ مارا، والد صاحب کے علاوہ اُن کی بہن بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھیں، اور گُفتار کے “ٹیپوسُلطان” ان سب کو بدتمیزی کرتی پولیس کے رحم وکرم پر چھوڑکر دس دس فُٹی دو دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گئے کیونکہ آپ پہچان گئے تھے کہ پولیس اُنھیں صرف ہاؤس اریسٹ کرنے نہیں بلکہ جیل میں بند کرنے کے لیے لینے آئی تھی۔

5۔ یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مشرف دور میں مسلسل 6 سال بڑی بہادری سے جیل کاٹی اور فوجی حکومت کے بے پناہ پریشر کا جوانمردی سے سامنا کیا۔ اُن کے خلاف بطور سپیکر نیشنل اسمبلی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 300 افراد کو ملازمت دینے کے الزام میں، نواز شریف کے دُوسرے دور میں، نیب میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ بعد ازاں 11 فروری 2001ء میں اُنھیں پرویز مشرف کی حکومت نے اِسی الزام میں گرفتار کرلیا ۔ ستمبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اُنھیں 10 سال قید با مشقت اور دس کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ پابندِ سلاسل کردیئے گئے۔ دورانِ جیل ان کے سب بینک اکاؤنٹ سِیز کردیئے گئے۔ ان کی مالی حالت یہاں تک جا پہنچی کہ ان کے بچوں کے پاس سکول فیس تک کیلئے رقم نہیں تھی اور اِن کو ملتان میں واقع اپنے گھر کا ایک پورشن بیچنا پڑا۔ گیلانی کی جیل جانے کی خبر اُن کی والدہ سے پوشیدہ رکھی گئی تھی۔ جب اُنھیں معلوم ہوا کہ گیلانی پنڈی جیل میں ہیں تو وہ صدمے سے انتقال کرگئیں۔

6۔ جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کا نام نامی بھی اُن سیاستدانوں میں شامل ہے، جنھوں نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء بارے ایک واضح موقف اختیار کیا اور فوجی حکومت پر تنقید کی پاداش میں 6 سال تک جیل کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔ جاوید ہاشمی نے شریف برادران کی پاکستان سے غیر موجودگی کے دوران نُون لیگ کو زندہ رکھا اور ڈکٹیٹر کی بھرپور مزاحمت کی، مگر شریف برادران نے پاکستان لوٹنے پر اُن سے بے رُخی برتنا شروع کردی۔ “شرفاء” اِس سے قبل ہاشمی کی بیٹی کو جسمانی طور پر پِٹوا کر اس خاندان کی قربانیوں کا بھرپور ‘اعتراف’ بھی کرچکے تھے۔ میاں برادران نے خود پرویز مشرف کے اقتدار میں مزے لُوٹنے والوں کے ساتھ پینگیں جُھولنا شروع کردیں جبکہ مارشل لاء کے بُرے دنوں میں پُرتعیش زندگی کے مزے لینے والے چوہدری نثار علی خان کو جاوید ہاشمی کی جگہ پہلے سینئر منسٹر اور پھر اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا گیا۔

جاوید ہاشمی سرائیکی بیلٹ کی محرومیوں پر بھی کھل کر بولتے تھے جواپنے تَئیں  پنجاب کے مالک شریف برادران کو سخت ناپسند تھا (اب ہاشمی البتہ اِس سنجیدہ معاملے پر خاموش ہیں،  امکان غالب ہے کہ اُنھیں نئی پارٹی میں بھی پہلے والی صورتحال کا سامنا ہے)۔  ایک بار جب جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی میں سرائیکی صوبے کے حق میں تقریر کی تو اگلے ہی روز نواز شریف کے رشتہ دار ایم این اے عابد شیر علی نے قومی اسمبلی میں ہی اس کا جواب دیتے ہوئے پنجاب کی تقسیم کی بات کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنے اور زبان کھینچنے کی دھمکی دے کر ایک طرح سے جاوید ہاشمی کو ’شٹ اپ‘ کال دی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ عابد شیر علی نے یہ تقریر نواز شریف کے کہنے پر ہی کی تھی۔ ایک اور واقعے میں ایک مُسلم لیگی لیڈر نے جاوید ہاشمی کو نوازشریف کے سامنے بیٹھ کر گالیاں دی، مگر نوازشریف نے نہیں روکا۔ جاوید ہاشمی پارٹی کی لیڈرشپ کی طرف سے مُسلسل بے رُخی اور تذلیل کی وجہ سے بددل رہتے تھے۔ پھر بھی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ ہاشمی مارشل لاء کی صعوبتوں کے سامنےتو پورے قد کے ساتھ کھڑے رہے مگر اُس وقت بالکل ٹوٹ گئے جب اُنھیں معلوم ہوا کہ ان کے لیڈر نواز شریف نے سپریم کورٹ میں متنازعہ میمو پر پٹیشن دائر کرنے سے پہلے، اس واقعہ میں اہم کردار ادا کرنے والے ایک سینئر فوجی اہلکار سے خُفیہ ملاقات کی تھی۔ جاوید ہاشمی اپنی قربانیوں کے باوجود پارٹی قیادت کی سرد مہری سے خائف تو تھے ہی لیکن اس ملاقات سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور بالآخر اُنھوں نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔

7۔ آصف علی زرداری

آصف علی زرداری تقریباً بارہ برس جیل (عمر قید کا برابر عرصہ) بغیر کسی جُرم کے، صرف انتقامی سیاسی مقاصد کے طفیل کاٹ چکے ہیں۔ اُن کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور ‘عدل’ بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پاگئے لیکن حکومت اور افتخار چودھری سمیت تمام ججوں نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کردیا۔

اسیر زرداری پردورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے کہ کیسے انھیں ذلت آمیز طریقے سے رات بھر سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ انھیں گھنٹوں کھڑا رکھ کر ان کی آنکھوں میں مسلسل تیز روشنی ماری جاتی تھی۔ انہیں دہشت زدہ رکھنے کے لئے تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جاتے رہے، زبان اور گردن پر کٹ تک لگائے گئے۔ انھیں جیل میں ہی دل کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، مگر آصف علی زرداری فوجی اور سویلین، ہر قسم کی حکمرانوں کے تشدد کا بہادری سے سامنا کرتے رہے۔ اپنی ہر تکلیف صبر، خاموشی، شجاعت اور حُسن توازن پر مبنی عظمت ِکردار سے جھیلی اورکسی لمحے بھی خوف اور ناامیدی کو خود پر طاری نہیں ہونے دیا اور اس طرح اِس مردِ آہن نے مخالفین کو اُن کے مذموم ارادوں میں کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دِیا۔

آئی بی کے سابق سربراہ اور میاں نوازشریف کے پی ایس او کرنل (ر) محمد خان نیازی کا اعتراف تاریخ کا حصَّہ ہے، جس میں انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ نواز شریف اور سیف الرحمٰن نے ان سے کیسے قانون شکنی کروائی۔ کراچی جیل میں تشدد کے واقعہ کو آصف زرداری کے قتل کی کوشش کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ سی آئی اے کے شواہد سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ زرداری کو جانی نقصان پہنچایا جانا مقصود تھا۔ الغرض ہر دور کے حُکمرانوں نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو تنگ کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ بغیر کسی واضح الزام کے ان کے بنک اکاؤنٹس تک سیز کردیئے گئے۔ محترمہ بےنظیر بھٹو صبح راولپنڈی کی عدالت میں ہوتیں تو دوپہر کو لاہور اور دوسری صبح کراچی میں پیشی بھگت رہی ہوتی تھیں۔ جب محترمہ بےنظیر بھٹو بچوں کے ساتھ اپنے خاوند سے ملاقات کے لیے جیل میں جاتی تھیں تو انھیں اکثر جیل کی ڈیوڑھی میں سخت گرمی اور تپتی دھوپ میں فٹ پاتھوں پر بٹھا کر طویل انتظارکروایا جاتا۔

آصف علی زرداری اپنی اولاد کے بچپن کا دور تک دیکھنے سے محروم رہے۔ بچوں کا ساتھ تب نصیب ہوا جب وہ اپنی نوعمری کی دہلیز پار کر چکے تھے۔ اِن بچوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد زیادہ وقت انھیں صرف جیل میں ہی دیکھا تھا۔ ہر ملاقات پر معصوم بچے انجانے میں ان سے اِصرار کرتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ گھر چلیں۔ چھوٹی بیٹی آصفہ تو اکثر پوچھا کرتی کہ وہ دوسرے بچوں کے بابا کی طرح ان کے ساتھ گھر میں کیوں نہیں رہتے؟۔ اور جج انھیں جیل کی چھوٹی سی کوٹھڑی سے رہا کیوں نہیں کرتے؟  ایک دن تو ننھی آصفہ ضِد کر بیٹھی کہ وہ اپنے بابا کو ساتھ لے کر جج کے پاس جائے گی اور اس سے خود لڑائی کرے گی کہ وہ اس کے بابا کو گندی سی اس جگہ سے رہا کیوں نہیں کرتے۔ معصوم آصفہ اپنے بابا سے بار بار پُوچھا کرتی کہ آخر جج صاحب کو احساس کیوں نہیں کہ ہمیں بھی اپنے بابا کی ضرورت ہے؟

بعد میں بچے کچھ بڑے ہو کر باتوں کو سمجھنا شروع ہو گئے۔ اور ان کو بھی  معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے بابا کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہو رہا ہے؟

آصف علی زرداری  نے قید کے دوران اپنے آپ کو شیر کہلانےکے شوقین نوازشریف اور  ان کے احتساب سیل کے انچارج سنیٹر سیف الرحمٰن کی طرح صنف ِلطیف ایسے احساسات سے مغلوب ہو کر آنسوبھری آنکھوں کے ساتھ گلوگیری انداز  کبھی نہیں اپنایا۔   دیکھنے والوں نے  اُنھیں جب بھی دیکھا ،وہ ہر وقت  اپنے چہرے پر مسکراہٹ  لئے ہوئے ملے۔  وہ قید کے دوران کبھی ڈرے نہیں اور نہ  ہی اللہ کی رحمت سےمایوس ہوئے بلکہ ہمیشہ پُراُمید رہے۔ انھوں نے  کٹھن ترین  مراحل کو ہمیشہ مُثبت انداز میں لیا۔  نومبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت میں پیشی پر صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے قید کے دوران کیا کھویا اور کیا پایا تو انہوں نے کہا کہ “قید میں جوانی تو گئی،  لیکن سیاسی تدبر،  حالات کو سمجھنے کی صلاحیت،  اچھے دوست اور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے”۔

پرویز مشرف کے دور میں جب ایک بار آصف علی زرداری کو جیل سےراولپنڈی عدالت میں پیشی پر لایا گیا تونوازشریف کے دوسرے دورِحکومت کے اِحتساب  سیل کے سابق چیئرمین  سیف الرحمٰن کوبھی  ہتھکڑیوں میں  وہاں لایا گیا  تو اُس نے جیسے ہی  آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن  کے قدموں میں  گرگیا اور  گِڑ گڑا کر معافیاں  مانگنے لگا،  وہیں سیف الرحمٰن کی ماں بھی موجود تھیں ، انھوں نے بھی معافی کی درخواست کی تو زرداری نے کوئی گلہ کئے بغیر اُسے فوراً معاف کردیا۔ یاد رہے  یہ وہی  سیف الرحمٰن  تھا،  جس نے  محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کئے،  جو نوازشریف کی خواہش پر شہباز شریف کے ساتھ مل کر ججوں کو فون کر کے ان کو زیادہ سے زیادہ سزا دِلوا کر عبرتنا ک مثا ل بنانا چاہتا تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیڈروم کی ویڈیوز بنانے تک   کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ سیف الرحمٰن کے بارے میں میاں شہباز شریف خود انکشاف کر چکے ہیں کہ کیسے سیف الرحمٰن لاہور میں ایک عدالتی پیشی کے دوران آصف علی زرداردی کو قتل کرنے منصوبہ بنا چکا تھا۔

اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہئے کہ جب آصف علی زرداری کراچی جیل میں بند تھے تو اُنھیں پابند سلاسل کرنےکا ذمے دار اور سب سے بڑا کردار میاں نوازشریف خود روتے دھوتے وہیں آن قیدی بنا۔ اور اس زودِ پشیماں نے نوید چوہدری کو معافی کی درخواست کا پیغام دے کر آصف علی زرداری کے پاس بھیجا ۔ زرداری پیغام سُن کر مُسکرائے اور لمحہ بھر کو سوچے بغیر نوازشریف کو معاف کردیا۔ یقین جانئے کہ آصف زرداری کی جگہ کوئی بھی دوسرا ہوتا، وہ مرحوم پیر پگاڑا کےمیاں محمد نواز شریف سے متعلق ایک ثابت شدہ قول کی سچائی پر کم از کم ایک بار ضرور غور کرتا کہ “یہ جب کمزور ہوتا ہے تو پاؤں پکڑ لیتا ہے اور جب طاقت ور بن جاتا ہے تو گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے”۔

آصف علی زرداری کو ہر حکمران نے جھکانے اور توڑنے  کی بھرپور کوشش کی۔  زرداری کو جھکا کر یہ حکمران محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنی  مرضی کی شرائط  پرمعاملات   طے کرنا چاہتے تھے۔ مگر وہ  آبرو مندانہ استقلال کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے رہے ۔ زرداری ساری عمر دکھ جھیلتے رہے ،  زخم سہتے رہے  اور صبر کرتے  رہے۔ کیسز بنانے والے تینوں بڑوں غلام اِسحٰق خان، نوازشریف اور پرویزمشرف کے اعترافات ریکارڈ پرہیں کہ کیسز جھوٹ بنائے گئے۔ مگر زرداری نےکبھی  شکوہ سنجی اور برہمی کا اظہار نہیں کیا۔حتٰکہ اپنی عظیم بیوی کی شہادت کے بعد بالکل صبر اور خاموشی کے ساتھ تابوت اٹھا کر گڑھی خدابخش لے گئے۔  جیلیں بھلا دیں۔ قتل فراموش کر دئیے۔ ہر ظلم اور زیادتی کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی جوانی کا قیمتی دور جیلوں، عقوبت خانوں اور تنگ و تاریک قلعوں کی نظر کر دیا۔ زرداری نے قیدوبند کے اس طویل اور صبرآزما دور میں ایسے مثالی استقلال کا مظاہرہ کیا کہ دائیں بازو کی صحافت کا بااثر ترین کردار، خاندانِ شریفاں کا قریبی تعلق دار اور پیپلز پارٹی کا  نظریاتی طور پر مخالف ترین شخص مجید نظامی بھی عش عش کر کے زرداری کو ”مَردِحُر” کا خطاب دینے پر مجبور ہوگیا۔  بعد ازاں گلہ کرنے پر مجید نظامی کی طرف سے میاں نوز شریف کو دیا گیا یہ دندان شکن جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ “میاں صاحب، اگر آپ معاہدہ کرکے ملک سے فرار ہونے کی بجائے زرداری کی طرح صعوبتوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت دکھاتے تو تب میں آپ کو مردِ حُر سمجھتا”۔

بشکریہ دی سپوکس مین، 14 جنوری 2014ء

http://thespokesman.pk/index.php/opinion/opinion/item/7464-2014-01-10-10-48-32 

پاکستانی سیاست میں موقع پرستی کا عروج

تصویر

تحریر: امام بخش

یہ بات اب بالکل واضح ہو گئی ہے کہ”صادق وامین” فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ پاکستان پیپلزپارٹی سے جان چھڑانے کے لیےاپنےمن پسند ابنِ الوقت قسم کے جمورے وجود میں لاتی رہی ہے ۔ 1988ء میں الیکشن سے قبل صادق و امین فرشتوں کا خیال  تھا کہ پی پی پی الیکشن جیتنے  کے بعد اس کے ساتھ کی گئی سب زیادتیوں کا بدلہ لے گی۔ پی پی پی کا راستہ روکنے کے لیے بہت ہی  منظم  انداز میں دھاندلی ترتیب دی  گئی۔ ایجنسیوں  نے میڈیا کے کرتادھرتوں کو خریدا اور بے تحاشا پراپیگنڈا، من گھڑت اور اخلاق سے گرے ہوئے افسانوں کا طوفان برپا کردیا جو آج تک جاری ہے۔

گو کہ اس وقت وطن عزیز میں  ابن الوقت جموروں کی ورائٹی  موجودہے مگر پاکستان کی تاریخ میں صادق وامین فرشتوں کے سب سے زیادہ لاڈلےہمیشہ میاں محمد نواز شریف رہے ہیں۔ میاں نوازشریف نے  1981ء سے لے کر 1988ء تک  پاکستان میں ان گنت مکروہات کے  موجِد یعنی حقیقی  صادق وامین ضیاءالحق کی معنوی پسری میں رہ کر” اصولوں” پر چلنے کے سارے سبق ازبر کرلیے تھے جن پر وہ آج تک عمل پیرا ہیں۔

ضیاءالحق کے جانے کے بعددور اندیش میاں محمد شریف  نے اپنے پاس صرف ایک بیٹا  (میاں عباس شریف) رکھ کر  دو بیٹوں کو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان  کے پاس لے گئے اور کہا کہ میرے دو بیٹے  آپ کے حوالے اورآج سے  آپ ان کے  روحانی باپ۔

سردوگرم چشیدہ  سیانےمیاں محمد شریف کے طریقہ واردات  کے بارے میں ڈاکٹر مبشر حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ”  ایک شام وزیراعظم  پاکستان (نوازشریف) اور ان کے والد محترم نے لاہور میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کوعشائیہ دیا ۔ شہر اور حکومت کے معتبر ترین حضرات موجو د تھے۔ جنرل نواز اور میاں شریف کی گفتگو کے دوران میاں صاحب نے اپنے دونوں پسران نواز اور شہباز کو طلب کیا اور جنرل صاحب سے کہا کہ وہ  ان دونو ں کو جنرل صاحب کے سپرد کرتے ہیں اور جنرل صاحب جو ہدایت کریں گے برخورداران اس پر عمل کریں گے”۔ عشائیہ کے اختتام سے پہلے وزیراعظم نے اپنے ملٹری سیکریٹری کو جنرل صاحب کے پاس بھیجا اور کہا کہ ڈنر کے بعد وہ کچھ دیر ٹھہر جائیں لیکن جنرل صاحب نے ملٹری سیکریٹری کو جواب دیا کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

میاں برادران  کے سیاست میں آنےاور ترقی در ترقی کے مظاہرات کے  بعد پاکستان کی  سیاست میں نظریات پر کاربند رہنے کی بجائے  ابن الوقتی کے اصولوں پر چلانے کا وائرس باقی   سیاست دانوں  میں بھی  بُری طرح پھیل چکا ہے۔  جب کسی پارٹی کا حکومت میں آنے کا تاثر پیدا ہو جاتا ہے تو لوٹوں کا رُخ اُسی پارٹی کی طرف ہو جاتا ہےاور پارٹی کے سربراہ بھی اِسی طرزِسیاست پر یقین رکھنے والے ہوں تو ٹرانزیشن کے تمام مراحل آسا نی سے طے ہوجاتے ہیں۔

عمران خان  بھی ابن الوقتی وائرس کا شکار سیاست دان ہے۔ ان کو سمجھنے کے لیے مردِمومن کے سیکرٹری اطلاعات،  جنرل مجیب الرحمان کی بات  ذہن میں رکھی  جائے ،جس  کے مطابق  اس نے 1996ء میں اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش پر عمران خان کو سیاست کے میدان میں اتارا تھااوردعوٰی کیا تھا کہ “عمران خان میری پروڈکٹ ہے اور میری پروڈکٹ کبھی ناکام نہیں رہتی”۔

ہمیں  عبدالستار ایدھی ایسے فقیر منش آدمی کی گواہی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کیسے کپتان صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے عبدالستار ایدھی  کو اپنے ساتھ ملانے کی خاطرخفیہ اداروں کے حواریوں کے ساتھ آکردھمکایا کرتے تھے؟

اگر ہم عمران کے بارے میں ساری باتیں بھول جائیں  تب بھی ان کے اتالیق محترم ہارون الرشید صاحب کے حالیہ اعتراف کو کیسے بھولیں جس میں وہ اب بھی فرماتے ہیں کہ “میں پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے دنوں میں عمران خان کو سمجھاتارہا کہ پرویز مشرف تمھیں دھوکہ دے رہا ہے اور یہ شخص تمھیں کبھی بھی وزیراعظم نہیں بنائے گامگر خان صاحب اپنی دُھن میں لگے رہے اور ہرگز نہ مانے”۔

شریف برادران تو پہلے ہی اپنے قول وفعل  کی باکمال ساکھ رکھتے ہیں مگر اب لگتا ہے کہ بات بات پر بڑھک مارنےوالے عمران خان اُن کا  ضرورریکارڈ توڑنے والے ہیں۔ انھوں نے پچھلے  دنوں فرمایا ہے  کہ” پرویز مشرف کو آئین توڑنے کی سزا  میرا  نہیں نون لیگ کا  مسئلہ ہے”۔  آکسفورڈ سے  تعلیم یافتہ 61سالہ بزرگ  اور “نئے پاکستان ” کے بانی اُمیدوار “سُونامی”  کا کیا وژن ہے۔سبحان اللہ!

آصف علی زرداری نامی “قابلِ نفرین” شخص نے  صادق وامین  فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے  اسٹیبلشمنٹ نے اپنے طریقہ واردات، تراکیب اور فیصلے بدلنے کی رفتار  بڑھا دی ہے ،جس سے معصوم  ابن الوقتوں کو  خوامخواہ میں فُٹ بال بننا پڑتاہے۔  جیسے ہی مخصو ص اِشارے ملتے ہیں  تو ان “نظریاتی” سیاستدانوں میں دوسری پارٹی میں جانے کے لیے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ اور یہ ابن الوقت فرط یقین کے آسیب کے زیراثر ان اِشاروں پر فی الفور عمل کرناشروع کردیتے ہیں اوراپنے آپ کے علاوہ  اپنی لبالب بھری  تجوریاں بھی  بڑے اِبن الوقت کے حوالے کردیتے ہیں۔

جمورا پارٹیوں میں نئے  آنے والے   سیاست دانوں  کےماضی کاکردار ، نظریات ، خلوص، بے لوثی اور سیاسی شعور ہرگز نہیں دیکھی جاتی،صرف اور صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ فائدہ کتنا ہو گا۔ اِسی اصول کے تحت اس وقت مُشرف کے علاوہ سب ڈکٹیرز کی اولادیں  مسلم لیگ (ن )میں  ہیں۔ قوی امید ہے کہ اگر نون  لیگ نے مشرف کو اپنی پارٹی میں نہ  بھی لیا تو اس کے بیٹے یا بیٹی کو مُستقبل میں ضرور اپنائے گی۔ ویسے بھی پرویز مشرف جو شریف برادران کے دس سالہ ایگریمنٹ پارٹنر رہے ہیں، ان کی پارٹی کے 99  فیصد سیاست دان اپنی “مادرپارٹی” میں واپس لے چکے ہیں ۔ حالانکہ میاں نواز شریف نے بذات خودجدہ اور لندن میں اپنے ملنے والوں صحافیوں کے سامنے قسمیہ وعدے اور دعوے کیے تھے  کہ وہ اب اصولوں کی سیاست کیا کریں گے۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تُھوک کر چاٹنے کے مترادف ہوگا۔ یہی ایک مثال  میاں صاحب کے قول و فعل اور اصول پسندی کا اعلیٰ شاہکار ہے۔

تحریک انصاف پر ایک نظر ڈالنے سے  بھی اچھی طرح پتہ چل جاتا ہے کہ اس پارٹی میں کس قماش کے سیاست دان بیٹھے ہیں جو پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو پیچھے دھکیل کر فرنٹ لائن پر براجمان ہیں۔

پچھلے دنوں  وقتِ موجود کی سیاست پرپوری دسترس رکھنے والے سیاست دان ارباب خضرحیات نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی سیاست کا  نچوڑ پیش کرتے ہُوئے فرمایا ہے کہ “سیاست نظریات کا نہیں بلکہ طاقت کا کھیل ہے اور جب سیاست دان کسی پارٹی کو مشہور ہوتا دیکھتے ہیں تو وہ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں”۔ یا د رہے کہ ارباب نے 1996ء  میں اپنے سیاسی کیرئیر کی شروعات کے بعد سے اب تک چودہ مرتبہ پارٹیاں تبدیل کی ہیں۔ آج کل ارباب خضرحیات نون لیگ  میں ہیں۔

بات صرف  ارباب خضرحیات تک نہیں رُکتی۔  جمورا پارٹیوں میں لگتا ہے ہر چھوٹا بڑا سیاست دان “ارباب خضرحیات سکول آف تھاٹ”  پر دلجمعی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ مثال کے طور پر نواز شریف  کے جدّہ جانے کے  بعد نون لیگ سے ق لیگ میں جانے والوں کے اپنے لیڈر کے خلاف اگر  بیانوں کو جمع کیا جائے تو ایک طویل “ہیر” بن جائے۔  ان دنوں  چوہدری  نثارتک،جو ایک دور میں تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے پر تول چکے تھے، یار دوستوں میں بیٹھ کر فرمایا کرتے تھے کہ’یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایک نابالغ دماغ اور بھگوڑے کی قیادت میں اپنی سیاست جاری رکھوں، میں شہباز شریف کے ساتھ تو کام کرلوں گا لیکن میاں نوازشریف کے ساتھ کام کرنے کی بجائے سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا۔’ اور آج کل چوہدری نثار عمران خان کو کن القابات سے نوازتے ہیں،   کچھ پوشیدہ نہیں۔

بزرگ صحافی ہارون الرشید نے پچھلے دنوں اپنے کالم میں پرائز بانڈ والی سرکار  خواجہ سعد رفیق  کے ماتم ، نون لیگ کو چھوڑنے اور تحریکِ انصاف جوائن کرنے کے تمام مراحل طے ہونے کا ذکر کیا ہے۔ جوکہ آخری وقت پرپارٹی چھوڑنے کے اپنے ارادے پربوجہ عمل نہ کرسکے۔آج کل خواجہ سعد رفیق   سے تحریک انصاف کے بارے میں پوچھیں تو بے نقط  تنقیدکے انبار لگا دیں گے۔

پاکستان کے بزرگ اور ایک نامی گرامی سیاست دان جاوید ہاشمی، نون لیگ میں ہوتے ہوئے نوازشریف کو پاکستان کا  سب سے بڑا لیڈر گردانتے تھے۔ حتیٰ کہ انھوں نے  نون لیگ کو چھوڑنے سے ایک ہفتہ قبل  کہا کہ ‘میں قسم کھاکر کہتا ہوں، کوئی بندہ پاکستان کو بچا سکتا ہے تو وہ صرف نواز شریف ہے’۔ حال ہی میں دانشور ایاز امیر نے نون لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پراپنی قیادت کا اگلے ہی دن جو ‘آپریشن ‘ کیا ہےوہ  نون لیگ  کی لیڈرشپ اوراس جماعت میں موجودباقی سیاست دانوں کی اصول پسندی اور نظریات جاننے  کے لیے کافی ہے۔ آج کل ایاز امیر “اصولی طور” پر تحریک ِ انصاف کی حمایت کر رہےہیں۔

اگر اسٹیبلشمنٹ نے 11 مئی کو الیکشن میں ایک بار پھر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور کامیابی کا  قرعہ نون لیگ کے نام کا نکالا تو کچھ بعید نہیں کہ سُونامی کا سارا زور نون لیگ میں سما جائےاور خان صاحب اصغر خان کا رول نبھاتے ہوئے تاریخ کا حصّہ بن جائیں۔

حرف آخر یہ کہ طالبان ، عدلیہ اور میڈیا کی بھرپور حمایت کے باوجودمیاں برادران اور عمران کی طرزِ سیاست کے ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی، ایاز امیر، چوہدری نثار اور سعد رفیق جیسے سیاست دانوں کی مثالوں کے بعد نون لیگ اور تحریک انصاف  کی ابن الوقتی پر مبنی ہیئتِ مجموعی عوام سے اب ہرگزپوشیدہ نہیں رہی۔

کیا عوام ووٹ ڈالتے ہوئے اِن مفاد پرست اِبن الوقت سیاست دانوں سے نپٹے گی؟

 

بشکریہ  ٹاپ سٹوری آن لائن، 10مئی2013ء

http://www.topstoryonline.com/imam-bakhsh-blog-130510

 

نواز لیگ کے جادوئی کمالات

تصویر

تحریر: امام بخش

شریف فیملی نے پاکستانی سیاست میں تجارت کی آمیزش کا ایک کامیاب تجربہ کیا۔  اس فیملی کے ایک فرزندمیاں محمد نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعداس فیملی  نے بے انتہا ترقی کی۔ بعض رپورٹوں میں ان کے کاروبار میں ترقی  3600 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے۔  ایک برف خانے سے سفر کرنے والا خاندان اس وقت  پولٹری،  دودھ،  چینی، پیپرز،  سٹیل،  سریا اور  رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کا بے تاج بادشاہ ہے۔

تجارت  کا وسیع تجربہ رکھنے والی شریف فیملی کے دو سپوت دو بار وزارت عظمیٰ اور پانچ بار پنجاب کی وزرارت اعلٰی سنبھالنے والے میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہباز شریف  نے اپنی سیاست کونظریات کی بجائے تجارتی بنیادوں پر چلانے کو ترجیح دی۔ اسی اصول کے تحت چھانگا مانگا طرز سیاست، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ،  پلاٹ، پرمٹ، اقرباپروری اور  عدالتی راہ و رسم  کے ریکارڈز کی ایک طویل فہرست ہے. پاکستان میں قدم قدم پر اسٹیبلشمنٹ یا دوسرے اسٹیک ہولڈرز کی مانگیں پوری کرنا شریفوں کا ہی کمال ہے۔

شریف برادران  کے طرزِ حکمرانی پر اگر عمومی سی نظر ڈالی جائے تو سمجھنا مشکل  نہیں رہتا کہ فنِ تجارت میں مارکیٹنگ کے اہم ترین اصول یعنی ” پروجیکشن” کو اپنی سیاست میں  بہت زیادہ  اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں  نے اسٹیبلشمنٹ کے بعد  سب سے زیادہ   توجہ میڈیاپر دی، جس  کے ساتھ  اپنی سازباز کو یہ کامیاب سیاست کا جزولازم  سمجھتے  ہیں۔  پاکستان میں ایسا شاید ہی کوئی  سرکردہ صحافی ہو، جس سے میاں برادران نے اپنے ستارے ملانےکی کوشش نہ کی ہو۔ اگر میڈیا میں سے کوئی کٹھور دلی دکھائے اور ستارے ملانے سے انکار کرے تو ماضی گواہ ہے کہ شریف بڑے سے بڑے اخبار کو  بھی ایک صفحے تک محدود کر  دیتے ہیں۔شریف کشادہ دَست ہیں ، بس  دوسروں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے “وزن”  کے حساب سے  کتنا زیادہ سے زیادہ فیض پاسکتے ہیں۔

میڈیا اور سرویز کمپنیوں  کے کاروبار میں فعال کرداروں نے بھی شریف فیملی کو کبھی  مایوس نہیں کیا۔ ان کے قلموں اور زبان سے شرارے پھوٹتے ہیں اور خواہشیں خبریں بنتی ہیں، تخیل تجزئیے بنتے ہیں جومیاں برادران کی خواہشات کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ زمینی حقائق چاہے کچھ بھی ہوں، مگر میڈیا  اورسرویز  کمپنیوں نے ان کا جھنڈا  ہمیشہ بلند رکھا ہے اور ان کے مخالفوں کو قابلِ نفرین اور دنیا جہان کی بُرائیوں کا منبع الوجود قرار دیا۔

عطاءالحق قاسمی صاحب جیسے ادیب جو  لطیفے سُنانے اور لکھنے کا شغل  رکھتے ہیں وہ میاں محمدنواز شریف کے بارے میں لکھتے  ہیں کہ ‘وہ  ایک منجھے ہوئے سیاستدان بلکہ مدبر ہیں’۔  گُمان غالب ہے جس نے بھی یہ لطیفہ پڑھا ہوگا ہنسی سے ایک بار ضرورلوٹ پوٹ ہوا ہوگا۔عطاءالحق قاسمی صاحب نے  زندگی میں شاید  ہی اس سے زیادہ پُر مزاح لطیفہ سُنا یا ہو۔

شریفوں اور آصف علی زرداری کے درمیان مری بھوربن میں ججوں کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والے معاہدے سےپِھرنے پر زرداری کا  بجا طور پر غلط کہا گیا   طنزیہ فقرہ ‘وعدے قرآن و حدیث  نہیں ہوتے’ ان کی شخصیت کا  مستقل حصّہ بنا دیا گیا۔ مگر میڈیا کی طرف سے کبھی نہیں سُنا گیا  کہ مری بھوربن کے وعدے سے قبل ججوں کے بارے میں ایک پہلے بھی  معاہدہ (چارٹر آف ڈیموکریسی) ہوا  تھا جس پر میاں نواز شریف نے دستخط بھی کیےتھے۔ جس میں واضح تھا کہ پی سی او جج نہیں لیے جائیں گے۔ میڈیا نے  شریفوں کی مرضی کی بات عوام کے کانوں میں باربار اُنڈیلی مگر یہ کہیں نہیں بتایا کہ  ایک ڈکٹیٹر کو نکالنے  کے موقع پر بلیک میلنگ کرکے ایک  وعدے کو توڑ کر اُس پر بنایا گیا نیا وعدہ کیسے زیادہ متبرک ہوگیا؟

میاں برادران  کو اپنے اصولوں پر بھر پور اعتقاد ہے اس لیے  یہ فضول کاموں میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ پارلیمانی نظام حکومت کو برائے نام  ہی اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ میاں شہباز شریف نے   پچھلے  دورِ حکومت میں ڈیڑھ درجن وزارتیں اپنے پاس رکھیں ۔ پانچ پارلیمانی سالوں میں 452 روز اجلاس ہوئے اور قائد ایوان   کی حیثیت سےمیاں شہباز شریف صرف 16 مرتبہ ایوان میں آئے۔ اس طرح میاں برادران قوم کی بہتری کے لیے قیمتی وقت  بچاتے ہیں۔

شریف برادران  ایمان کی حد تک سمجھتے ہیں کہ نیکی وہی ہے  جو کیمرے کی آنکھ میں ریکارڈ ہو۔ کبھی پیلی ٹیکسی پر بیٹھ کر، کبھی موٹرسائیکل  یا رکشے پر بیٹھ کر، کبھی خیمہ زن ہوکر اوردستی پنکھے جھل کر ، پانی میں اتر کر، کبھی ہاتھ سے دیوار میں  اینٹ  چن کر، غریب کی بیٹی  کی عزت لٹنے پر فوٹوبازی کرکےاور کبھی میٹرو پر ٹکٹ کی لائین میں کھڑے ہو کر فوٹو سیشن کرواتے ہیں اور اپنے طبلیوں سے خوب مُنادی کرواتے  ہیں۔

ماہِ رمضان  میں مکّہ و مدینہ میں عبادات کی خُوب تشہیر کی جاتی ہے۔   اعتکاف میں بیٹھنے سے پرہیز کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں تصویر بازی نہیں ہوسکتی۔  افطاری کےلیے سامان بانٹنے کی خصوصی پوز کے ساتھ تصویریں بنائی جاتی ہیں۔

چھوٹے میاں  یعنی خادم اعلٰی نے  اپنےحالیہ پچھلے دور حکومت  میں بجلی اور گیس کے معاملے میں بڑا کھڑکی توڑ شو پیش کیا۔  پنجاب کے ہر اہم شہر میں خادمِ اعلٰی کے لیے  تمبو (خیمہ) دفتر بنائے گئے۔وہ تمبو دفتر میں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لاتے  اور  فوٹوبازی کروانے کے فورًا  بعد ہیلی کیپٹر میں بیٹھ کر مری  پہنچتے اور اصل والی میٹنگیں اٹینڈ کرتے۔  جابجاسیکورٹی رُوٹس کی  وجہ سےعوام  تو  تنگ ہوئی سو ہوئی مگر ان تمبو دفتروں کےمیڈیا میں اشتہارات سمیت اضافی اخراجات  خوب کیے گئے۔ یہ شو بھرپور طریقے سے جاری تھا  کہ جب میڈیا کے سلسلے میں اصحابِ کہف پارٹی  کے قمرزمان کائرہ   نے خادم اعلٰی کو بجلی اور گیس کے سلسلے میں آئینہ دِکھایا تو خادم اعلٰی کویہ اتفاقیہ ہونے والا مباحثہ ادھورا چھوڑ کر رفوچکر ہونا پڑا۔ اتنے عرصے تک عوام کو بھی پتہ چل چکا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بجلی بنانا صوبائی معاملہ ہے۔ اس طرح ایک کامیاب شو کو بادل نخواستہ ادھورا بند کرنا پڑا۔

شریفوں نے نمودونمائش کی پالیسی پر چلتے ہوئے  صرف شارٹ ٹرم وژن کے بغیر منصوبے شروع  کرنے کا شغل رکھتےہیں جوانھی کے دورِ حکومت میں مکمل ہوں  اور خوب واہ واہ ہو،  چاہے اس کے لیے  عوام  کو  کتنی بڑی قیمت کیوں نہ  دینی پڑے۔  یہ لوگ لانگ ٹرم منصوبوں کے قریب ہی نہیں بھٹکتے مبادا شوبازی کا سلسلہ بتدریج کم  نہ ہوجائے۔ اشتہار باز ی  کی انتہا یہ  ہے کہ بعض مبینہ رپورٹوں کے مطابق اصل منصوبوں کا چالیس پرسنٹ اشتہار بازی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ان کے تمام میگا پروجیکٹس کو ایک جُملے میں سمایا جا سکتا ہے کہ ‘گھر میں بچوں کو کھانا دینے کے لیے برتن نہیں لیکن کھوٹھے پر ڈِش انٹینا’۔

پچھلے دنوں  خادمِ اعلٰی نے فیروز پور روڈ پر جلسے میں جانے کے  لیے پھنسی ہوئی ٹریفک میں ذاتی گاڑی چھوڑ کر   رکشے پر بیٹھنے کو ترجیح  دے کراپنی اشتہار بازی کی خوب  درگت بنائی کیونکہ اسی روڈ پر شہبازشریف نے کم ترین وقت میں میٹرو بس کامہنگا ترین منصوبہ مکمل کیا ہے۔

نون لیگ کی میڈیا ٹیم میں بڑے قابل  اور پُرکارلوگ بیٹھے ہیں۔اگر  میاں برادران   اربوں روپے خرچ کرکے قوم کی”سہولت” کے لیےجدید جوتوں کے جوڑے  متعارف کروائیں اور یہ جوتے صرف  ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور کے باسیوں  میں تقسیم کیے جائیں توان کی تشہیر اتنی زیادہ کی جائے گی کہ جیسے وطن عزیز  کی پوری اٹھارہ کروڑ عوام نے جوتے پہن لیے ہوں اور  ہر شہری کا جوتوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لے حل ہوگیا ہے۔  اور میڈیا میں بیٹھے ان کے مارکیٹنگ نمائندے  پورے یقینِ محکم کے  ساتھ ایسے پُرزور طریقے سے یقین دلائیں گے کہ یہ جوتا پہن کر پاکستان کا ہر شہر ی اُڑ سکتا ہے اور سواری کا جھنجھٹ ہمیشہ کے لیے ختم۔

شریف جو بھی کام کرتے ہیں اپنے ” جادو” سے  بڑے دھڑلے سے کرتے ہیں ۔ مجال ہے کہ پاکستان کا کوئی ادارہ ان کو روک سکے۔ ابھی حال  ہی میں آزاد عدلیہ، نیب اور الیکشن کمیشن کی مثالیں واضح ہیں۔

این –ایف-سی ایوارڈ کے بعدوزیرِاعلٰی پنجاب کے پاس وزیرِاعظم پاکستان سے زیادہ فنڈز ہوتے ہیں۔ اگر ان کھربوں روپے کے فنڈز کو صحیح طور پر خرچ کیا جاتا  تو پنجاب میں بجلی، تعلیم اور صحت کے مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ مگر پنجاب میں  آئین و قانون سے بالکل ہٹ کراربوں روپے کے من پسند اشتہاری منصوبوں میں جھونکے گئے۔  وہ کہاں منظور ہوئے؟  کہاں سٹڈی ہوئی؟  کہاں فزیبلٹی رپورٹس بنیں ؟ ٹینڈر کیسے فائنل ہوئے؟سستی روٹی سکیم، یوتھ ایمپلائمنٹ/ییلوکیب سکیم،  فری لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور سولر لیمپوں میں کتنے ارب  غرق ہوئے؟ کچھ معلوم نہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ڈھونڈ کر دکھائےاور ریکارڈ مانگ کر دکھائے۔۔۔۔۔

اس وقت پاکستان کی معیشیت کا سالانہ گروتھ ریٹ 3.4 ہے اور پنجاب حکومت کی اپنی رپورٹوں کے مطابق امیر صوبے پنجاب کا 2.5 ہے ۔باقی کہانیاں  ہیں چاہے جتنی سُن لو۔

نون لیگ میں تجربہ کار لوگوں کی ٹیم  الیکشن جیتنے کی باکمال سٹریجی بناتی ہے۔ ابھی نگران حکومت قائم ہونے سے قبل پنجاب سے قومی اسمبلی کے 148 حلقوں کا سروے ایک بین الاقوامی فرم سے کروایا،  جسے فی حلقہ 3 لاکھ روپے ادائیگی کی گئی تھی۔ سروے میں بتایا گیا کہ کس حلقہ میں کون سی بڑی برادری اور مؤثر شخصیات ہیں ، کس برادری  یا فرقے کے امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں ، سروے میں صرف  ذات پات برادری ،  فرقہ بندی ، مقامی دھڑوں اور  امارت کو مدنظر رکھا گیا ۔ پنجاب میں ڈی سی اوکے ذریعے امیدواروں کے انٹرویوکر کے سکروٹنی کی گئی۔ گرافوں اور چارٹوں سے مزین مکمل  رپورٹیں بنوائی گئیں۔ پھر کہیں جا کران  رپورٹوں کو مدِنظر رکھ کر ٹکٹ صرف الیکٹ ایبلز میں تقسیم کیے گئے۔

آج کل میڈیا میں نون لیگ کی مقبولیت کے بارے  میں سرویز کی بھرمار ہے کہ اس پارٹی نے مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے  ہیں اور یہ پارٹی الیکشن بھاری اکثریت سے جیت لے گی۔ اگر جائزہ لیا جائے کہ کیسے؟ کیاالیکشن کمیشن  کے تین کروڑ جعلی ووٹ خارج کرنے سے، جو 2008ء کے الیکشن میں ڈالے گئے تھے؟  کیا یہ بھی سوچنے کی بات ہےکہ  اتنی  بھاری تعداد میں ووٹ کس  پارٹی نے درج کروائے ہوں  گے۔   ایم کیوایم کے علاوہ تین پارٹیاں بچتی ہیں جواس  جعل سازی میں ملوث ہو سکتی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی جو 1996ء کے بعد حکومت میں نہیں رہی تھی؟ نون لیگ نے،جس کا کردار اصغر خان  کیس کے لنگڑے لُولے فیصلے کے باوجود بھی عوام پر  پوری طرح واضح ہے؟  ق لیگ نے، جو تقریباً پوری کی پوری نون لیگ کے بدن میں سما چکی ہے۔ اب یہ ووٹ خارج ہوچکے ہیں  تو یہ سمجھنا کون سا مشکل ہے کہ کس پارٹی کے ووٹ کم ہوئے ہوں گے؟

گو کہ الیکشن کمیشن نے چار کروڑ نئے ووٹر رجسٹر کیے ہیں۔  جو کہ صاف ظاہر ہے کہ سارے  جی ٹی روڈ  پر نہیں بستے جہاں نون لیگ کی اکثریت ہے۔ کیا یہ بھی کسی کو سمجھانے کی بات ہے کہ بنیادی طورپر نون لیگ اور تحریک ِانصاف  دونوں پارٹیاں اینٹی بھٹو ووٹر رکھتیں ہیں۔  تحریک ِانصاف نے کس پارٹی کے ووٹ  زیادہ توڑے  ہوں  گے؟ سوچیں جب اینٹی بھٹو ووٹ  الیکشن کے دن نون لیگ ، تحریکِ انصاف ، اِسلامی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی مچھلی منڈی میں بٹے گا تو اس کا  فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟ اور یہ سچ کدھر جائے گا  کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹر ٹوٹ نہیں سکتا۔کیااُس کےووٹر سے اپنی پارٹی کی کارکردگی میڈیا کے پروپیگنڈے کے  باوجود اُوجھل ہے؟

سرائیکی بیلٹ میں نئے صوبےکے حوالے سے  کس پارٹی کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہو گا؟

کیا الیکشن کے دن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ 1000روپے کی  ماہانہ معاونت لینے 70 لاکھ غریب گھرانے کے  ووٹر گھر بیٹھے رہیں گے؟ وسیلہ حق پروگرام کے تحت مفت ٹریننگ کے بعد 3لاکھ روپے بلاسود قرضہ لینے والے  اوروسیلہ روزگار پروگرام کے تحت60 مختلف شعبوں میں 456 ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں دوران تربیت 6000 روپے وظیفہ لینے والوں کے خاندان الیکشن کے دن  ووٹ ڈالنے کی بجائےہوا میں اُڑجائیں گے؟

 کیا ایران پاکستان گیس پائپ لائن پاکستانی شہریوں کی نظر سے پوشیدہ ہے؟  جس سے پاکستان کو روزانہ 2 کروڑ 15 لاکھ مکعب میٹر گیس ملے گی جس سے توانائی کے حالیہ بحران میں نمایاں کمی ہوگی۔ لاکھوں پاکستانوں کو روز گارملے اور پاکستان کی اقتصادی حالت بہتری آئے گی؟

 گوادر بندرگاہ کا فیصلہ میڈیا چُھپا سکتا ہے؟  جس سےملکی دفاع پر دور رس مثبت اثرات اور ملک بھر میں تعمیروترقی اور معاشی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

پی پی پی جو دیہاتوں میں زیادہ ووٹر رکھتی ہے  اپنے دورِ حکومت میں فصلوں کا معقول معاوضہ بڑھایا ہے اور ٹیوب ویلوں پر رعائتی بجلی کی ریٹ دیئے  ہیں۔کیا  کسان ووٹ دینا بھول جائیں گے؟

 پی پی پی کی حکومت نے عالمی کساد بازاری کے باوجود سٹاک ایکسچیج کے عروج  اور 19 ارب سے ساڑھے تیئس ارب تک برآمدات بڑھانے کی حقیقت کہاں چھپائی جا سکے گی؟

24578میگاواٹ سستی بجلی کے پروجیکٹس کو کون جھٹلا سکتا ہے؟

 کیا 1973ء کے آئین کے بحالی اور این۔ ایف۔ سی ایوارڈ کی متفقہ منظوری کے بعد وسائل کی منصفانہ تقسیم کے دور رس فیصلے  یادوں سے محو ہو جائیں گے؟

80 قومی اداروں میں 100 ارب روپے کے 12 فیصد مفت شیئرز لینے والے 5لاکھ ورکرز  پولنگ اسٹیشن تک نہیں آئیں گے؟

وفاقی اداروں میں لاکھوں  عارضی  ملازمین  جو مستقل ہوئے کیا وہ  ووٹ ڈالتے ہوئے ایک لمحے کے لیےپی پی پی کے بارے میں نہیں سوچیں گے؟

سب سے اہم بات  یعنی پی پی پی کا ووٹر عدلیہ، آرمی  اور میڈیا کے اہم کرداروں کو الیکشن کے دن کیسے  بُھولے گا؟

پھر یہ میڈیا اور  خود ساختہ سرویزکمپنیوں کاپھیلایا ہُوا  پروپیگنڈا چہ معنی،   جو کہ ماضی کے  الیکشنز میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔

مگر یہ ساری حقیقتیں شریفوں کے “جادو” کے سامنے رَ د کی جاسکتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح وزارتِ عظمٰی ان کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کرسکتی ہے اس بار  تو “قابلِ نفرین”  صدر آصف علی زرداری کے گوادر بندرگاہ اور ایران گیس پائپ لائن  کے فیصلوں پر عالمی طاقتیں شریفوں کو بونس دینے کے لیے بیقرار بیٹھی ہیں۔

مگر پاکستان کا ایک ایک شہری سمجھ چکا ہے کہ نون لیگ کے پاس کون سے “جادوئی کمالات” ہیں۔

 کیا عوام اس بار الیکشن میں ان “جادوئی کمالات” کو چلنے دے گی؟

بشکریہ  ٹاپ سٹوری آن لائن، 8 مئی2013ء

http://www.topstoryonline.com/imam-bakhsh-blog-130507