Category Archives: پریس کانفرنس

پیپلز پارٹی کی پنجاب کی سطح پر ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے بعد صدر پی پی پی وسطی پنجاب قمر زمان کائرہ کی پریس کانفرنس

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ کورونا کے معاملے پر وفاقی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔

قمر زمان کائرہ نے پیپلز پارٹی پنجاب کے تحت ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پہلے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی، اب اور باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت گڈز ٹرانسپورٹ چلنے نہیں دے رہی، حکومتِ سندھ نے پہلے دن سے ہی گڈز ٹرانسپورٹ کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ کیا ہوا ہے۔

ویڈیو لنک پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں جبکہ حکومت فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس صوبے کی سطح پر تھی، جس کا مقصد سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کو اکھٹا کرنا تھا، اس سے قبل پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرچکی ہے، جس پر ساری جماعتوں نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے، اور سندھ حکومت کی کرونا کے خلاف حکمت عملی اور اقدامت کو سراہا ہے، انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ حکومت ناکام ہوچکی ہمیں اپنے فرائض سر انجام دینے میں، اے پی سی میں اس بات کا فیصلہ ہوا ہے کہ ہر دس بارہ دن بعد ایسی ایک اے پی سی ہوگی، جس کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں، اور اگر کوئی اور جماعت دعوت دے گی تو ہم اس میں شامل ہوں گے۔ اے پی سی نے حکومت کے ناقص اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔

صدر پیپلز پارٹی پنجاب قمر زمان کائرہ نے یہ بھی کہا کہ اس سوچ اور طرزِ عمل کے ساتھ کورونا سے نہیں نمٹا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا بحران میں وفاقی اور پنجاب حکومت قومی رسپانس دینے میں ناکام رہی ہے،حکومت متبادل روزگار فراہم کرنے کی بجائے معاملات کو متنازع بنارہی ہے،ٹائیگر فورس پی ٹی آئی کی سیاسی فوج ہے، ہم اس کو سیاسی احتجاج میں دیکھ چکے ہیں،تمام سیاسی جماعتیں ٹائیگر فورس کو مسترد کرچکی ہیں،ٹائیگر فورس کی بجائے مقامی حکومتوں کو بحال کریں، محلہ کمیٹیاں بنائیں،سندھ حکومت نے لیڈرشپ فراہم کی ہے، اہم فیصلے کئے ہیں، جس کو باقی صوبے فالو کررہے ہیں، عمران خان لاک ڈاؤن میں پھنس چکے ہیں، مرکزی اور پنجاب حکومت نے پنجاب کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔

قمر زمان کائرہ نہ کہا کہ سیاست نہ کرنا آمریت کی زبان ہے، ہم سیاست کریں گے، مگر منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو اقدامات پیپلز پارٹی، اور سندھ حکومت نے کئے ہیں وہ وفاقی حکومت کے کرنے کے تھے، انہوں نے کہا کہ عمران خان خلاف حقائق بات کررہے ہیں، انہوں نے قوم سے چار خطابات کئے ہیں، اور قوم سے خطابات کے خاص مقاصد ہوتے ہیں، ان خطابات میں وہ مقاصد نظر نہیں آئے، ایک طرف وہ لاک ڈاؤن کی مخالفت کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ گھر سے باہر نہ نکلیں، ملک کے اندر دکانیں بند ہیں، فیکٹریاں بند ہیں، کاروبار بند ہیں، جب یہ صورت حال ہے تو پھر دیہاڑی دار اور مزدور کو کام کیسے ملے گا؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کو بتایا کہ ہم نے پہلی میٹنگ پندرہ جنوری کو کی، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پہلی میٹنگ تین جنوری میں کی تھی، مگر اب تک کیا کرنا ہے اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے، سندھ حکومت نے فروری میں کرونا کیخلاف اقدامت شروع کئے تھے، اور آج سب سے آگے ہے۔
این ڈی ایم اے اپنے طور پر چین اور بیرونی دنیا سے رابطہ کررہا ہے، جس کی وجہ سے چین سے امدادی سامان پاکستان پہنچا ہے، کہاں ہے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی پالیسی اور کارکردگی؟

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فی الفور بلدیاتی ادارے بحال کرے جو کرونا وائرس کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گے،کرونا کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہیے، زائرین ہوں یا تبلیغی جماعت، جو بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں یہ آفت پر قابو کرنے کے بعد احتساب ہونا چاہیے ،وزیراعلی بلوچستان کہہ چکے ہیں، زائرہن کے مسئلے پر کسی نے انہیں سپورٹ نہیں کیا،ہم آج بھی لاک ڈاون مزید سخت کرنے کے حق میں ہیں،کورونا پر حکومتی اداروں کے درمیان باہمی کوآرڈینیشن نہیں ہے، ہر کوئی اپنے فیصلے کررہا ہے،سندھ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء کو اعتماد میں لے کر مساجد، امام بارگاہوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کی۔

انہوں نے کہا کہ وبا ء کے حوالے سے وزیراعظم کی تمام تھیوریز ناکام ہوئیں ، اگلے دو مہینوں میں وبا ء کے پھیلنے کا بہت خطرہ ہے،گجرات اور اس کے گردونواح میں باہر سے آنے والوں کی وجہ سے وبا ء پھیل رہی ہے ،وزیراعظم کی کنفیوزن ملک کے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے،مزدوری اور دیہاڑی تو دو ہفتوں سے ختم ہو چکی ہے ۔

انہوں نے حکومت کے 665 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کے لئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو در حقیقت برآمد کنندگان کا ہے جو انہیں ایڈوانس ٹیکس کے طور پر ادا کیا گیا تھا۔

اسی طرح ، انہوں نے کہا ، حکومت نے 100 ارب روپے کے قرضوں کو ملتوی کردیا ہے ، جس کا پھر سے سرکاری آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گندم کی خریداری کے لئے 260 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو ایک مستقل عمل ہے ہر سال حکومتیں کرتی ہیں اور اسے کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کے طور پر 75 ارب روپے کا اندازہ لگایا ہے ، جو حقیقت میں 250 ارب روپے ہے لہذا حکومت کو عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تین ہزار سے پانج ہزار روپے تک کے یوٹیلیٹی بلوں کو موخر کیا ہے کیونکہ یوٹیلیٹی بلوں کی سادہ موخر کرنا کافی نہیں ہے ، کیوں کہ صارفین کو تین ماہ بعد اسے ادا کرنا پڑے گا۔

حکومت نے مزدوروں کے لئے 200 ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دی گئی ہے۔ اس میں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ فیکٹریوں میں کتنے مزدوروں میں یہ رقم تقسیم کی جائے گی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔ زراعت اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ یومیہ اجرت دہندگان کے لئے ایک سو پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں لیکن ملک میں روزانہ اجرت دینے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ حکومت کے پاس تقسیم کا کوئی طریقہ کار دستیاب نہیں ہے۔ اس سارے پیکج میں حکومت کیا حصہ ڈال رہی ہے؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند ہیں، پرائیوٹ ہسپتال اورکلینک بند ہونے ہونے کی وجہ سے مریضوں کے لئے بہت مشکلات اور مسائل ہیں، حکومت ان کو فی الفور کھولے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پاورٹی سکورنگ کارڈ کو بڑھانے سے پچاس لاکھ لوگ مزید اس پروگرام میں شامل ہوجائیں گے۔ اور لو گوں کو پیسے کیش کی صورت میں دیں، انہوں نے وزیراعظم کے ریلیف پیکج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف پیکج میں دیہاڑی داروں میں امداد کیسے قسیم ہوگی اس کا کوئی میکنزم نہیں رکھا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف فنڈ میں یوٹیلٹی سٹورز کے لئے رکھے گئے پچاس ارب کا سامان عوام میں مفت تقسیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کا ایشو ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ تبلیغ پہ گئے وہ بڑے نیک لوگ ہے بہت اچھے لوگ ہے ہم ان کے ساتھ ہے وہ پاکستان کے لئے ، دنیا بھر کے لئے امن مانگنے والے ہیں لیکن جہاں لوگ اکھٹے ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ وباء پھیلی ہے اس کے کئے کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اس کی اس جماعت کو الزام دینا انکے مراکز کو الزام دینا یہ نہیں ضرور ی بعد میں دیکھیں گے کون کس کا زمہ دار تھا آج ہم سب کو ملکر کرونا کے خلاف یکجہتی سے جنگ لڑنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آفت پر قابو پانے کے بعد کورونا وائرس سے جو بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر احتساب ہونا چاہیے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ہم نے اے پی سی کے لئے تحریک انصاف کو بھی دعوت دی تھی، تاکہ وہ اپنا موقف پیش کرسکے، ہمارا مقصد حکومت پر محض تنقید کرنا نہیں، بلکہ مثبت رائے اور تعمیری تجاویز دینا ہے، اور ہم اپنی رائے دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کرونا کے خلاف اقدامات بہت تاخیر سے لئے گئے،پنجاب حکومت پنجاب اسمبلی کو اعتماد میں لے،سپیکر پنجاب اسمبلی کا ویڈیو لنک اجلاس بلائے،اگر پنجاب اسبملی کا اجلاس ممکن نہیں تو پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلایا جائے،پنجاب حکومت مجبوری میں سندھ حکومت کو فالو کررہی ہے۔

قبل ازیں، پیپلزپارٹی پنجاب کے زیر اہتمام وڈیولنک پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی کی میزبانی پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ ، جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد اور سیکرٹری اطلاعات سید حسن مرتضیٰ نے کی، اس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا ثناءاللہ خان ، اویس لغاری اور عطا تارڑ شریک ہوئے، پیپلزپارٹی کے اسلم گل،ملک عثمان ڈاکٹر خیام حفیظ اور عاصم بھٹی نے شرکت کی، مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا اور لیفٹ فرنٹ کے فاروق طارق بھی اے پی سی میں شریک ہوئے، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر جاوید قصوری اے پی سی میں شریک ہوئے،عوامی نیشنل پارٹی کے منظورخان اور جے یو آئی ف کے ڈاکٹر عتیق الرحمن شریک ہوئے، اور عوامی ورکرز پارٹی کے عمار رشید اور برابری پارٹی کے جواداحمد نے بھی اے پی سی میں شرکت کی اور خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی میزبانی میں بذریعہ ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس میں منظور شدہ قراردادیں

کراچی / لاہور

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی مشترکہ زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس میں حصہ لینے والے تمام سیاسی رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی جانب سے کورونا وائرس کی وباء کے معاملے پر قومی لائحہ عمل تشکیل دینے کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہا۔ چیئرمین بلاول اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ویڈیو کانفرنس میں تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا، اور میاں شہباز شریف کے اظہارِ خیال کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اجلاس کو ان اقدامات کے متعلق بریفنگ دی جو اس لڑائی میں آگے درکار ہوں گے۔ جن رہنماوَں نے شرکت کی ان میں مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی، حماعت اسلامی کے سراج الحق، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو، بی این پی کے سردار اختر مینگل، کیو ڈبلیو پی کے آفتاب شیر پاؤ، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری، اے این پی کے میاں افتخار، جے یو آئی-ایف کے عبدالغفور حیدری، پی کے ایم اے پی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ، پاکستان پیپلز پارٹی سے مراد علی شاہ ، راجہ پرویز اشرف ، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر اور مسلم لیگ (ن) سے ایاز صادق اور مریم اورنگزیب شامل تھے۔
پہلے قدم کے طور پر اے پی سی نے اس عالمی وبائی مرض کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں پر مبنی اس طرح کی کانفرنس حکومت کو طلب کرنی چاہیئے تھی اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع نیشنل ایکشن پلان مرتب کرنا چاہئے تھا۔ یہ قوم کے لیئے باعثِ تشویش صورتحال ہے اور تمام سیاسی رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متحد ہوکر صورتحال کے پیش نظر جنگی بنیادوں پر کوششیں کریں گے ، جبہ فیصلے کرنے میں ایک دن کی تاخیر کا نقصان قیمتی جانوں کے ضیاع کی شکل میں بھرنا پڑ سکتا ہے۔
حفاظی تدابیر کے پیغامات معاشرتی رجحانات میں تبدیلی کے لیئے اہم ہیں، اور وفاقی قیادت تمام وسائل بشمول نجی ٹی وی چینلز اور مذھبی علماء کو قومی سطح پر اپنے ساتھ شامل کرکے ان کے منبروں کو انسانی جانیں بچانے والے بچانے والے پیغامات کو وسعت دینے کے لئے بروئے کار لائے۔قیادت نے ایک نیشنل ٹاسک فورس کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں۔ فوری اقدامات میں ہیلتھ سیکٹر ایکشنز ، اکنامک مینجمنٹ اور پبلک میسجنگ شامل ہوں، جو عوام کے ساتھ ساتھ لڑائی کی پہلی صفوں میں موجود طبی عملے کی حفاظت کے لیئے تمام پلیٹ فارمز استعمال کرے۔ ڈاکٹر اسامہ جیسے بھادر ڈاکٹروں کی اعلی سول ایوارڈز کے ذریعے حوصلہ افزائی انتھائی ضروری ہے، اور سب سے پہلے پوری میڈیکل کمیونٹی کو حفاظتی لباس فراہم کیئے جانے چاہیئیں۔

کانفرنس میں شریک اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قائدانہ کردار کی کمی کی مذمت کی، اور مطالبہ کیا کہ صوبوں سے لے کر بلدیاتی اداروں تک ہر سطح پر حکومت کی جانب سے کرائسس مینیجمینٹ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جس میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہو تاکہ پاکستان سمیت پوری انسانیت کو لاحق خطرے سے نبٹا جائے۔ امدادی کاموں کے لیئے بلدیاتی اداروں کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں، جبکہ مخیر حضرات اور رضاکارانہ خدمات کو بھی بروئے کار لایا جائے۔
کانفرنس نے یک آواز و متفقہ طور سندھ حکومت کی کاوشوں اور وزیراعلیٰ کی فعال قیادت کی تعریف و توصیف کی۔ سندھ کے مطالبات کی تمام رہنماؤں نے حمایت کی، جن میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مؤثر قومی لاک ڈاؤن پر فوری طور پر عملدرآمد کرنا شامل تھا، کیونکہ پورے ملک کی شمولیت اور ہم آہنگی کے بغیرایک صوبہ اپنے طور پر موثر انداز میں روکتھام نہیں کرسکتا۔ اس میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ بشمول ریلوے سروس کو فوری طور پر بند کیا جانا شامل ہے۔ ناگذیر حالات یا ضرورت کی صورت میں نجی ٹرنسپورٹ کھلی رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تاہم ، اگر وفاقی حکومت اس کو مسلط نہیں کرسکتی ہے تو اسے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔ لاک ڈاؤن ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافے، بیڈ، وینٹیلیٹرز، آئی سی یو کی سہولیات ، پی پی ای ، اور آئیسولیشن سینٹرز کے فعال ہونے سے منسلک ہونا چاہئے۔

انتھائی غریب لوگوں کو فوری تحفظ / کفالت ملنا چاہئے۔ مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانا ضروری ہیں: سب سے زیادہ خطرے کی نشاندہی کرنے کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور انسدادِ غربت پروگرامز کے ڈیٹا کو انتھائی غریب افارد کی نشاندھی کی لیئے استعمال کرنا چاہیے۔ ہر خاندان کو 15000 روپیہ دیئے جائیں۔ سندھ نے ایسے 40 فیصد خاندانوں کی نشاندھی کی ہے جنھیں ایسی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح کی ترسیل کو تیزی سے جاری رکھنے کے لئے، صوبوں کو دیگر ممالک اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے براہ راست بات چیت کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

متاثرہ مریضوں کا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہیلتھ سروسز کی گنجائش کو بھی بڑھایا جائے۔ حکومت کے زیر انتظام قرنظینہ مراکز میں مریضوں کا علاج کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ صلاحیت، ٹیسٹنگ کٹس، اور طبی ماہرین کی فوری ضرورت ہے۔ 5000 روپے تک کے بجلی کے بلز اور 2000 روپے تک کے گیس کے بلز کو ریاست کو ادا کرنا چاہئے، جیسا کہ سندھ نے اعادہ کیا ہے۔ معاشی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیئے انٹریسٹ ریٹ کی شرح کم کرنے کی ضرورت ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کو سندھ تک بڑھایا جائے۔تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ لاک ڈاون اور سوشل ڈسٹینسنگ اس بیماری کو روکنے کے لیئے بہت اہم ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
تمام جماعتوں نے میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباوَ کے ماحول اور آزادی اظہار رائے کی پابندیوں بشمول نیب کے ہاتھوں میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کی، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے۔ اجلاس میں میڈیا کے تمام واجبات کو فوری بنیادوں پر ادا کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ وہ ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے مؤثر انداز سے اپنا کردار ادا کرسکے۔

پنجاب حکومت سے کورونا نہیں سنبھالا جا رہا تو وزیراعلی سندھ کی خدمات لے لیں، قمر زمان کائرہ

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کرونا پر ہم قوم کے مفاد میں مثبت سیاست کریں گے۔ سیاست عوامی مسائل کے حل کا نام ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت متاثرین کا ڈیٹا ہم سے شیئر کرے۔ اس طرح ہم حکومت کو بہتر تجاویز دے سکیں گے۔

قمر زمان کائرہ نے پی پی پنجاب سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بحران میں حکومت کا تاخیر سے رد عمل آیا ہے، آج ملک ایک ہیجان میں مبتلہ ہے، کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔حکومت کو کورونا کے حوالے سے باقاعدہ آگاہی مہم چلانا چاہئے تھی۔  

انہوں نے کہا کہ ہم الزام تراشی نہیں کررہے، مگر جب سے یہ حکومت آئی ہے اس کا ہر بحران میں رسپانس بہت لیٹ اور سلو رہا ہے، کرونا کا مسئلہ بھی لیٹ رسپانس کی وجہ سے گھمبیر ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ کرونا کا مرکز پاکستان نہیں بلکہ چین تھا، اس حوالے سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اقدامات کرنے تھے، مرکزی حکومت نے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، بارڈرز کی نگرانی کرنی تھی، ۤانے والے لوگوں کی سکریننگ کی ضرورت تھی، مگر حکومت اس میں مکمل ناکام ہوئی۔ تفتان بارڈر کو مس مینجمنٹ کیا گیا۔ حکومت نے جو نالائقی کرنی تھی کر لی۔

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سرحدوں پر صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی کورونا وائرس کی بارڈرز پر صحیح اسکریننگ نہیں کی گئی، لوگوں کو بارڈرز پر ٹھہرانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی، وفاقی حکومت نے تافتان بارڈر پر تاخیر سے حکمت عملی بنائی، اس ساری صورتحال پر پنجاب حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا، زائرین کے لیے بدترین انتظامات کیے گئے ہیں، لوگوں کو زمین پر قیام کرایا گیا ہے، تافتان بارڈر پر بدانتظامی کی گئی،  حکومت نالائقوں کا ٹولہ ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ساری دنیا کے سربراہان روزانہ کی بنیاد پر کرونا پر بریفنگ لے رہے ہیں اور اس پر اقدامات اٹھارہے ہیں، امریکی صدر تک یہی عمل کررہے ہیں، مگر یہاں حکمرانوں کی طرف سے ایسے اقدامات اٹھائے نہیں جارہے، تفتان کے بارڈرز سے جو زائرین آئے۔ ان کے حوالے سے حکومت کا رسپانس بہت لیٹ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے احتیاطی اقدامات کے طور پر سیاسی سرگرمیاں تین ہفتے کے لئے معطل کردی ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی چار اپریل کو تقریبات بھی منسوخ کردی گئی ہیں، جب صورتحال بہتر ہوگی، اُس وقت چئیرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے سندھ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے فوری طور پر اقدامات کئے، ان کا ریکارڈ اکھٹا کیا، ان کی سکریننگ اور ٹیسٹ کئے، اور ہنگامی حکمت عملی اختیار کی، جس کی تعریف پوری دنیا اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد پنجاب میں آئی ہے، پنجاب بڑا صوبہ ہے، مگر پنجاب حکومت مکمل طور پر خاموش ہے، اس حوالے سے کوئی مناسب انتظامات نہیں کئے گئے، اور اب ڈینگی کا بھی خطرہ ہے، مگر حکومت کوئی اقدامات اٹھاتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ڈی جی خان میں چودہ، پندرہ لوگ پازیٹو ہوئے ہیں، پنجاب حکومت نے اس حوالے سے بیان بازی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت نالائقوں کا ٹولہ ہے، بحرانوں میں قیادت کا پتہ چلتا ہے، حکومت لیڈر شپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ناکام رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت پارلیمانی لیڈروں سے کرونا کے حوالے سے ڈیٹا شئیر کریں، اس حوالے سے میں پنجاب میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ کو مقرر کرتا ہوں، حکومت ڈیٹا پبلک نہ کرے مگر ہم سے شئیر کرے۔

انہوں نے کہا کہ کل وزیراعظم نے منہ دکھائی کی ہے، مگر وہی باتیں کی ہیں جو میڈیا ہمیں روز بتا رہا ہے،پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کل ہمیں توقع تھی وزیراعظم عوام کے ریلیف کے لیے کوئی اعلان کریں گے۔ وزیراعظم نے کل انٹرسٹ ریٹ کم کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی۔ دنیا بھر میں انٹرسٹ ریٹ زیرو کی طرف جارہا ہے جبکہ ہماری حکومت نے زیرو اعشاریہ 75 پوائٹس کم کیا۔ حکومت اس وقت کسی انسانی المیے کو جنم نہ دے۔ حکومت لوگوں کے گھروں میں راشن فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔ لوگوں کو صرف گھروں میں بند کرنا ضروری نہیں، راشن دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ساری قوم کو یہ بتادیا ہے کہ جاگتے رہنا ساڑے تے نہ رہنا۔ وزیراعظم نے نہ ہیلتھ فنڈز رکھے ہیں، اور نہ کوئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی تعریف کی، مگر سندھ حکومت جس کی تعریف پوری دنیا کررہی ہے، اس کے لئے ایک لفظ نہ کہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سندھ حکومت کی خدمات مستعار لے لے۔ وزیراعظم نے بلوچستان کی تعریف کی سندھ کی حکومت کو شاباش بھی نہ دے سکے، پنجاب حکومت سے کورونا نہیں سنبھالا جا رہا تو وزیراعلی سندھ کی خدمات لے لیں، مراد علی شاہ پنجاب آ کر اجلاسوں کی صدارت کر لیں گے۔ ہم حاضر ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ حکومت اور وزیراعلیٰ خود قرنطینہ میں چلی گئی ہے، خود چھپی بیٹھی ہے، یہ لیڈ اور قیادت کس طرح کرے گی؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بڑے پیمانے پر میڈیا کپمئین کرنی چاہیئے تھی۔

انہوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ اس ۤآگہی مہم کا حصہ بنیں، اور کردار ادا کریں۔انہوں نے ملک بھر میں پارٹی کارکنان سے کرونا وائرس پر رضاکارانہ خدمات سر انجام دینے کا بھی کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ پہلے ہی بے روزگار ہیں، دیہاڑی دار ہیں، دکاندار ہیں، غریب طبقے سے ہیں، اگر مارکیٹس بند ہوتی ہیں، تو حکومت متبادل ٓکا انتظام کرے،  اس حوالے سے بڑے پیمانے پر فنڈ کی ضرورت ہے، حکومت اب تک ساڑھے تیرہ ارب کے قرضے لے چکی ہے، وزیراعظم اس حوالے سے اقدامات کا اعلان فرمائیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کورونا وائرس کے اقدامات پر پیپلز پارٹی سیاست کرے گی، سیاست ایک مثبت عمل ہے، سیاست نام ہی عوامی خدمت کا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی سے مطالبہ ہے کہ وہ پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلائیں، اجلاس بلا کر پارلیمانی لیڈرز کو کورونا کی صورتحال سے آگاہ کریں، پیپلز پارٹی اس میں ہر ممکن تعاون کرے گی۔  ینگ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات مانیں لیکن ڈاکٹرز بھی حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس چیز کا نوٹس لیا ہے، اُس کا الٹا ہی اثر ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ قرنطینہ سینٹرز بین الاقوامی سٹینڈر کے مطابق بنائیں، خانہ پری نہ کریں، مخالفین کے گھروں کو پناہ گاہیں نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے کہا کہ ہمارے تین مطالبات ہیں، حکومت کورونا وائرس کے لیے سندھ حکومت نے تین ارب کا فنڈ رکھا ہے، وفاقی حکومت اس کے لئے 100 ارب روپے کا فنڈز مختص کرے، اس فنڈ کو صوبوں میں تقسیم کیا جائے،

دوسرا مطالبہ زائرین اور دیگر لوگ جو بیرون ملک سفر کررکے آئے ہیں، ان کی سکریننگ ہونی چاہیئے، ان کے گھر تک پہنچنا چاہیئے، تیسرا مطالبہ ہے کہ میڈیا کے چھ ارب کے جو واجبات ہیں جن میں سے تین ارب کے تصدیق شدہ اشتہارات ہیں، ان کو ورکرز کی تنخواہوں سے مشروط کرکے فوری جاری کئے جائیں۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ وزیراعظم کی تقریر سے لگ رہا ہے کہ جے گل ساڑے تے آگئی اے تے فیر کرونا نال صلح کرلیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب

لاہور: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ انصاف ہو گا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک بدقسمتی سے مارشل لاء کا شکار ہوتا رہا ہے، آمروں نے پاکستان کے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔  ضیا الحق نے اس آئین کو معطل کیا، ججوں کو گھر بھیجا گیا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدلیہ نے سزائے موت دی۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے جلد دنیا سے چلے جانے کی وجہ سے ملک میں مکمل جہموریت نہ آ سکی۔ پھر شہید ذوالفقار علی بھٹو آئے جنہوں نے 1973 کا آئین دیا جو پارلیمنٹری تھا جس میں پارلیمنٹ سپریم تھا اور انتظامیہ وزیراعظم کے ماتحت تھی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو قانون دان تھے، انہوں نے پاکستان کو آئین دیا، آئین کی وجہ سے ہی تمام صوبوں کو نمائندگی دی گئی ہے، 73ء کے آئین کی رو سے عدلیہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مشکلات کے باوجود 3 بار جمہوری حکومت بنائی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عوام نے قبول نہ کیا۔ شہید بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری پر بھی جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ آصف علی زرداری کو بغیر کسی وجہ کے جیل میں قید رکھا گیا ان پر ایک الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے جنرل مشرف تک سب نے آئین کو توڑا، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا، انہیں ایک آمر نے پھانسی پر لٹکا دیا۔

انہوں نے کہا کہ قوم آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مقدمات میں انصاف کا تقاضہ کر رہی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف نہیں ملے گا تو عام پاکستانی کیسے نظامِ انصاف کو عزت دے گا؟

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہمیں امید ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ انصاف ہو گا، امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں مزید خاتون ججوں کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس سے ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی کو عوام سے دور رکھنے کی سازش کی گئی تھی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست دان سوسائٹی کو ہمیشہ وکلا کی ضرورت رہی۔ لاہور ہائی کورٹ بار نے سب سے پہلے آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی اور وکلا ہر آمر کے سامنے آہنی دیوار بنے رہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین ججز کی تعداد کو بڑھانا چاہیے۔ سال 1994 میں 5 خواتین ہائی کورٹس کی ججز تھیں لیکن جنسی تفریق کی وجہ سے کسی کو بھی سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز کو بحال ہونا چاہیے۔ طبا یونینز کے بغیر پیپلز پارٹی کا قیام ممکن نہیں تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وکلاء پر زور دیا کہ نئے پاکستان میں نئی آمریت سے نمٹنے کے لیے مل کرکام کریں، انسانی حقوق کی بحالی میں ہمارا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری انصاف کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتی ہے، آئین کی وجہ سے ہی تمام صوبوں کو نمائندگی ملی۔

قبل ازیں جب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہورہائی کورٹ بار پہنچے تو وکلاء نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدرچوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کوہائی کورٹ میں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پرلاہور ہائیکورٹ بار کے عہدے داران بیرسٹر چوہدری سعید ناگرہ، بیرسٹر ہارون دوگل اور ذیشان غنی سلہریا کے علاوہ وکلاءکی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

بلاول بھٹو زرداری:عورت مارچ کی مخالفت کرنے والے پرانی دنیا میں رہتے ہیں لیکن ان کا دور ختم ہوگیا،اب عورت مارچ بھی کرے گی، ڈاکٹر بھی بنے گی،فوج میں بھی جائے گی،آج اگر عورت چاہے گی تو وہ وزیراعظم بھی بنے گی،کوئی سیاستدان کوئی ملا ں عورت کا راستہ نہیں روک سکتا

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفت کرنے والے پرانی دنیا میں رہتے ہیں لیکن ان کا دور ختم ہوگیا،اب عورت مارچ بھی کرے گی، ڈاکٹر بھی بنے گی،فوج میں بھی جائے گی،آج اگر عورت چاہے گی تو وہ وزیراعظم بھی بنے گی،کوئی سیاستدان کوئی ملا ں عورت کا راستہ نہیں روک سکتا، پیپلز پارٹی تاریخ بناتی ہے۔

ایوان اقبال میں منعقدہ ویمن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےبلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میں ویمن ونگ کے کنونشن سے خطاب کر رہا ہوں،آپ محترمہ شہید بھٹو اور میرے نمائندے ہو، آپ سب کو سلام،جب خواتین کا دن منایا جارہا ہے آپ نے یہاں سے شاندار پیغام بھیجا ہے.

جب عورتوں کے حقوق اور جدوجہد کی بات ہوتی ہے تو وہاں شہید محترمہ کا نام آتا ہے، ہر بیٹے کا خواب ہوتا ہے والدہ کی خدمت کرے،شہید محترمہ کی شہادت کے بعد پاکستان کی ہر عورت میری ماں ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہر ماں کی اتنی خدمت کروں جیسے اپنی والدہ کی کرنا چاہتا تھا، پاکستان کو ایک ایسی ریاست بناؤں جو عورت کی اتنی خدمت کرے جتنی میں ماں کی کرنا چاہتا ہوں،ہم نے عورتوں کوجو حق دئیے یہ حق اسلام دیتا ہے،اسلام وہ دین ہے جو سب سے زیادہ عورتوں کو حق دیتا ہے،بھٹو شہید نے آئین بنا کر عورتوں کو حق دیا،ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے ہم تو آئین میں دیئے گئے حقوق مانگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی برابری کی بات کرتی ہے،ہم مزدوروں،کسانوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں،پچاس فیصد آبادی عورتوں کو بھی ہر شعبے میں برابر حق ملنا چاہیے،یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کو جب بھی حقوق ملے یا حقوق میں اضافہ ہوا تو صرف پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا،اس ریاست میں عورتوں کو کوئی مالی مدد ملی ہے تو صرف پیپلز پارٹی کے دور میں ملی ہے،عورتوں کے کوٹے اضافہ ہوا ہے تو ہمارے دور میں ہوا،پیپلز پارٹی تاریخ بناتی ہے، پیپلز پارٹی نے مسلم دنیا میں پہلی خاتون کووزیراعظم منتخب کیا،خواتین کی جدوجہد کی وجہ سے انہیں دوبارہ وزیراعظم بنانے کا اعزاز بھی پاکستان کو ملا.

پہلی خاتون جج، خو اتین کا پولیس اسٹیشن پیپلزپارٹی کے دور میں بنا،غریب عورتوں کو زمین ملی تو وہ بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ملی،یہ سب آپ خواتین کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے ہے،آج بھی ملک کے کونے کونے میں لیڈیزہیلتھ ورکرز کام کر رہی ہیں یہ محترمہ شہید کا انقلابی کارنامہ ہے جس کے تحت خواتین کو روزگار بھی ملا اوروہ بچوں کی صحت کا خیال بھی رکھ رہی ہیں۔

مسلم دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک نہیں دو بار خاتون وزیراعظم کو منتخب کیا،اب ہم کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی نے شروع کیا،اس پروگرام کے خلاف شروع دن سے ہی سازشیں کی گئیں،ہمارے پروگرام سے زیادہ بہتر پروگرام دینے کی بجائے نواز شریف اور عمران خان نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی اور اس کی ایک وجہ بے نظیر کی تصویر تھی اور یہ حکمران نہیں چاہتے کہ غریب عوام خوشحال ہوں،میں ماں کی خدمت کرنا چاہتا تھا مگر وہ شہید ہوگئیں،اب ہر عورت میری ماں ہے اورمیں ہر عورت کی اس طرح خدمت کروں گا جس طرح اپنی ماں کی کرنا چاہتا۔