Category Archives: Original Article

اِک گھسی پٹی کہانی

1

تحریر: امام بخش

 آج ہماری خواہش تھی کہ دنیا کی بہترین آرمی یعنی وطنِ عزیز کی  مایۂ نازفوج پر لکھاجائے۔ اِرادہ ہمارا یہ  تھا کہ  اِس پُروقار ادارے کی  زبردست  کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔ لیکن ناجانے کیوں  ذہن ایک پرانی اور گھسی پٹی کہانی پر اٹک گیا ہے۔ یہ کہانی آپ نے بھی ضرور سنی یا پڑھی ہو گی۔ مگر  ہم پھر بھی آپ کو  سُنانے پر بضدہیں۔ آپ بھی دل کڑا کرکے ایک بار پھرسے پڑھ لیجیئے۔

 ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ایک سخت گیربادشاہ عقلِ کُل اور  لاثانی ہونے کے خبط میں بُری طرح  مبتلا تھا۔  ایک بار اُس نے حکم جاری کیا کہ جو مجھے ایسا پُروقار اور عظیم الشان  لباس لا کر دے گا جو دنیا میں کسی کے پاس نہ ہو تو میں اُسے مالا مال کر دوں گا۔ بادشاہ کے ذوقِ لطیف کو سمجھتے ہوئے  ٹھگوں کا ایک ٹولہ بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر ہوا۔ “حضور ہم آپ کے لئے ایک خاص لباس تیار کریں گے، جواس سے پہلے تاریخ میں کسی نے دیکھا نہ سُنا، اِس لباس کی باکمال خصوصیت یہ ہوگی کہ اِسے پہننے سے آپ  پُر وقار لگیں گے اور آپ کی قوت و طاقت، دانائی و بہادری اور دہشت و وحشت  مزید بڑھ جائے گی۔ اس لباس کے بارے میں راز کی یہ بات بھی ہے کہ اِس کی شان وشوکت اور خُود یہ  (لباس) صرف اُنھی لوگوں کو دکھائی دے گا، جو صِرف محبِ وطن ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم وفراست رکھتے  ہیں۔ سلطنتِ عزیز کے غدار، احمق اور عقل سے پیدل لوگ یہ عظیم الشان لباس دیکھنے کی سعادت سے محروم رہیں گے۔ مزید برآں اس لباس کو پہننے سےآپ کو اپنے عقل مند مشیر اور وزیر چننے میں بھی آسانی ہو گی”۔

 بادشاہ ظاہری طور پرصاحبِ تدبیر اور راست باز مگر باطنی طور پرٹھگوں   کی باکمال پریزنٹیشن سے متاثر ہُوا اور اُنھیں حیرت انگیز لباس کی فوری تیاری کا حکم جاری کردیا۔ ٹھگوں کوعوام کے خون پسینے سے کمائے گئے ٹیکسوں سے بھاری مراعات کے ساتھ ساتھ محل میں ایک  بہت بڑا ہا ل عطا کردیا گیا۔ وہ اپنی مشینری لے آئے اور ان کے آدمی مشینوں پردِن رات مصروف ہو گئے۔ کچھ دنوں کے بعد ٹھگوں نے بادشاہ کو بتایا کہ لباس تیار ہو گیا ہے۔ بادشاہ مشاہدہ کرنے گیا تو ٹھگوں نے تخیلاتی لباس کی اِشاراتی نمائش پیش کی۔ بادشاہ کو  کچھ بھی نظر نہ آیا لیکن مکھن مسکہ ٹھگوں نے اپنی متاثرکن باتوں سے بادشاہ کو پورا یقین دلا دیا کہ  شان وشکوہ  والا لباس وجود رکھتا ہے۔ بادشاہ یہ سوچ کر کہ وہ کہیں بیوقوف نہ کہلائے، لباس کی تعریف کر کے آ گیا۔ دوسرے دن دربار میں اعلان کیا گیا کہ اگلے روز بادشاہ سلامت عظیم الشان جلوس کی قیادت کریں گے ۔وہ ایک ایسا لباس پہن کر آئیں گے، جو صرف عقلمندوں  اور محبِ وطن لوگوں کو نظر آتا ہے۔

 دوسرے روز جلوس میں  جانے سے قبل بادشاہ کو بڑے اہتمام سے ٹھگوں نےغیر مرئی “باوقار اورعظیم الشان لباس” پہنایاتو  بادشاہ کو اِس بار بھی   کچھ نظر آیا اور نہ ہی اُسےکچھ محسوس ہوا، بلکہ وہ اپنے آپ کو واضح طور پر بے لباس محسوس کر رہا تھا۔ مگران ٹھگوں اور چاپلوس درباریوں کے سامنے خود مابدولت کو احمق، عقل سے پیدل اوربادشاہی منصب کے لیے نااہل ثابت کرنا  ہرگزقبول نہیں تھا۔دوسرا  یہ کہ  لن ترانی میں بے مِثل ٹھگوں کی طرف سے کی گئی برین واشنگ سے  بادشاہ کو  اپنی بے لباسی ہی میں شان و شوکت، طاقت و قوت اور اپنی اہلیت سب نظر آنے لگی۔ وہ پُورے اعتماد سے ننگ دھڑنگ ہی جلوس کی قیادت کرنے کے لیے  باہر نکل آیا۔

 عزت مآب نے ایک نظر عوام پر ڈالی جو وحشت انگیز سُناٹے میں ہکا بکا کھڑے تھے۔ زبان کو تالو سے  چپکائے سہمے ہوئے عوام میں سے کسی کویہ سچ بولنے کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اظہار کرسکے کہ بادشاہ تو الف ننگا ہے۔ اور  ویسے بھی بھلا کون یہ کہہ کراپنے آپ کوسزا کا حقدار،  غدارِ وطن، احمق، عقل سے پیدل اور اپنے شاہی منصب کے لیے نااہل قرار دلواتا؟ قصیدہ گو خوشامدیوں کا ایک جمِ غفیر تھا، جس نے بادشاہ کے لباس کی شان وشوکت اور قوت و طاقت کے قصیدے پڑھ کر زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔

 “ارے واہ! اس پُروقار لباس کی کیاشان ہے”۔

“سبحان اﷲ! کیا بہادر انہ انداز ہے”۔

“ماشاءاللہ! حضور کو لباسِ فاخرہ کیاخوب جچ رہا  ہے”۔ 

“الحمداللہ! ہمارا بادشاہ عوام کاخیرخواہ  اور عظیم ہے”-

“واہ واہ! کیاہیبت ہے، کیا شوکت ہے”۔

“اُف! کیارعب ہے، کیاطنطنہ ہے، کیا طاقت ہے، کیا لیاقت ہے”۔

“اللہ رے! کیا زور ہے، کیا قوت ہے”۔

“میرا ماہی چَھیل چَھبیلا، میں تو ناچوں گی” (ایک سُریلی  نسوانی آواز گونجی) –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 المختصر  قاضیِ وقت نے بھی اِس  ننگی مطلق العنانی کے طمطراق کو  برحق مان کر عدالتی مہر ثبت کردی  اور “کن فیکونی” اختیا رات کو بھی جائز قراردے دیا۔

 بادشاہ نے انعام کے طور پر “عظیم الشان” لباس کے کاریگروں  اور قصیدہ نگاروں کو  اپنے وزیر، مشیر، سفیر، نمایندگان خصوصی، گورنر اور ممبر پارلیمنٹ بنالیا،   کچھ کوسرکاری اداروں میں بھاری تنخواہوں پرعہدے دیئے ، کچھ میں کرنسی سے بھرے بڑے سائز کے لفافے بانٹے  اور دھڑادھڑ قیمتی پلاٹ، کنسٹرکشن ٹھیکے اور سرکاری اثاثوں کی سستے ترین ریٹ پر  لیز عطا کی ۔

 روز مرّہ کے معمول  کے مطابق ہرروز نئے انداز میں  قصیدے پڑھے جاتے اور اخبارات میں جلی سُرخیوں کے ساتھ چھپتے۔ گفتار کے غازی قلمی منشی اور ماہر  پراکسی قلمکار اپنے تجزیوں اور کالموں کے ذریعے اپنے وظائف حلال کرتے۔

 کہتے ہیں بادشاہ سلامت چھ عشروں سے زیادہ اسی لباس میں عوامی جلوس کی قیادت فرماتے رہے۔ جلوس میں شامل  سب ناچتے تھے، کسی کو جُھوٹےکیسز  کا خوف نچاتا تھا تو کسی کو خاندانی مجبوری، کسی کو پیٹ نچاتا تھا تو کسی کو سٹیٹس، کسی کو کرسی تو کسی کو فیشن، سب کے سب ٹھمکے پے ٹھمکا لگانے میں مگن۔ اور ساتھ میں  تکرار کے ساتھ نعرے بھی گونجتے کہ ہم ہی  تو سیانے  اور  محبِ وطن ہیں،  ہمارا بادشاہ عظیم ہے۔ اگر سلطنت کا کوئی  شہری ناچنے سے انکاری  ہوتا یا   بادشاہ سلامت کے وقار، شان وشوکت، قوت و طاقت اور  دانائی و بہادری کے بارے میں  اُس کی  نیت پر ذرا سابھی شک گذرتا،  تو غدارِ سلطنت  کاٹھپہ جھٹ سے لگا دیا جاتا، غائب کردیا جاتا ، بدنام کردیا جاتا، اُس کا کاروبار تباہ کردیاجاتا یا  پھر وہ  بے روزگاری، جیل ، پھانسی،  گولی یا خُودکُش دھماکےکی نظرہوجاتا۔  یعنی جو ناچے وہ سکندر، جو نہ ناچے وہ بندر۔

 بادشاہ نے اپنی دھرتی کے سادہ لوح نوجوانوں کو (جوجہاد کےنظریئے کےساتھ فوج میں بھرتی ہوئے تھے) کرائے پر غیرملکی جنگوں میں دھکیل دیا، جس کی وجہ سے بادشاہ کی فوج  کےڈنکے چار دانگِ عالم میں بجنے لگے کہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی بجائے یہ توصرف  کرائے  پر کام کرنے والی فوج ہے۔بادشاہ سلامت کو اندرونی و بیرونی  ذِلت آمیز شکستوں پر شکستیں ہوئیں۔  سلطنت کے اندر ہرقلعے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، دشمن ملک نے آدھی سلطنت تک چھین لی۔  مزید برآں میرٹ کا کھلے عام قتل کیا گیا۔ اقربا پروری نےنئی رفعتوں کو چُھوا۔ فرقہ واریت، نشے اور اسلحے کے کلچر کو دانستہ طور پر  عام کیا گیا۔ بادشاہ کے پالے ہوئے غنڈوں اور دہشت گردوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا، جس سے پوری سلطنت دہشت زدہ ہوگئی اور دہشت گردی نے مُستقل ڈیرے ڈال دیئے۔  امن وامان برباد ہوگیا۔ خون میں نہائی لاشیں روز کا معمول بن گئیں۔ خود سپردگی ، بزدلی،بے غیرتی اور بے حمیتی قوم کا خاصہ بن گئیں، پڑھے لکھے لوگ اور سرمایہ دار ہجرت کرگئے۔ مگر پھر بھی دُشمن ملکوں کے سامنے ہمیشہ سر جھکانے والا ڈرپوک بادشاہ اپنی عوام پر ہیبت کے ساتھ مسلط رہا اور بے پناہ ظلم وستم ڈھاتا رہا۔ بندوق کے زور پر اپنے آپ کو پُروقار  منوانے کی تکرار کرتا رہا۔

 ہرچیز روزِروشن کی طرح واضح ہونے کے باوجود خُصیے سہلانے کے ماہر بوزنے، بونے ، بالشتیئے،  دیہاڑی باز، کمیشن خور، اور ہوس اقتدار کے مریضدرباریوں نے بادشاہ  کی عوامی خیرخواہی،  قوت و طاقت اور دانائی  و بہادری کےجُھوٹے قصیدے  جاری وساری رکھے۔ اور جنتُ الحُمقاء کے ہم زانُو بادشاہ نے بھی ایک پل کے لیےنہ سوچا کہ ایک دن  وہ تاریخ کے کُوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا اور آنے والی نسلیں اُس  پر تھوکنا بھی گوارانہیں کریں گی۔

 ایک روز کا ذِکر ہے  کہ ننگے بادشاہ کا جلوس شان وشوکت سے چلا جارہا تھا۔مفلوک الحال عوام میں سے  کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں  کرپارہاتھا کہ اُسے کوئی شان وشوکت نظر آرہی ہے ،نہ طاقت و قوت اور  نہ بادشاہ کے تن پر کوئی لباس۔ ایک پاگل دیوانہ بھی گُھومتا پھرتا بادشاہ کے جلوس میں آ نکلا۔ دیوانے نے جب بادشاہ اور تعریفی نعرے لگاتے اُس کے حواریوں کو دیکھا، تو زوردارقہقہہ لگایا،بادشاہ کی طرف اُنگلی سے اشارہ کیا اور کلمۂ حق بلند کیا:

 “عقل کے اندھو!۔۔۔ ہمارا بادشاہ تو بالکل ننگا ہے۔”

یہ سنتے ہی جلوس میں سُناٹا چھا گیا اور تھوڑی دیر بعد کچھ پُھس پُھساوَٹ کے ساتھ مکھیاں سی بھنبھنانے لگیں:

“ہیں جی۔۔۔۔ کچھ کچھ شک تو مجھے بھی پڑتا ہے”!

“ہاں جی ۔۔۔۔ ذرا دیکھوتو سہی”!

“۔۔۔۔ ننگا تو مجھے بھی لگ رہاہے”!

“اِس کے بدن پر ایک اِنچ کپڑا بھی نہیں”!

” ہاں واقعی، دیوانہ توبالکل ٹھیک کہہ رہا ہے!”

اس کے بعد تو پورا جلوس بلند آواز سے نعرہ زن ہوگیا:

“بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے”۔

 اس ذلت آمیز صورتحال میں ظالم بادشاہ کے اوسان خطا ہوگئے، سارا  خودساختہ  وقار، طنطنہ  اور رعونت کافور ہوگئے،  صورتحال ایسی ہوگئی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔  بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنے ننگے بدن پر آگے پیچھے ہاتھ رکھے، زمین پھٹے اور وہ زمین میں زندہ دفن ہوجائے۔ ساری کی ساری ڈھنگوسلہ بازی چشمِ زدن میں دھڑام سے گر گئی۔ بدبخت بادشاہ کو یہ بھی   دیکھناپڑا کہ “باوقار اور عظیم الشان لباس” بنانے والے ابن الوقت ٹھگوں کا ٹولہ بھی اُس کی انتہادرجے کی بے وقوفی کے ٹھٹھے اُڑانے میں مصروف تھا۔ بدلتی ہوا کا رُخ دیکھ کر سب کے ساتھ ٹھگ بھی جوش وخروش سے نعرے بازی  میں شریک ہوگئے کہ:

 “بادشاہ ننگا ہے! ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے !۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے!”

(نوٹ:یہ کوئی الف لیلوی داستاں ہے نہ گُل و بُلبل کا قصہ کہ پڑھا ، مزہ لیا اور  سوچےسمجھے بغیر بھلا دیا۔)

مردِحُرسے ایک اور معافی کی درخواست

zardari say aik aur maafi

تحریر: امام بخش

 مردِ حُر آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے کیسز اور  پروپگنڈے کا طوفان برپا کرنے والوں یعنی سابق صدر غلام اِسحٰق خان، نوازشریف، پرویزمشرف اور سیف الرحمٰن کی معافیاں اور اِقرار جُرم  پہلے ہی پاکستان کی تاریخ کا حصّہ ہیں۔ اَب سابق آئی ایس آئی چیف جنرل(ر) احمد شجاع پاشا (میمو گیٹ فیم +بابائے تحریک اِنصاف) کی طرف سے نئی معافی کا اِضافہ ہوا ہے۔ جس میں موصوف نے مردِ حُر سے التجا کی ہے کہ” مجھے معاف کردیں، غلطی ہوگئی، اس  نے جو کچھ کیااپنے باس کے کہنے پرکیا”۔

 یاد رہے  کہ میمو گیٹ شاہکار ڈرامے کے معماروں نے اپنی پہاڑ ایسی ناکامی چُھپانے کے لیے اپنے جموروں ، میڈیا اور عدلیہ  کے ذریعے گردوغبار اور پراپیگنڈ ے کا ایسا طوفان برپا کیا  کہ حقیقت خرافات میں کھو  گئی۔یاد رہے کہ سب سے  بڑے جَمُورے کاکردار اِس وقت کے وزیرِاعظم نوازشریف نے ادا کیا تھا ، جب اُنھوں نے جاتی عمرہ میں ایک سینئر فوجی اہلکار  سے ملاقات  کرنے کے بعد بڑی دھوم دھام سے دیدہ و دل بھی فرش راہ کی مکمل تصویر آزاد عدلیہ میں میمو پر پٹیشن دائر کی۔ یعنی سب کرداروں نے مِل کر اِس ابرِ غلیظ میں آصف علی زرداری کے خلاف ہر ترکیب، حربہ اورگٹھ بندھن آزمایاگیا ۔ حتٰکہ دسمبر 2011ء  میں میموگیٹ کےگردوغبار کے دوران  صورتحال  یہ تھی کہ آصف علی زرداری کوایوان صدر کے پچھلے حصے میں اپنے سونے کے کمرے میں بندوق لے کر ساری ساری رات بیٹھنا پڑتا تھا ۔  زرداری نے” اصل حکمرانوں” کو پوری طرح باور کرا دِیا کہ وہ سرنڈرنہیں کریں گے،استعفٰی نہیں دیں گے، گرفتاری نہیں دیں گے، صرف لڑیں گے، گولی کا جواب گولی سے دیں گے اور  اگر اُنھیں ہٹانا ہے تو  آئینی طریقے سے ہٹایا جائے۔ ایک دن تو آصف علی زرداری نے  اپنے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے  حملہ آور مجھے گولی مار کر کہیں کہ میں نے خود کشی کر لی ہے لیکن گواہ رہنا ، میں لڑتے ہوئے مروں گا،  خود کشی نہیں کروں گا۔

 مردِ حُر آصف علی زرداری نے “اصل حکمرانوں”  اور ان کے حواریوں کو قدم قدم پر مایوس کیا۔اُنھوں نے ہر وار کو مردارنہ  وار سینے پر سہا ۔ اُنھیں عدلیہ، میڈیا،ملٹری اور حزب اختلاف سے چومکھی لڑنا پڑی۔   یہ زرداری کا تحمل، صبراور دوراندیشی تھی جو جمہوریت  بچاتی رہی۔ ہر  اوچھے وار  کو بڑے تحمل سے برداشت کیا ۔ اگر 2008ء سے لےکر آج تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات  روزِروشن کی طرح  واضح ہوجاتی ہے کہ مردِحُر ایک ایسا  سبک دست جوگی ہے، جس نے  ہماری اسٹیبلشمنٹ کے بڑے بڑے اور زہریلے اژدہوں کی زہر کو بتدریج کم  کیا ہے ۔ اگر وطنِ عزیز میں  یہ عمل جاری رہےتو انشاءاللہ  بہت جلد یہ  بے ضرر کیچوؤں میں تبدیل ہوجائیں گے اورذلتوں مارا یہ  پاکستان ہرگز نہیں رہے گا، جو اِس وقت ہے۔

 میمو گیٹ کے آرکیٹیکٹ  کی تازہ معافی  سے ہمیں مردِ حُر کے بدترین مخالفین کی طرف سے ماضی میں اِقرارِ جرم اور معافیاں یاد آگئیں۔ سب سے پہلے ہم سابق صدرغلام اسحٰق خان کا ذکر کریں گے۔ جنھوں نے  محترمہ  بینظیر بھٹو کی  حکومت کی 1990ءمیں برطرفی کےبعد آصف علی زرداری پر کرپشن کے لاتعداد الزامات لگا کر اُنھیں جیل میں بند کردیا۔  مردِ حُر رکنِ قومی اسمبلی بنے مگر اِس عرصہ میں وہ جیل میں ہی  پابند سلاسل  رہے۔تین سال بعد 1993ء میں کوئی ایک بھی الزام ثابت کئے بغیر غلام اسحٰق خان نے اپنا تھوکا سرِعِام چاٹ کرآصف علی زرداری کو رہا کر کے نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنا کر حلف لے لیا۔ اِس طرح انھوں نے بلاواسطہ طورپر اقرارکیا کہ مردِحُر کے خلاف سب کیسز جُھوٹے بنائے گئے تھے۔

 نواز حکومت کے دُوسرے دورِحکومت میں  اِحتساب  سیل کےسابق چیئرمین  سیف الرحمٰن نے  محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف  لاتعدادریفرنس دائر کئے۔ وہ نوازشریف کی خواہش پر شہباز شریف کے ساتھ مل کر ججوں کو فون کر کےمحترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو زیادہ سے زیادہ سزا دِلوا کر عبرتنا ک مثا ل بنانا چاہتے تھے۔ یہ وہی پست فطرت سیف الرحمٰن تھے،  جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیڈروم کی ویڈیوز تک بنانے  کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ سیف الرحمٰن کے بارے میں میاں شہباز شریف خوداِقرا کر چکے ہے کہ وہ لاہور میں ایک عدالتی پیشی کے دوران آصف علی زرداردی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی  بنا چکے تھے۔مگر جب  پرویز مشرف کے دور میں ایک بار آصف علی زرداری کو جیل سےراولپنڈی عدالت میں پیشی پر لایا گیا  تو مردِحر کے کمینگی کی حد تک دُشمن سیف الرحمٰن کوبھی  ہتھکڑیوں میں  وہاں پیشی پر لایا گیا (جنھیں  نواز حکومت کا 1999ء میں تختہ اُلٹنے بعد گرفتار کیا گیا تھا)۔ سیف الرحمٰن  نےجیسے ہی  آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن  کے قدموں میں  گرگئے اوردھاڑیں مار مار کر معافیاں  مانگنے لگے،  وہیں سیف الرحمٰن کی ماں بھی موجود تھیں ، انھوں نے بھی معافی کی درخواست کی تو زرداری نے کوئی گلہ کئے بغیر فوراً معاف کردیا۔

 فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد  مردِ حُر نے سیاسی تدبرسے سابق ڈکٹیٹر کو بتدریج بند گلی کے آخری سِرے تک پہنچا دیا۔ حالات اِس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ڈکٹیٹر کو اپنی وردی (جسے وہ اپنی کھال سےتشبیہ دیتے تھے) اُتر نے کے بعد اصلی کھال اُترنے  کی فکر پڑ گئی۔ جس کی وجہ سے ڈکٹیٹر اپنے ادارے کی مدد سے معافی تلافی کراتے ہوئے بیرونِ سُدھارگئے اور اُس وقت تک واپس تشریف نہیں لائےجب تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔  مگر نگران حکومت کے بننے کے پہلے ہی دن سابق ڈکٹیٹرپرویز مشرف واپس پاکستان لوٹ آئے۔ اِس سے قبل2010ء میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے لندن میں سارے میڈیا کے سامنے مردِحُر کے مخالفین کے لیے ہاٹ کیک یعنی سوئس کیسز  کے بارےمیں کُھلا اعتراف کیا کہ یہ کیسز فرضی داستان ہے، اُن کی حکومت نے سوئس حکومت سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب میں بتایا گیا کہ وہاں کو ئی رقم نہیں پڑی ہوئی، سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سب داستانیں اُنھیں پاکستانی میڈیا کے ذریعے سننے کو ملتی ہے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ ان فضول کیسز کی بیرونِ ملک تفتیش کرنے سے حکومت پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر پاکستان کو ایک دھیلے کا بھی  فائدہ نہیں ہوا۔

 نوازشریف وہ شخصیت ہیں جنھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف  قابلِ نفرین حد تک پروپگنڈا کیا اور کیسز کا انبار لگا دیا۔ مردِ حُر نواز شریف کے پہلے دورِحکومت میں 1990ء سے 1993ء تک جیل میں بند رہے۔ بعد میں 1996ء میں مردِ حُرکو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا (مردِ حُر کی یہ قید 2004ء تک رہی)۔ اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہئے کہ جب آصف علی زرداری کراچی جیل میں بند تھے تو اُنھیں پابند سلاسل کرنےکے ذمے دار اور سب سے بڑے کردار میاں نوازشریف خود اپنی حکومت کا  1999ء میں تختہ اُلٹنے کے بعدروتے دھوتے وہیں آن قیدی بنے اور نوید چوہدری کو معافی کی درخواست کا پیغام دے کر آصف علی زرداری کے پاس بھیجا ۔ زرداری پیغام سُن کر مُسکرائے اور لمحہ بھر کو سوچ8ے بغیر نوازشریف کو معاف کردیا۔

اب  ہم سہیل وڑائچ کی کتاب “غدار کون؟ نوازشریف کی کہانی ان کی زبانی”  کا حوالہ دینا چاہتے ہیں ۔جوانھوں نے جون 2006ء میں لکھی تھی۔ کتاب کے مکمل ہونے کے بعد نوازشریف اور ان کی فیملی ممبرز نے کتاب کا  مسودہ بار بار پڑھا-  پھر اسے  ناروے کے سابق سفیر عطاءالحق قاسمی (یہ وضاحت کرنا بے کارہوگا کہ اِس صحافی کا شریف فیملی سے کیا تعلق ہے) نے کتاب کے حتمی مسودے کو تفصیل سے پڑھنے اور دیکھنے کے بعد باقاعدہ اشاعت کی اجازت دی۔

 مذکورہ بالا کتاب کے صفحہ 137 پرمحترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری  کے مقدمات کے بارے میں نوازشریف سے پوچھے گئے سوال اور جواب من و عن حاضر ہیں:

سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہو ئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟

 نوازشریف: احتساب کا  طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔

 پس ثابت ہُوا کہ سانچ  کو آنچ نہیںاور سچے لوگوں کو بظاہر اکثر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر سچ آخر سچ ہوتا ہے اور ثابت ہوکر ہی رہتا ہے۔  مگر یاد رہے کہ سچ اُن لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑتا جونفرت کو ہی ایمان، آئین اور قانون سمجھتے ہیں کیونکہ اُن کا اپنا پسندیدہ جھوٹ ہی  ہمیشہ سچ ٹھہرتاہے۔ اُن بے چاروں کی بھی مجبوری ہے کیوں کہ بغیر وجہ کی نفرت سے آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں، کان بند ہو جاتے ہیں اوردلوں پر مہرے لگ جاتے ہیں۔

 آخر میں یہ ذِکر کرنا اہمیت سے خالی نہیں ہوگا کہ مردِ حُر آصف علی زرداری کے بد ترین مخالفین میں سے دوکردار ابھی باقی ہیں جن کا اِقرار جُرم اور معافی کی درخواستیں  آنا باقی ہیں۔ اِن میں سے ایک کردارتو میمو گیٹ کے آرکیٹیکٹ کے باس ہیں ، جو ایوب خان، یحیحیٰ خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف سے  بڑے کایا ں نکلے  اوراپنا نا م  “رِجسٹر” کرائے بغیر ہی چھ سال تک وطنِ عزیر پر بھرپور حکومت کر گئے ۔ دُوسرے کردارجھانولی نظر کے مالک ایک “صادق و امین فرشتے”  ہیں جنھوں نے اپنے فرائض پسِ پشت ڈال کر کمرہ نمبر ایک سے سپریم کورٹ  آف پاکستان کو مردِ حُر کے خلاف  پروپگنڈا سیل  کے طور پر چلایا۔ بہت سے بلاوجہ قانونی پھندے تیار کئے، حکومت  کے ہرکام میں روڑے اٹکائے ، قانونی موشگافیوں میں اُلجھا کر پریشان رکھا  اور آئینی بھول بھلیوں میں بھٹکانے کی بھرپور کوشش کی ۔المختصران کی سیاہ کاریوں کا دائرہ افق تا افق پھیلا ہوا ہے۔

 اُمیدِ قوی  ہے کہ مستقبل میں مذکورہ بالا دو  کِرداروں کی طرف سےبھی اِقرارِ جُرم سے مردِ حُر کی حقانیت ایک بار پھر ثابت گی۔ اگر اِنھوں نے اپنی زُبان سے اعترافِ جُرم نہ بھی کیا توکو ئی حرج نہیں کیونکہ تاریخ کے جبر سے کوئی مفر نہیں۔

ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کا مقدمہ اور چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ

تصویر

تحریر: امام بخش

یُوں تو وطن ِ عزیز  کے چند”مایۂ نازقانون دان” سابق ڈکٹیٹرپرویز مشرف کی مداح سرائی اور بے گناہی  کےمُدت سے الاپ چاری ہیں مگر  ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کے مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے ہمیں حیرت زدہ کر  دیا  جب انھوں نے  عدالت میں استغاثہ کی طرف سے  کہا کہ اُنھیں پرویز مشرف کی وفاداری پر کوئی شک نہیں ہے۔ وہ سابق آرمی چیف بھی رہے ہیں،  انھیں کبھی غدار نہیں کہا گیا بلکہ ملز م کے وکلاء اس کو غداری کا مقدمہ کہہ رہے ہیں۔  انھوں نے مزید کہا کہ عدالت کے سامنے غداری کا نہیں بلکہ آئین شکنی کا مقدمہ ہے۔ 

چیف پراسیکیوٹر نے یہی پر بس نہیں کیا بلکہ رحم طلب نظروں کے ساتھ چل کر ملزم ڈکٹیٹر کے پاس  گئے  اورفدویانہ انداز میں التجا کی کہ وہ اس مقدمے میں اُن کے ضمانتی میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کے کلاس فیلو ہیں۔ اُن کے دل میں اُن کے لیے بےحد احترام ہے اور اُن کے لیے کسی طور پر بھی تعصبانہ رویہ نہیں رکھتے۔ 

قوم کی یادداشت کو کمزور سمجھنے والے  چیف پراسیکیوٹر کو ہم  یاد دہانی کراتے چلیں کہ عدلیہ،  وفاقی حکومت اور اُن کی ذات   شریف ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کے مقدمے کے بارے میں کیا موقف رکھتے رہے ہیں: 

1۔ 24 جون 2013 ء کو وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا  کہ حکومت اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی جس کے تحت3 نومبر 2007ء کو اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویزمشرف آئین کو معطل کر کے غداری کے مرتکب ہوئے تھے۔ 

2۔ 3جولائیء 2013 کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی جلد مکمل کرے۔ 

3۔ 17 نومبر 2013ء  کو  وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا کہ حکومت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کا آغاز کر رہی ہے۔ 

4۔ 19 نومبر2013ء کوحکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب، جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدرپر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دے دی۔ 

5۔ 20 نومبر2013 پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں سزا ہو سکتی ہے۔ 

6۔ 21 جنوری2014ء کو اکرم شیخ نے  خود فرمایا کہ سابق فوجی حکمران کے خلاف دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ 

تعجب ہے کہ اب چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ فرمارہے ہیں کہ اُنھیں  پرویز مشرف کی وفاداری پر کوئی شک نہیں ہے اور وہ اُن کے لیےمحترم ہیں اوراُن کے کے خلاف  عدالت کے سامنے غداری کا نہیں بلکہ آئین شکنی کا مقدمہ ہے۔ کوئی تو  اِس”  عظیم قانون دان” سے پوچھے کہ کیا  آئین شکنی سے بڑی بھی کوئی غداری  ہوتی ہے؟ 

اب ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹیکل چھ کیا ہے؟جس کے تحت  ڈکٹیٹر کے خلاف کاروائی شروع کی گئی ہے۔  آرٹیکل چھ، جس کا عنوان ہی  ‘سنگین غداری’ ہے، مِن ّ و عَن حاضر ہے ۔ جسے قانون سے نابلد  کوئی بھی معمولی پڑھا لِکھا آدمی  ماہر قانون دانوں کی مدد کے بغیرہی  آسانی سے سمجھ سکتا ہے: 

1۔ کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے  یا دیگر غیرآئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے  یا تنسیخ کرنے کی سعی یا سازش کرے، تخریب کرے یا تخریب کرنے کی سعی یا سازش کرے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ 

2۔ کو ئی شخص جو شق نمبر ایک میں مذکورہ افعال میں مدد دے گا یا معاونت کرے گا، اِسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہو گا۔ 

3- مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔ 

آثار بتاتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے  سابق ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمے میں ملٹری کی ہدایات  کے  عین مطابق عمل کرنے کے طرزعمل، ججوں کے ساتھ ساتھ حکومتی وکیلوں کو ڈکٹیٹر کے وکیلوں کی طرف سے جھڑکیوں اور گُھوریوں نے اکرم شیخ کو پوری طرح سمجھا دیا ہے کہ نوازشریف نے پراسیکیوٹرشپ کی کلغی کے جھانسے میں اُنھیں پھنسا کر ایک بار پھرکراری دُھلائی کا اعلٰی اہتمام کیا ہے، جیسا کہ پچھلے دورِ حکومت میں نُونیوں نے سپریم کورٹ کی راہ داریوں میں اکرم شیخ  کے سر پر وزیرِ قانون   اور  اٹارنی جنرل بننے کی دُھن جُوتا ٹھکائی کا شاندار عمل فرما کر اُتاری تھی۔ 

ہمیں توبے چارے اکرم شیخ پر ترس آرہا ہے۔

جیل کی دہشت، کھوکھلے سُورمے اور مردِحُر

ZARDARI

تحریر: امام بخش

imamism@gmail.com

 ایک زمانہ تھا کہ ہمارے کمانڈو پرویزمشرف نے اپنی بہادری کی دھاک پوری قوم پر بٹھائی ہوئی تھی کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ وردی میں سوا چھ لاکھ فوج کے بل بوتے پر بڑھکیں مارنا اور بات بات پر مُکے دکھانا اُن کی فطرت ِ ثانیہ بن گئی تھی۔ ان کے دلیر چہرے سے نقاب بیچ چوراہے تب اُترا، جب غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اُنھیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ۔ اور بہادر کمانڈو خود ساختہ حیلے بہانوں کے بعد ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کےجلوس میں، عدالت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ہی  ‘کثرتِ شُجاعَت’ کا شکارہونے کے بعد اب ایک فوجی ہاسپٹل میں قلعہ بند ہیں۔

عمومی طور پر سچ سمجھی جانے والی ایک رائے کے مطابق پرویز مشرف کا ہارٹ اٹیک یا دوسری بیماریاں صرف بہانےہیں۔ اگر یہ گُمان دُرست ہے تو بھگوڑے کمانڈو نے بہادروں کی بجائے بُزدلوں کی طرح 1965ء اور کارگل کی جنگوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی اپنی روایت ایک بار پھر دوہرا کر پاک فوج کی ‘توقیر’ میں خوب اضافہ کیا ہے۔ ویسے کمانڈو جنرل پاک فوج کا ‘وقار’ بڑھانے کے کئی دیگر ریکارڈ پہلے ہی قائم کرچکے ہیں۔ موصوف کی طرف سے ٹیک اوور کے ‘صائب’ فیصلے کے بعد فوج کی ‘مقبولیت’ کا عروج تب دیکھنے میں آیا جب فوجی جوان عام پبلک کے سامنے وردی پہن کر نہیں جاسکتے تھے۔

جب سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی ہے، اُن کے چہرے پر ہوائیوں کے مسلسل طوفاں برپا ہیں۔ اُن کےحواس مختل ہو چکے ہیں، سارا جاہ وحشمت، کروفراورتحکم ہوا ہوگیا ہے اور موصوف ہمہ وقت زہریلے کانٹوں اور دہکتے کوئلوں پر لَوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جناب عدالت سے ایسے بدک رہے ہیں جیسے وہاں عزرائیل بیٹھا ہوا ہے جو شدت سے صرف ان کے انتظار میں ہے۔

آثار بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف سچی جھوٹی پھیلی افواہ سے دہشت زدہ ہوگئے ہیں کہ نظربندی کے احکامات تیار ہیں اور پہلی پیشی کے بعد اُن کو چک شہزاد میں واقع ان کے اپنے ذاتی عشرت کدے یعنی فارم ہاؤس میں بھیجنے کی بجائے کسی ریسٹ ہاؤس میں نظربند کر دیا جائے گا ۔

نظربند ی کے خوف سے پرویز مشرف پر بیتنے والی یہ “واردات قلبی” ہمیں قوم کے چند دوسرے رہنما ؤں کےاحوال یاد دلا گئی جو مختلف ادوار اور مختلف مقدمات میں نظربند رہے یا جیلوں میں قید ہوئے۔ پاکستان کی دلچسپ سیاسی تاریخ کے حوالے سے یہ فہرست ہے تو طویل مگر ہم یہاں اختصار کی خاطر محض وقتِ موجود کے چند سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ ہی کررہے ہیں۔

1۔ شریف برادران

حکمرانی  کی سِلور جُوبلی منانے والے اور ‘لشکرِصادق و امین’ کے محبوب ترین خاندانِ شریفاں نے جیل میں ایک سال  کا عرصہ نالوں، فریادوں،  مِنتوں اور ترلوں میں  بڑی مشکل سے کاٹا۔  جیسے ہی ان کے معاملا ت ڈکٹیٹر  پرویز مشرف کے ساتھ طے  پائے،  تو یہ پُورا خاندان عوام  اور  جیلوں میں بندمسلم لیگی لیڈروں تک کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میں  انھیں تنہا چھوڑکررفوچکر ہو کر سعودی عرب میں سَروَر  پیلس میں سَرُور لینے  جاپہنچا۔ یاد رہے کہ یہ خاندان اپنا پُرتعیش سامان،  پسندیدہ باورچی اور مالیشئے ساتھ لے جانا نہیں بُھولا۔

اُن دنوں جیل میں نوازشریف کے ساتھ والے سَیل میں  بند سینئر مسلم لیگی رہنما غوث علی شاہ  ( جن کو میاں صاحب نے جیل سے چُھوٹنے اور پاکستان چھوڑنے کے معاہدے کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی اوراُنھیں خاندانِ شریفاں کی روانگی کے بعد حقیقتِ حال کا پتہ چلا) کی طرف سے اپنے قائد نوازشریف کے حضور اس یاس بھرے شِکوے نے بہت سوں کو رُلا دیا تھا کہ “جناب اِتنے بڑے جہاز میں ایک سیٹ ہمارے لیے بھی رکھ لی ہوتی، ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کے گھرچلے جاتے اور اس عذاب سے بچ جاتے جو بعد میں بُھگتا”۔

ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے “حرم” میں نازونعم سے پرورش پانے والے شریف برادران، اپنے پورے خاند ان سمیت ایک دوسرے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدوں کی دستخط شدہ دستاویزات منظر عام پر آ نے سے پہلے کامل سات سال (2000ء سے لے کر 2007 ء تک) قوم کے سامنے پورے اعتماد سے بار بارجھوٹ بولتے رہے کہ انھوں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط۔

پاکستانی قوم 22 اگست 2007ء کو اُس وقت سکتے میں آگئی، جب پرویز مشرف حکومت کی طر ف سے اُس معاہدے کی مصدقہ نقول سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئیں، جس پرمیاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے 20 دیگر افراد نے دسمبر 2000ء کو جیل سے جان چھڑانے اورپاکستان چھوڑنے کے وقت دستخط فرمائے تھے۔

سرور پیلس میں گذری اس “وی وی آئی پی جلاوطنی” کے دوران خاندانِ شریفاں پاکستان سے آنے والی ٹیلیفون کال کی گھنٹی پر بھی تھرتھرا جاتا تھا، حالت یہ تھی کہ قربانیاں دینے والے مسلم لیگی لیڈروں تک کے فون نہیں سُنے جاتے تھے۔

شریف فیملی نے سعودی عرب میں بھی سٹیل ملز لگا کر نوٹ کمانے کا سفر البتہ جاری رکھا۔ وہاں سرُور پیلس میں بیٹھ کر لطیفے سننے اوراپنے پسندیدہ کھابے کھانے اور کھلانے میں وقت خُوب مزے میں گزرتا رہا۔ البتہ پیچھےنون لیگ کے متوالے ذلیل وخوار ہوکر مُنہ چھپاتے پھرے۔

سات برس سے زیادہ عرصہ بیتنے کے بعد بالآخر 8 ستمبر2007ء کو میاں نواز شریف نے وطن واپس لوٹنے کا اعلان کرتے ہوئے لندن میں، پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ان کی جلاوطنی ایک معاہدہ کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم ان کا ارشاد تھا کہ اس معاہدے کی مدت 5 سال کے لیے تھی نہ کہ 10 سال کے لیے۔

میاں محمد نواز شریف نے نومبر 2007ء میں پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کمال ڈھٹائی کا پھر سے مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ”ہم کوئی عہدہ لینے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر واپس آئے ہیں۔ ہم ڈیل ویل پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم ڈیلوں والے لوگ نہیں ہیں، ہماری رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا ہے۔ ہم نے کبھی سات دن ملک سے باہر نہیں گذارے تھے لیکن ملک و قوم کی خاطر سات برس جلاوطنی کاٹی اور ڈیل نہیں کی”۔

جدّہ اور لندن میں نواز شریف کی جانب سے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے سے انکاراور پرویز مشرف کا ساتھ دینے والو ں کو اپنے ساتھ کبھی نہ ملانے کی بے شمار قسموں،  وعدوں کے چشم دِید گواہ صحافی اِس دنیا میں ابھِی موجود ہیں۔ جن کے مطابق میاں صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ “پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہو گا”۔ بعد میں جیل سے جان چُھڑانے کےلئے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے منظر عام پر آگئے، ثابت بھی ہوگئےاور آمر پرویز مشرف کے تقریباً 200 پارلیمنٹرین ساتھی بھی آج نون لیگ میں نواز شریف کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

2۔ چوہدری نثار علی خان

جیل تو بہرحال جیل ہوتی ہے، مگر اپنے گھر میں دنیا بھر کی سہولتوں کے ساتھ نظر بند ی بھی بہت سوں کیلئے ناقابل برداشت ہوا کرتی ہے۔ یقین نہیں تو طنطنے اور رعونت کے طومار  اور بڑھی پونچھ کے آدمی چوہدری نثارعلی خان سے پوچھ لیں، جو پرویز مشرف کے دورحکومت میں جب اپنے گھرمیں فرمائشی طور پرنظربند تھے تو نظربندی کی تکلیف اتنی شدت تک پہنچ گئی کہ موصوف اپنی والدہ سے پرویز مشرف کو خط لکھوانے پر مجبور ہوگئے۔ جس میں درخواست کی گئی کہ جنرل صاحب ان کے بیٹے کو رہا کردیں تو وہ وعدہ کرتی ہیں کہ برخوردار آئندہ کبھی سیاست نہیں کریں گے، اور اگر کبھی سیاست کرتے نظر آئے تو وہ انھیں اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔

3۔ شیخ رشید اور اعجازالحق

جیل کی دہشت کا راز ‘پسرِ عسکر’ اعجازالحق اور شیخی بازشیخ رشیدپر تب کھلا، جب 1993ء میں اُن کی طرف سے راولپنڈی کے ایک جلسے میں کلاشنکوف لہرا لہرا کر حکومت کے خلاف بڑھکیں مارنے کے بعد نصیر اللہ بابر مرحوم ایکشن میں آگئے۔ اعجازالحق تو کھلونا کلاشنکوف کہہ کراپنی جان بچاگئے مگر شیخ رشید اپنی زبان کی تُندی کو کلاشنکوف سے زیادہ تیز سمجھ کر اس پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے جیل جا پہنچے۔ بے خزاں باتونی کا زبان پر بھروسہ سچا نکلا کیونکہ زبان تو تیز تررہی مگر بچوں کی طرح بلند چیخیں مارکر ہمسائے قیدیوں کا جینا حرام کردیا اور خود ساختہ بہادری کا سارا کچا چٹھا کھل کر سامنے آگیا۔ یہ کھجلی زدہ زبان کے مالک شخص پانچ کلو برف روزانہ اور ایک عدد روم کُولر کے لیے پارٹی تک بدلنے کو تیار ہوگئے۔ سیدہ عابدہ حسین کے ذریعے فریادوں کے انبار لگادیئے مگر محترمہ بینظیر بھٹونے انھیں اپنی پارٹی میں لینے سے انکار کردیا۔

4۔ عمران خان

آج کے ‘محمود غزنوی’ عمران خان، جو جمہوری رویّے کے حامل اشخاص پر بہ ہتھیار دشنام طرازی باربار حملے کرنے میں  ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ اُن کا فرمان ہے کہ وہ ٹیپو سُلطان کی طرح جینا چاہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے تخلیق کاروں سمیت طالبان کی بدمعاشیوں پر بطور احتجاج ہلکی سی “چُوں” بھی نہیں فرما سکے۔ اِن سے متعلق ایک ضرب المثل یاد آتی ہے “ڈریں لومڑی سے نام دلیر خان”۔

عمران خان پر  بھی جیل کی حقیقت پوری طرح وا ہے کیونکہ اُن کے اپنے بقول  جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو پولیس نے اُن کے گھر چھاپہ مارا، والد صاحب کے علاوہ اُن کی بہن بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھیں، اور گُفتار کے “ٹیپوسُلطان” ان سب کو بدتمیزی کرتی پولیس کے رحم وکرم پر چھوڑکر دس دس فُٹی دو دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گئے کیونکہ آپ پہچان گئے تھے کہ پولیس اُنھیں صرف ہاؤس اریسٹ کرنے نہیں بلکہ جیل میں بند کرنے کے لیے لینے آئی تھی۔

5۔ یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مشرف دور میں مسلسل 6 سال بڑی بہادری سے جیل کاٹی اور فوجی حکومت کے بے پناہ پریشر کا جوانمردی سے سامنا کیا۔ اُن کے خلاف بطور سپیکر نیشنل اسمبلی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 300 افراد کو ملازمت دینے کے الزام میں، نواز شریف کے دُوسرے دور میں، نیب میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ بعد ازاں 11 فروری 2001ء میں اُنھیں پرویز مشرف کی حکومت نے اِسی الزام میں گرفتار کرلیا ۔ ستمبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اُنھیں 10 سال قید با مشقت اور دس کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ پابندِ سلاسل کردیئے گئے۔ دورانِ جیل ان کے سب بینک اکاؤنٹ سِیز کردیئے گئے۔ ان کی مالی حالت یہاں تک جا پہنچی کہ ان کے بچوں کے پاس سکول فیس تک کیلئے رقم نہیں تھی اور اِن کو ملتان میں واقع اپنے گھر کا ایک پورشن بیچنا پڑا۔ گیلانی کی جیل جانے کی خبر اُن کی والدہ سے پوشیدہ رکھی گئی تھی۔ جب اُنھیں معلوم ہوا کہ گیلانی پنڈی جیل میں ہیں تو وہ صدمے سے انتقال کرگئیں۔

6۔ جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کا نام نامی بھی اُن سیاستدانوں میں شامل ہے، جنھوں نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء بارے ایک واضح موقف اختیار کیا اور فوجی حکومت پر تنقید کی پاداش میں 6 سال تک جیل کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔ جاوید ہاشمی نے شریف برادران کی پاکستان سے غیر موجودگی کے دوران نُون لیگ کو زندہ رکھا اور ڈکٹیٹر کی بھرپور مزاحمت کی، مگر شریف برادران نے پاکستان لوٹنے پر اُن سے بے رُخی برتنا شروع کردی۔ “شرفاء” اِس سے قبل ہاشمی کی بیٹی کو جسمانی طور پر پِٹوا کر اس خاندان کی قربانیوں کا بھرپور ‘اعتراف’ بھی کرچکے تھے۔ میاں برادران نے خود پرویز مشرف کے اقتدار میں مزے لُوٹنے والوں کے ساتھ پینگیں جُھولنا شروع کردیں جبکہ مارشل لاء کے بُرے دنوں میں پُرتعیش زندگی کے مزے لینے والے چوہدری نثار علی خان کو جاوید ہاشمی کی جگہ پہلے سینئر منسٹر اور پھر اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا گیا۔

جاوید ہاشمی سرائیکی بیلٹ کی محرومیوں پر بھی کھل کر بولتے تھے جواپنے تَئیں  پنجاب کے مالک شریف برادران کو سخت ناپسند تھا (اب ہاشمی البتہ اِس سنجیدہ معاملے پر خاموش ہیں،  امکان غالب ہے کہ اُنھیں نئی پارٹی میں بھی پہلے والی صورتحال کا سامنا ہے)۔  ایک بار جب جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی میں سرائیکی صوبے کے حق میں تقریر کی تو اگلے ہی روز نواز شریف کے رشتہ دار ایم این اے عابد شیر علی نے قومی اسمبلی میں ہی اس کا جواب دیتے ہوئے پنجاب کی تقسیم کی بات کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنے اور زبان کھینچنے کی دھمکی دے کر ایک طرح سے جاوید ہاشمی کو ’شٹ اپ‘ کال دی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ عابد شیر علی نے یہ تقریر نواز شریف کے کہنے پر ہی کی تھی۔ ایک اور واقعے میں ایک مُسلم لیگی لیڈر نے جاوید ہاشمی کو نوازشریف کے سامنے بیٹھ کر گالیاں دی، مگر نوازشریف نے نہیں روکا۔ جاوید ہاشمی پارٹی کی لیڈرشپ کی طرف سے مُسلسل بے رُخی اور تذلیل کی وجہ سے بددل رہتے تھے۔ پھر بھی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ ہاشمی مارشل لاء کی صعوبتوں کے سامنےتو پورے قد کے ساتھ کھڑے رہے مگر اُس وقت بالکل ٹوٹ گئے جب اُنھیں معلوم ہوا کہ ان کے لیڈر نواز شریف نے سپریم کورٹ میں متنازعہ میمو پر پٹیشن دائر کرنے سے پہلے، اس واقعہ میں اہم کردار ادا کرنے والے ایک سینئر فوجی اہلکار سے خُفیہ ملاقات کی تھی۔ جاوید ہاشمی اپنی قربانیوں کے باوجود پارٹی قیادت کی سرد مہری سے خائف تو تھے ہی لیکن اس ملاقات سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور بالآخر اُنھوں نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔

7۔ آصف علی زرداری

آصف علی زرداری تقریباً بارہ برس جیل (عمر قید کا برابر عرصہ) بغیر کسی جُرم کے، صرف انتقامی سیاسی مقاصد کے طفیل کاٹ چکے ہیں۔ اُن کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور ‘عدل’ بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پاگئے لیکن حکومت اور افتخار چودھری سمیت تمام ججوں نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کردیا۔

اسیر زرداری پردورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے کہ کیسے انھیں ذلت آمیز طریقے سے رات بھر سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ انھیں گھنٹوں کھڑا رکھ کر ان کی آنکھوں میں مسلسل تیز روشنی ماری جاتی تھی۔ انہیں دہشت زدہ رکھنے کے لئے تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جاتے رہے، زبان اور گردن پر کٹ تک لگائے گئے۔ انھیں جیل میں ہی دل کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، مگر آصف علی زرداری فوجی اور سویلین، ہر قسم کی حکمرانوں کے تشدد کا بہادری سے سامنا کرتے رہے۔ اپنی ہر تکلیف صبر، خاموشی، شجاعت اور حُسن توازن پر مبنی عظمت ِکردار سے جھیلی اورکسی لمحے بھی خوف اور ناامیدی کو خود پر طاری نہیں ہونے دیا اور اس طرح اِس مردِ آہن نے مخالفین کو اُن کے مذموم ارادوں میں کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دِیا۔

آئی بی کے سابق سربراہ اور میاں نوازشریف کے پی ایس او کرنل (ر) محمد خان نیازی کا اعتراف تاریخ کا حصَّہ ہے، جس میں انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ نواز شریف اور سیف الرحمٰن نے ان سے کیسے قانون شکنی کروائی۔ کراچی جیل میں تشدد کے واقعہ کو آصف زرداری کے قتل کی کوشش کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ سی آئی اے کے شواہد سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ زرداری کو جانی نقصان پہنچایا جانا مقصود تھا۔ الغرض ہر دور کے حُکمرانوں نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو تنگ کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ بغیر کسی واضح الزام کے ان کے بنک اکاؤنٹس تک سیز کردیئے گئے۔ محترمہ بےنظیر بھٹو صبح راولپنڈی کی عدالت میں ہوتیں تو دوپہر کو لاہور اور دوسری صبح کراچی میں پیشی بھگت رہی ہوتی تھیں۔ جب محترمہ بےنظیر بھٹو بچوں کے ساتھ اپنے خاوند سے ملاقات کے لیے جیل میں جاتی تھیں تو انھیں اکثر جیل کی ڈیوڑھی میں سخت گرمی اور تپتی دھوپ میں فٹ پاتھوں پر بٹھا کر طویل انتظارکروایا جاتا۔

آصف علی زرداری اپنی اولاد کے بچپن کا دور تک دیکھنے سے محروم رہے۔ بچوں کا ساتھ تب نصیب ہوا جب وہ اپنی نوعمری کی دہلیز پار کر چکے تھے۔ اِن بچوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد زیادہ وقت انھیں صرف جیل میں ہی دیکھا تھا۔ ہر ملاقات پر معصوم بچے انجانے میں ان سے اِصرار کرتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ گھر چلیں۔ چھوٹی بیٹی آصفہ تو اکثر پوچھا کرتی کہ وہ دوسرے بچوں کے بابا کی طرح ان کے ساتھ گھر میں کیوں نہیں رہتے؟۔ اور جج انھیں جیل کی چھوٹی سی کوٹھڑی سے رہا کیوں نہیں کرتے؟  ایک دن تو ننھی آصفہ ضِد کر بیٹھی کہ وہ اپنے بابا کو ساتھ لے کر جج کے پاس جائے گی اور اس سے خود لڑائی کرے گی کہ وہ اس کے بابا کو گندی سی اس جگہ سے رہا کیوں نہیں کرتے۔ معصوم آصفہ اپنے بابا سے بار بار پُوچھا کرتی کہ آخر جج صاحب کو احساس کیوں نہیں کہ ہمیں بھی اپنے بابا کی ضرورت ہے؟

بعد میں بچے کچھ بڑے ہو کر باتوں کو سمجھنا شروع ہو گئے۔ اور ان کو بھی  معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے بابا کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہو رہا ہے؟

آصف علی زرداری  نے قید کے دوران اپنے آپ کو شیر کہلانےکے شوقین نوازشریف اور  ان کے احتساب سیل کے انچارج سنیٹر سیف الرحمٰن کی طرح صنف ِلطیف ایسے احساسات سے مغلوب ہو کر آنسوبھری آنکھوں کے ساتھ گلوگیری انداز  کبھی نہیں اپنایا۔   دیکھنے والوں نے  اُنھیں جب بھی دیکھا ،وہ ہر وقت  اپنے چہرے پر مسکراہٹ  لئے ہوئے ملے۔  وہ قید کے دوران کبھی ڈرے نہیں اور نہ  ہی اللہ کی رحمت سےمایوس ہوئے بلکہ ہمیشہ پُراُمید رہے۔ انھوں نے  کٹھن ترین  مراحل کو ہمیشہ مُثبت انداز میں لیا۔  نومبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت میں پیشی پر صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے قید کے دوران کیا کھویا اور کیا پایا تو انہوں نے کہا کہ “قید میں جوانی تو گئی،  لیکن سیاسی تدبر،  حالات کو سمجھنے کی صلاحیت،  اچھے دوست اور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے”۔

پرویز مشرف کے دور میں جب ایک بار آصف علی زرداری کو جیل سےراولپنڈی عدالت میں پیشی پر لایا گیا تونوازشریف کے دوسرے دورِحکومت کے اِحتساب  سیل کے سابق چیئرمین  سیف الرحمٰن کوبھی  ہتھکڑیوں میں  وہاں لایا گیا  تو اُس نے جیسے ہی  آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن  کے قدموں میں  گرگیا اور  گِڑ گڑا کر معافیاں  مانگنے لگا،  وہیں سیف الرحمٰن کی ماں بھی موجود تھیں ، انھوں نے بھی معافی کی درخواست کی تو زرداری نے کوئی گلہ کئے بغیر اُسے فوراً معاف کردیا۔ یاد رہے  یہ وہی  سیف الرحمٰن  تھا،  جس نے  محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کئے،  جو نوازشریف کی خواہش پر شہباز شریف کے ساتھ مل کر ججوں کو فون کر کے ان کو زیادہ سے زیادہ سزا دِلوا کر عبرتنا ک مثا ل بنانا چاہتا تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیڈروم کی ویڈیوز بنانے تک   کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ سیف الرحمٰن کے بارے میں میاں شہباز شریف خود انکشاف کر چکے ہیں کہ کیسے سیف الرحمٰن لاہور میں ایک عدالتی پیشی کے دوران آصف علی زرداردی کو قتل کرنے منصوبہ بنا چکا تھا۔

اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہئے کہ جب آصف علی زرداری کراچی جیل میں بند تھے تو اُنھیں پابند سلاسل کرنےکا ذمے دار اور سب سے بڑا کردار میاں نوازشریف خود روتے دھوتے وہیں آن قیدی بنا۔ اور اس زودِ پشیماں نے نوید چوہدری کو معافی کی درخواست کا پیغام دے کر آصف علی زرداری کے پاس بھیجا ۔ زرداری پیغام سُن کر مُسکرائے اور لمحہ بھر کو سوچے بغیر نوازشریف کو معاف کردیا۔ یقین جانئے کہ آصف زرداری کی جگہ کوئی بھی دوسرا ہوتا، وہ مرحوم پیر پگاڑا کےمیاں محمد نواز شریف سے متعلق ایک ثابت شدہ قول کی سچائی پر کم از کم ایک بار ضرور غور کرتا کہ “یہ جب کمزور ہوتا ہے تو پاؤں پکڑ لیتا ہے اور جب طاقت ور بن جاتا ہے تو گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے”۔

آصف علی زرداری کو ہر حکمران نے جھکانے اور توڑنے  کی بھرپور کوشش کی۔  زرداری کو جھکا کر یہ حکمران محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنی  مرضی کی شرائط  پرمعاملات   طے کرنا چاہتے تھے۔ مگر وہ  آبرو مندانہ استقلال کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے رہے ۔ زرداری ساری عمر دکھ جھیلتے رہے ،  زخم سہتے رہے  اور صبر کرتے  رہے۔ کیسز بنانے والے تینوں بڑوں غلام اِسحٰق خان، نوازشریف اور پرویزمشرف کے اعترافات ریکارڈ پرہیں کہ کیسز جھوٹ بنائے گئے۔ مگر زرداری نےکبھی  شکوہ سنجی اور برہمی کا اظہار نہیں کیا۔حتٰکہ اپنی عظیم بیوی کی شہادت کے بعد بالکل صبر اور خاموشی کے ساتھ تابوت اٹھا کر گڑھی خدابخش لے گئے۔  جیلیں بھلا دیں۔ قتل فراموش کر دئیے۔ ہر ظلم اور زیادتی کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی جوانی کا قیمتی دور جیلوں، عقوبت خانوں اور تنگ و تاریک قلعوں کی نظر کر دیا۔ زرداری نے قیدوبند کے اس طویل اور صبرآزما دور میں ایسے مثالی استقلال کا مظاہرہ کیا کہ دائیں بازو کی صحافت کا بااثر ترین کردار، خاندانِ شریفاں کا قریبی تعلق دار اور پیپلز پارٹی کا  نظریاتی طور پر مخالف ترین شخص مجید نظامی بھی عش عش کر کے زرداری کو ”مَردِحُر” کا خطاب دینے پر مجبور ہوگیا۔  بعد ازاں گلہ کرنے پر مجید نظامی کی طرف سے میاں نوز شریف کو دیا گیا یہ دندان شکن جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ “میاں صاحب، اگر آپ معاہدہ کرکے ملک سے فرار ہونے کی بجائے زرداری کی طرح صعوبتوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت دکھاتے تو تب میں آپ کو مردِ حُر سمجھتا”۔

بشکریہ دی سپوکس مین، 14 جنوری 2014ء

http://thespokesman.pk/index.php/opinion/opinion/item/7464-2014-01-10-10-48-32 

پاکستانی سیاست میں موقع پرستی کا عروج

تصویر

تحریر: امام بخش

یہ بات اب بالکل واضح ہو گئی ہے کہ”صادق وامین” فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ پاکستان پیپلزپارٹی سے جان چھڑانے کے لیےاپنےمن پسند ابنِ الوقت قسم کے جمورے وجود میں لاتی رہی ہے ۔ 1988ء میں الیکشن سے قبل صادق و امین فرشتوں کا خیال  تھا کہ پی پی پی الیکشن جیتنے  کے بعد اس کے ساتھ کی گئی سب زیادتیوں کا بدلہ لے گی۔ پی پی پی کا راستہ روکنے کے لیے بہت ہی  منظم  انداز میں دھاندلی ترتیب دی  گئی۔ ایجنسیوں  نے میڈیا کے کرتادھرتوں کو خریدا اور بے تحاشا پراپیگنڈا، من گھڑت اور اخلاق سے گرے ہوئے افسانوں کا طوفان برپا کردیا جو آج تک جاری ہے۔

گو کہ اس وقت وطن عزیز میں  ابن الوقت جموروں کی ورائٹی  موجودہے مگر پاکستان کی تاریخ میں صادق وامین فرشتوں کے سب سے زیادہ لاڈلےہمیشہ میاں محمد نواز شریف رہے ہیں۔ میاں نوازشریف نے  1981ء سے لے کر 1988ء تک  پاکستان میں ان گنت مکروہات کے  موجِد یعنی حقیقی  صادق وامین ضیاءالحق کی معنوی پسری میں رہ کر” اصولوں” پر چلنے کے سارے سبق ازبر کرلیے تھے جن پر وہ آج تک عمل پیرا ہیں۔

ضیاءالحق کے جانے کے بعددور اندیش میاں محمد شریف  نے اپنے پاس صرف ایک بیٹا  (میاں عباس شریف) رکھ کر  دو بیٹوں کو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان  کے پاس لے گئے اور کہا کہ میرے دو بیٹے  آپ کے حوالے اورآج سے  آپ ان کے  روحانی باپ۔

سردوگرم چشیدہ  سیانےمیاں محمد شریف کے طریقہ واردات  کے بارے میں ڈاکٹر مبشر حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ”  ایک شام وزیراعظم  پاکستان (نوازشریف) اور ان کے والد محترم نے لاہور میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کوعشائیہ دیا ۔ شہر اور حکومت کے معتبر ترین حضرات موجو د تھے۔ جنرل نواز اور میاں شریف کی گفتگو کے دوران میاں صاحب نے اپنے دونوں پسران نواز اور شہباز کو طلب کیا اور جنرل صاحب سے کہا کہ وہ  ان دونو ں کو جنرل صاحب کے سپرد کرتے ہیں اور جنرل صاحب جو ہدایت کریں گے برخورداران اس پر عمل کریں گے”۔ عشائیہ کے اختتام سے پہلے وزیراعظم نے اپنے ملٹری سیکریٹری کو جنرل صاحب کے پاس بھیجا اور کہا کہ ڈنر کے بعد وہ کچھ دیر ٹھہر جائیں لیکن جنرل صاحب نے ملٹری سیکریٹری کو جواب دیا کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

میاں برادران  کے سیاست میں آنےاور ترقی در ترقی کے مظاہرات کے  بعد پاکستان کی  سیاست میں نظریات پر کاربند رہنے کی بجائے  ابن الوقتی کے اصولوں پر چلانے کا وائرس باقی   سیاست دانوں  میں بھی  بُری طرح پھیل چکا ہے۔  جب کسی پارٹی کا حکومت میں آنے کا تاثر پیدا ہو جاتا ہے تو لوٹوں کا رُخ اُسی پارٹی کی طرف ہو جاتا ہےاور پارٹی کے سربراہ بھی اِسی طرزِسیاست پر یقین رکھنے والے ہوں تو ٹرانزیشن کے تمام مراحل آسا نی سے طے ہوجاتے ہیں۔

عمران خان  بھی ابن الوقتی وائرس کا شکار سیاست دان ہے۔ ان کو سمجھنے کے لیے مردِمومن کے سیکرٹری اطلاعات،  جنرل مجیب الرحمان کی بات  ذہن میں رکھی  جائے ،جس  کے مطابق  اس نے 1996ء میں اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش پر عمران خان کو سیاست کے میدان میں اتارا تھااوردعوٰی کیا تھا کہ “عمران خان میری پروڈکٹ ہے اور میری پروڈکٹ کبھی ناکام نہیں رہتی”۔

ہمیں  عبدالستار ایدھی ایسے فقیر منش آدمی کی گواہی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کیسے کپتان صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے عبدالستار ایدھی  کو اپنے ساتھ ملانے کی خاطرخفیہ اداروں کے حواریوں کے ساتھ آکردھمکایا کرتے تھے؟

اگر ہم عمران کے بارے میں ساری باتیں بھول جائیں  تب بھی ان کے اتالیق محترم ہارون الرشید صاحب کے حالیہ اعتراف کو کیسے بھولیں جس میں وہ اب بھی فرماتے ہیں کہ “میں پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے دنوں میں عمران خان کو سمجھاتارہا کہ پرویز مشرف تمھیں دھوکہ دے رہا ہے اور یہ شخص تمھیں کبھی بھی وزیراعظم نہیں بنائے گامگر خان صاحب اپنی دُھن میں لگے رہے اور ہرگز نہ مانے”۔

شریف برادران تو پہلے ہی اپنے قول وفعل  کی باکمال ساکھ رکھتے ہیں مگر اب لگتا ہے کہ بات بات پر بڑھک مارنےوالے عمران خان اُن کا  ضرورریکارڈ توڑنے والے ہیں۔ انھوں نے پچھلے  دنوں فرمایا ہے  کہ” پرویز مشرف کو آئین توڑنے کی سزا  میرا  نہیں نون لیگ کا  مسئلہ ہے”۔  آکسفورڈ سے  تعلیم یافتہ 61سالہ بزرگ  اور “نئے پاکستان ” کے بانی اُمیدوار “سُونامی”  کا کیا وژن ہے۔سبحان اللہ!

آصف علی زرداری نامی “قابلِ نفرین” شخص نے  صادق وامین  فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے  اسٹیبلشمنٹ نے اپنے طریقہ واردات، تراکیب اور فیصلے بدلنے کی رفتار  بڑھا دی ہے ،جس سے معصوم  ابن الوقتوں کو  خوامخواہ میں فُٹ بال بننا پڑتاہے۔  جیسے ہی مخصو ص اِشارے ملتے ہیں  تو ان “نظریاتی” سیاستدانوں میں دوسری پارٹی میں جانے کے لیے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ اور یہ ابن الوقت فرط یقین کے آسیب کے زیراثر ان اِشاروں پر فی الفور عمل کرناشروع کردیتے ہیں اوراپنے آپ کے علاوہ  اپنی لبالب بھری  تجوریاں بھی  بڑے اِبن الوقت کے حوالے کردیتے ہیں۔

جمورا پارٹیوں میں نئے  آنے والے   سیاست دانوں  کےماضی کاکردار ، نظریات ، خلوص، بے لوثی اور سیاسی شعور ہرگز نہیں دیکھی جاتی،صرف اور صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ فائدہ کتنا ہو گا۔ اِسی اصول کے تحت اس وقت مُشرف کے علاوہ سب ڈکٹیرز کی اولادیں  مسلم لیگ (ن )میں  ہیں۔ قوی امید ہے کہ اگر نون  لیگ نے مشرف کو اپنی پارٹی میں نہ  بھی لیا تو اس کے بیٹے یا بیٹی کو مُستقبل میں ضرور اپنائے گی۔ ویسے بھی پرویز مشرف جو شریف برادران کے دس سالہ ایگریمنٹ پارٹنر رہے ہیں، ان کی پارٹی کے 99  فیصد سیاست دان اپنی “مادرپارٹی” میں واپس لے چکے ہیں ۔ حالانکہ میاں نواز شریف نے بذات خودجدہ اور لندن میں اپنے ملنے والوں صحافیوں کے سامنے قسمیہ وعدے اور دعوے کیے تھے  کہ وہ اب اصولوں کی سیاست کیا کریں گے۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تُھوک کر چاٹنے کے مترادف ہوگا۔ یہی ایک مثال  میاں صاحب کے قول و فعل اور اصول پسندی کا اعلیٰ شاہکار ہے۔

تحریک انصاف پر ایک نظر ڈالنے سے  بھی اچھی طرح پتہ چل جاتا ہے کہ اس پارٹی میں کس قماش کے سیاست دان بیٹھے ہیں جو پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو پیچھے دھکیل کر فرنٹ لائن پر براجمان ہیں۔

پچھلے دنوں  وقتِ موجود کی سیاست پرپوری دسترس رکھنے والے سیاست دان ارباب خضرحیات نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی سیاست کا  نچوڑ پیش کرتے ہُوئے فرمایا ہے کہ “سیاست نظریات کا نہیں بلکہ طاقت کا کھیل ہے اور جب سیاست دان کسی پارٹی کو مشہور ہوتا دیکھتے ہیں تو وہ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں”۔ یا د رہے کہ ارباب نے 1996ء  میں اپنے سیاسی کیرئیر کی شروعات کے بعد سے اب تک چودہ مرتبہ پارٹیاں تبدیل کی ہیں۔ آج کل ارباب خضرحیات نون لیگ  میں ہیں۔

بات صرف  ارباب خضرحیات تک نہیں رُکتی۔  جمورا پارٹیوں میں لگتا ہے ہر چھوٹا بڑا سیاست دان “ارباب خضرحیات سکول آف تھاٹ”  پر دلجمعی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ مثال کے طور پر نواز شریف  کے جدّہ جانے کے  بعد نون لیگ سے ق لیگ میں جانے والوں کے اپنے لیڈر کے خلاف اگر  بیانوں کو جمع کیا جائے تو ایک طویل “ہیر” بن جائے۔  ان دنوں  چوہدری  نثارتک،جو ایک دور میں تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے پر تول چکے تھے، یار دوستوں میں بیٹھ کر فرمایا کرتے تھے کہ’یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایک نابالغ دماغ اور بھگوڑے کی قیادت میں اپنی سیاست جاری رکھوں، میں شہباز شریف کے ساتھ تو کام کرلوں گا لیکن میاں نوازشریف کے ساتھ کام کرنے کی بجائے سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا۔’ اور آج کل چوہدری نثار عمران خان کو کن القابات سے نوازتے ہیں،   کچھ پوشیدہ نہیں۔

بزرگ صحافی ہارون الرشید نے پچھلے دنوں اپنے کالم میں پرائز بانڈ والی سرکار  خواجہ سعد رفیق  کے ماتم ، نون لیگ کو چھوڑنے اور تحریکِ انصاف جوائن کرنے کے تمام مراحل طے ہونے کا ذکر کیا ہے۔ جوکہ آخری وقت پرپارٹی چھوڑنے کے اپنے ارادے پربوجہ عمل نہ کرسکے۔آج کل خواجہ سعد رفیق   سے تحریک انصاف کے بارے میں پوچھیں تو بے نقط  تنقیدکے انبار لگا دیں گے۔

پاکستان کے بزرگ اور ایک نامی گرامی سیاست دان جاوید ہاشمی، نون لیگ میں ہوتے ہوئے نوازشریف کو پاکستان کا  سب سے بڑا لیڈر گردانتے تھے۔ حتیٰ کہ انھوں نے  نون لیگ کو چھوڑنے سے ایک ہفتہ قبل  کہا کہ ‘میں قسم کھاکر کہتا ہوں، کوئی بندہ پاکستان کو بچا سکتا ہے تو وہ صرف نواز شریف ہے’۔ حال ہی میں دانشور ایاز امیر نے نون لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پراپنی قیادت کا اگلے ہی دن جو ‘آپریشن ‘ کیا ہےوہ  نون لیگ  کی لیڈرشپ اوراس جماعت میں موجودباقی سیاست دانوں کی اصول پسندی اور نظریات جاننے  کے لیے کافی ہے۔ آج کل ایاز امیر “اصولی طور” پر تحریک ِ انصاف کی حمایت کر رہےہیں۔

اگر اسٹیبلشمنٹ نے 11 مئی کو الیکشن میں ایک بار پھر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور کامیابی کا  قرعہ نون لیگ کے نام کا نکالا تو کچھ بعید نہیں کہ سُونامی کا سارا زور نون لیگ میں سما جائےاور خان صاحب اصغر خان کا رول نبھاتے ہوئے تاریخ کا حصّہ بن جائیں۔

حرف آخر یہ کہ طالبان ، عدلیہ اور میڈیا کی بھرپور حمایت کے باوجودمیاں برادران اور عمران کی طرزِ سیاست کے ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی، ایاز امیر، چوہدری نثار اور سعد رفیق جیسے سیاست دانوں کی مثالوں کے بعد نون لیگ اور تحریک انصاف  کی ابن الوقتی پر مبنی ہیئتِ مجموعی عوام سے اب ہرگزپوشیدہ نہیں رہی۔

کیا عوام ووٹ ڈالتے ہوئے اِن مفاد پرست اِبن الوقت سیاست دانوں سے نپٹے گی؟

 

بشکریہ  ٹاپ سٹوری آن لائن، 10مئی2013ء

http://www.topstoryonline.com/imam-bakhsh-blog-130510