Category Archives: ایڈیٹوریل

آرمی ایکٹ بل: پیپلزپارٹی کی حمایت کیلئے پارلیمانی طریقہ کار اپنانا ہوگا


مسلم لیگ ن کی گزشتہ روز آرمی ایکٹ بل کی غیر مشروط حمایت کے بعد حکومت کا یہ خیال تھا کہ یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر آج ہی پارلیمان سے منظور کروا لیے جائیں گے تاہم حزب مخالف کی جماعتوں نے جمعے کی صبح قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومتی کمیٹی سے ہونے والی اجلاس میں اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ موقف پیش کیا کہ اس معاملے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پیروی کی جائے۔ جس کے بعد قومی اسمبلی نے تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق الگ الگ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیج دیے ہیں۔

مجوزہ قانون سازی کے تحت تینوں سروسز چیفس (آرمی چیف، فضائیہ چیف اور نیوی چیف) کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 64 برس کرنے کی تجویز ہے جبکہ یہ صوابدیدی اختیار وزیر اعظم پاکستان کے پاس ہو گا کہ وہ 60 برس کی ملازمت پوری کرنے والے ان افسران میں سے کسی بھی افسر کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دیں۔

اس وقت ن لیگ کی سیاست شہباز شریف کا بیانیہ ہے، جس کے زریعے پنجاب کی بڑی جماعت ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی سیڑھی سے ایوان اقتدار میں داخل ہونا چاہتی ہے، اگر ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے قریب آتی ہے تو تحریک انصاف کی حیثیت کم ہوتی ہے۔ شہباز شریف کا بیانیہ شریف فیملی کو لندن منتقل کرنے اور رانا ثنااللہ کو جیل سے باہر لانے میں کامیاب ہوا ہے۔ رانا ثنااللہ جن کو عمران خان مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں طویل عرصے تک ڈالنے کے خواہش مند تھے، اب وہ آزاد ہیں اور آرمی چیف قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر اپنی جماعت کی غیر مشروط حمایت کی پریس کانفرنسز کررہے ہیں۔

شہبز شریف کے گڈ کوپ کے کردار اور اسٹیبلشمنٹ فرینڈلی بیانئے سے شریف فیملی کو ریلیف اور آسائشیں مل رہی ہیں، اور اقتدار ملنے کے امکانات بھی بڑھے ہیں، مگر ساتھ ہی پارٹی کے اندر اور سپورٹرز کی طرف سے اس پالیسی پر شدید تنقید بھی کی جارہی ہے، سوشل میڈیا اس تنقید سے بھرا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ اب ن لیگ کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو، نہیں بلکہ بوٹ کو عزت دو کا بن چکا ہے۔  پارٹی کارکنان کی مایوسی اور تنقید کے بعد میاں نواز شریف کا خواجہ آصف کو لکھا ایک خط میڈیا میں آیا ہے، جس میں انھوں نے خصوصی ہدایات دی ہیں۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جمعہ کو پارلیمان کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن سے شکوہ کیا کہ ہمیں بڑی اپوزیشن جماعت  نے اپنے اس بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور اگر ایسا کر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ 

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آرمی ایکٹ بل پر موقف واضع ہے کہ ان کے پاس صرف 52ووٹ ہیں۔ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔وہ نہ تو ’کامہ‘ لگاسکتے ہیں نہ ہی ’فل اسٹاپ‘۔حکومت ان کے بغیر بھی بل پاس کرسکتی ہے۔پیپلزپارٹی کی حمایت کیلئے پارلیمانی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔معاملے پر پارلیمانی طریقے پر چلنا کامیابی ہے۔اہم بل بھی پارلیمانی طریقہ کار کے بغیر پاس ہوں گے تونقصان ہوگا۔پی ٹی آئی حکومت نے کابینہ سے آرمی ترمیمی ایکٹ منظور کیا۔معلوم نہیں حکومت کو کیا جلدی تھی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل دفاعی کمیٹی میں زیر بحث لائے بغیر پارلیمان میں لانا جمہوری اقدار کے منافی ہوتا۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے دفاعی کمیٹی میں پیش ہونے کو پارلیمان کی کامیابی قرار دے دیا۔

 حکومت آرمی چیف کے نوٹیفکیشن کی طرح آرمی ایکٹ میں ترمیم کو بھی متنازع بنا رہی ہے، حکومت اورمسلم لیگ ن مل کر عجلت میں قانون سازی کررہے ہیں، ن لیگ نے بل کی غیرمشروط حمایت کااعلان کیا تھا، میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، قائد حزب اختلاف شہباز شریف کواپوزیشن سے مشاورت کرناچاہیے تھی، ن لیگ نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس بل کو پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق پاس کیا جائے گا، مناسب ہوگا کہ اس بل کو قومی اسمبلی میں منظوری سے قبل قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیجا جائے، پارلیمانی قواعدوضوابط کے تحت قانون سازی ہوئی تو ساتھ دیں گے، چاہتے ہیں کہ پارلیمانی قوائد وضوابط پرعمل کیا جائے۔

قبل ازیں، چیئرمین بلاول بھٹو اپنے چیمبر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ آرمی ایکٹ بل کو پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق لایا جانا چاہیے، ہم پھر سے وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو نوٹیفکیشن کے وقت کی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمانی پارٹی کے قوائد و ضوابط کے مطابق لایا جانا چاہیے، ن لیگ اور پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ پارلیمانی طریقہ کار ایک طرف رکھ کر بل پاس کیا جائے، اس سے نہ صرف ہمارے بلکہ پاک فوج کے ادارے کو بھی نقصان ہوگا اور ہم ماضی کی غلطیاں دہرائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نازک معاملہ ہے، ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اپنا جمہوری کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، حکومت اور حزب اختلاف ہماری حمایت چاہتے ہیں تو پارلیمانی طریقہ کار اپنائیں۔ حکومت سے امید ہے کہ بل کو دفاع کی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت کے ایک وفد نے پرویزخٹک کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے وفد سے ملاقات بھی کی تھی۔

ملاقات کے بعد چیئرمین بلاول نے ٹویٹ کیا تھا کہ ہمارے لیے قانون سازی کی جتنی زیادہ اہمیت ہے، اتنا ہی ضروری جمہوری عمل پر عمل پیرا ہونا ہے، پیپلز پارٹی اس مسئلے کو دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی اٹھائے گی۔

انہوں نے لکھا کہ کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں۔ جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لئے جمہوری عمل کی پاسداری ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اس معاملے پر دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔

کراچی میں ترقیاتی منصوبے، متحدہ کے وفاقی حکومت سے شکوے اور بلاول بھٹو کی الائنس کی پیشکش

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دو پُلوں، ایک انڈر پاس اور کینٹ اسٹیشن کے گردونواح سڑکوں کا افتتاح کیا جبکہ ملیر ایکسپریس وے اور ملیر ندی پر ایک اور پل پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں چار ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق سے اتحاد ختم کر کے، پیپلز پارٹی سے الائنس کرنے اور سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش کی ہے۔ گزشتہ روز حکومت سندھ کی جانب سے کراچی میں چار میگا منصوبوں جن میں دو پل کورنگی نمبرڈھائی اور پانچ،حیدر علی روڈ انڈر پاس اور کینٹ اسٹیشن کے اطراف سڑکوں کی تعمیر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تمام اتحادیوں کو پاکستان بچانے کیلئے آج نہیں تو کل یہ فیصلہ کرنا پڑے گا، کراچی کے عوام کو عمران خان نے دھوکہ دیا، ان کا نعرہ جھوٹا نکلا،2020ء کے انتخابات میں لوگ یوٹرن لینگے اور پیپلزپارٹی کیساتھ ہونگے۔

وفاقی حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں چل رہی ہیں، ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑیگا، ملک کے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، غریب اور سفید پوش افراد کی مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں، شہید بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگ نکالے جا رہے ہیں، میں سندھ حکومت سے کہوں گا کہ وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرے۔

کراچی پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا، سلیکٹڈ کو گھر بھیجنا ہوگا، اتحاد توڑنا ہوگا، کراچی کو بچانا ہوگا اور اس نیک عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی سو فیصد ساتھ دے گی۔

وفاقی حکومت کی گیس پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، جہاں گیس پیدا ہو رہی ہے وہاں سے یہ چھینی جا رہی ہے، وفاقی حکومت کو اس پالیسی کو فوری واپس لینا ہو گا، این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا حق نہیں مل رہا، مردم شماری کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کو تمام بنیادی حقوق دینے کے لیے رات دن کوشاں ہے۔ ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہم ہمیشہ مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وفاقی وزراء جو وفاق دشمن پالیسیاں بنا رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا ہوگا، حکومت سندھ معاشی حالات مشکل ہونے کے باوجود محنت کر رہی ہے خاص کر کراچی میں بہت کام کر رہی ہے، مکمل ہونے والے سات منصوبوں کا پہلے افتتاح کر چکا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا جبکہ جو وزیر اس معاملے پر بیانات دے رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا چاہیے۔‘خطاب کے دوران انھوں نے وسیم اختر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرا دیں۔‘انھوں نے کہا کہ ‘کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انھیں دھوکہ دیا ہے، ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے۔’ترقیاتی منصوبوں کو پارٹی کارکنوں کے نام منسوب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود پورے صوبے میں کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے ہیں لیکن سندھ کو ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا۔‘  ہم چاہتے ہیں کہ کراچی ترقی کرے، یہ نہ صرف میگا سٹی ہے، پورے ملک کے لوگ یہاں بستے ہیں، جتنی ڈیمانڈ یہاں ہے اس کے لئے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ لینا پڑیگا۔

غریب عورتوں سے ایک ہزار روپے چھیننے والوں پر لعنت! کسی بھی سروے کے بغیر وفاقی حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ خواتین کا نام نکالنا ظلم و زیادتی ہے! پاکستان پیپلز پارٹی اس کی سخت الفاظ میں مزمت کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ہم سندھ حکومت کا ساتھ دینگے۔ وسیم اختر نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’کراچی کے معاملے میں پی ٹی آئی سے اتحاد سود مند ثابت نہیں ہوا‘ اور وہ حکمران جماعت کی کراچی میں کارکردگی سے مایوس ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کا ساتھ چھوڑ کر سندھ میں پی پی کی حکومت کے ساتھ کراچی کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کرنے اور وزارتیں لینے کی دعوت اور اس پر متحدہ سے تعلق رکھنے والے کراچی کے میئر وسیم اختر کی جانب سے وفاقی حکومت سے شکایتوں کا انبار لگانے کے بعد اب یہ حقیقت ایک بار پھر بڑی واضع طور پر سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف کی سلیکیٹیڈ حکومت انتہائی کمزور ہے، اور اتحادی اس غیرسنجیدہ اور عوام دشمن حکومت سے سخت ناراض ہیں۔

میڈیا کی کئی رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کافی عرصے سے اس پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے کہ  پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سے راستہ جُدا کرلیا جائے، اور نئی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ایم کیو ایم کے اندر بھی اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کا براہ راست اثر ایم کیو ایم کے ووٹر پر پڑرہا ہے۔  پی ٹی آئی کی حکومت نے ایم کیو ایم سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ کئی موقعوں پر متحدہ کے رہنما کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے تو ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو جائے گی۔

چئیرمین بلاول کی یہ پیشکش الائنس کی پیش کش ہے، اس کو ہارس ٹریڈنگ یا فارورڈ بلاک بنانے سے تعبیر نہیں کرنا چاہیئے۔ حکومت سازی کے لئےسیاسی جماعتوں کا الائنس ہوتا ہے، الائنس کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ ایک جمہوری عمل اور پارلیمانی روایات کا حصہ ہے۔ وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتیں ان سے ناراض ہیں اور کارکردگی سے سخت نالاں کچھ عرصہ قبل حکومت کی ایک اوراتحادی جی ڈی اے نے بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ساتھ مفاہمت پرنظرثانی کرنے کا عندیہ  دیا تھا۔ اس تناظر میں اور کراچی کی ترقی کی خاطر ایم کیو ایم کو الائنس کی دعوت دی گئی ہے۔ 

پنڈی گواہ رہنا! بلاول بھٹو زرداری کا عزم ہے پنڈی سے جمہوریت کا جو علم اٹھایا وہ شہر شہر گلی گلی جائے گا

پنڈی گواہ رہنا! شہید بے نظیر بھٹو کی بارہویں برسی کے موقع پر لیاقت باغ کے کامیاب ترین جلسے کے بعد چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیا ہے۔

اس ٹویٹ کے تسلسل میں بختاور بھٹو زرداری کا ٹویٹ ہے۔ پنڈی گواہ رہنا! بھٹو ہے۔۔ ضیا تھا۔۔۔ ، بی بی ہے۔۔ مشرف تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شہید بی بی کی برسی پر راولپنڈی میں کامیاب جلسے پر جیالوں کو مبارکباد دی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر کے مطابق بلاول نے جلسے کی سیکیورٹی اور تعاون کے لیے راولپنڈی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پی پی چیئرمین نے سی پی او، ایس ایس پی آپریشن، ایس ایس پی ٹریفک کی فرائض کی انجام دہی کو سراہا ہے، انہوں نے کہا کہ ان افسران نے جلسے کے دوران پورا دن اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کیں ۔

مصطفی نواز کھوکھر نے بتایا کہ چیئرمین نے جلسے کی کامیابی کو راولپنڈی اور پنجاب سمیت ملک بھر کی تنظیموں اور جیالوں کی محنت کا ثمر قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پارٹی چیئرمین کے پنڈی ہم پھر آ رہے ہیں کے نعرے کو جیالوں نے عملی شکل دے دی اور یہ ثابت کر دیا کہ جبر، ظلم اور رکاوٹیں انہیں نہیں روک سکتیں۔

مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے عزم دہرایا ہے کہ پنڈی سے جمہوریت کا جو علم اٹھایا ہے وہ شہر شہر گلی گلی جائے گا۔

پنڈی گواہ رہنا! گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی نے شہید بی بی کی بارہویں برسی کے موقع پر اپنے نئے جمہوری سیاسی دور کا آغاز کیا ہے۔ یہ نیا دور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وہاں سے شروع ہوا ہے جہاں 2007 میں بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے پارٹی کا علم گرایا گیا تھا۔

پنڈی گواہ رہنا! بلاول بھٹو نے جمعے کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں عین اسی مقام پر ایک بار پھر جابر اور استبدادی قوتوں کو للکارا ہے جہاں 12 برس قبل پارٹی کی سابق چیئرمین بینظیر بھٹو کو خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے سلیکیٹیڈ حکومت کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے ملک، حکومت اور معیشت کچھ بھی نہیں چل رہا اور ساتھ ہی انہوں نے یہ خوش خبری بھی دی ہے کہ سنہ 2020 صاف شفاف الیکشنز اور عوامی راج کا سال ہو گا۔

لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کے آغاز میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا شہید قائد عوام اور والدہ شہید بی بی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک اور قوم کے لیے ان کی خدمات کو دہرایا۔ پاکستان کے عوام گواہ ہیں کہ اس ملک کو ایٹمی طاقت کس نے بنایا، مسئلہ کشمیر پر قوم کی آواز کون بنا، عوام کو کس نے طاقت کا سرچشمہ بنایا، اور مسلم امہ کو یکجا کرنے کے لئے کس نے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا، ایسے عوامی لیڈر کو ایک آمر نے تختہ دار پر لٹکا دیا کیوں کہ بدقسمتی کے جنرل ضیاء کو عوام راج قبول نہیں تھا۔ ذوالفقار بھٹو کے پرچم کو بے نظیر نے تھاما اور 30 سال تک جدوجہد کی، وہ مسلم امہ کی پہلی خاتون ویراعظم بنیں، بے نظیر شہید عوام کی امید تھی، انہوں نے اس ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی، ان کے شوہر کو جیل میں رکھا گیا لیکن ایک الزام ثابت نہیں ہوا، وہ تمام خطرات کے باوجود اس ملک اور ملک کے عوام کو ایک آمر سے نجات دلانے کو واپس آئی تھی، انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ پاکستان میں عوامی راج قائم کرنے کے لیے واپس آئی تھیں مگر 27 دسمبر کو اسی لیاقت باغ میں انھوں نے اپنے آخری جلسے سے خطاب کیا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان بننے والی خاتون کو بم دھماکے میں سرِعام شہید کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ کے دن دیہاڑے ہوئے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے نہ صرف اپنے غم اور غصے کو قابو میں رکھا بلکہ انتقام اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے مفاہمت اور برداشت کی سیاست کی اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ ’سنہ 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو لے کر چلی اور 1973 کا آئین 18ویں ترمیم کے ذریعے بحال کیا۔‘ بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کو صرف اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ وہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کو مانتی تھیں اور وہ کسی آمر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تھیں۔
تحریک انصاف کے جھوٹے وعدوں ،کھوکھلے دعووں اور ہر محاذ پر ناکامیوں پر بات کرتے ہوئے چیئرمین بلاول نے کہا کہ نئے پاکستان کے نام پر سیاسی یتیموں کا راج ہے، سیاسی یتیم کہتے تھے،آصف زرداری اور نوازشریف جیل سے باہر نہیں آئیں گے اور آج وہ دونوں ہی باہر ہیں، موجودہ حکومت عوام کے لیےعذاب بن چکی ہے، ملک میں آئینی اور معاشی بحران ہے، بلکہ ہرطرف  بحران ہی بحران ہے، کراچی سے خیبر تک سیاسی یتیموں الوداع کے نعرے لگ رہے ہیں، اور سیاسی یتیم گھبرا رہے ہیں کہ ان کا کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے، میں ملک کو آزاد اور جمہوریت کو بحال کراؤں گا اور طاقت کا سرچشمہ عوام کو بناکر دکھاؤں گا، ان حکمرانوں کو عوام کی مدد سے گھربھیجیں گے۔ 

موجودہ سلیکیٹیڈ حکومت کی ناکام سفارت کاری اور ناکام معاشی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری خود مختاری کا حال یہ ہے کہ ہمارا وزیرِ اعظم این او سی کے بغیر کسی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کر سکتا، ملک کی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف بنا رہا ہے، یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لیے ہم نے قربانیاں دیں، یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا۔‘ 

انہوں نے پاکستان کی بدترین معاشی صورتحال اور عوام کی مشکلات پر بات کرتے ہوئے حکومتی بجٹ کو پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال میں دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور جب ہم حکومت کی توجہ بے روزگاری کی جانب مبذول کرواتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف یہ صورتحال ہے جبکہ دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے آٹھ لاکھ لوگوں کو نکالا گیا ہے جو کہ درحقیقت غریبوں کا معاشی قتل ہے۔ 

چئیرمین بلاول کا کہنا تھا کہ آج پھر دھرتی پکار رہی ہے کہ وہ خطرے میں ہے، پارلیمان پر تالا لگ چکا ہے، میڈیا آزاد نہیں اور عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبوں سے ان کا حق چھین کر وفاق کو کمزور کیا جا رہا ہے، انتہا پسندی پوری معاشرے میں پھیل چکی ہے، تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ ’یہ تجربہ فیل ہو چکا ہے، آئینی اور معاشی بحران ہے، سیاسی رہنماؤں اور خواتین کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی یتیم گھبرا چکے ہیں اور ان کا کٹھ پتلی راج لڑکھڑا رہا ہے۔‘ 

چئیرمین بلاول نے عزم دہرایا ہے کہ پنڈی سے جمہوریت کا جو علم اٹھایا وہ شہر شہر گلی گلی جائے گا۔ چئیرمین کے جمہوری عزائم بڑے واضع ہیں کہ یہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام ہیں کوئی سلیکٹریا سلیکٹڈ قبول نہیں اور نہ کسی ایمپائر کی انگلی اٹھے گی۔ چئیرمین بلاول نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک عوام کہہ رہے ہیں کہ ’الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع، الوداع الوداع سلیکٹڈ حکومت الوداع۔‘

انہوں نے اس جمہوری سفر میں عوام کو شرکت کی دعوت  دیتے ہوئے اور شہید بی بی کے بیٹے کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو آزادی دلوائے گی، ووٹ کا تحفظ کرے گی، نوجوانوں اور کسانوں کو ان کا حق دلوایا جائے گا، مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ دیا جائے گا اور بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کیا جائے گا۔ ’جیالوں میرا ساتھ دو۔ ہمارا ملک، جمہوریت اور آزادی خطرے میں ہے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم نے اسے بچانا ہے اور بے نظیر کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔  چئیرمین بلاول یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح شہید بھٹو اور شہید بی بی کا عوام نے ساتھ دیاتھا اب اُن کا ساتھ دیں اُن کا ماننا ہے کہ ہم ملکرپارٹی کے نظریات کے مطابق ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے اور عوام کو مسائل سے نجات دلائیں گے عوامی رائج قائم کرکے کٹھ پتلیوں کو ختم کرنا ہوگا۔عوام کے مسائل صرف عوامی حکومت ہی ختم کرسکتی ہے ہم نے ملکر عوامی راج قائم کرنا ہے ہم پیپلز پارٹی کا منشور آگے لیکرجائیں گے جو لوگ سیاست سے دور ہوئے ہیں انہیں دوبارہ سیاست میں فعال کریں گے انہیں سمجھائیں گے کہ جو وعدہ ہم نے شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیربھٹو سے کیاتھا اسے پورا کرنا ہے ہم اپنے شہدا کے مشن کو پورا کریں گے اور عوامی حکومت قائم کریں گے۔ 
جمعے کے روز لیاقت باغ اور راولپنڈی بھر میں عوام کا ایک جم غفیر تھا، جس کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ ملک بھر سے جیالے، بی بی شہید کے چاہنے والے جائے شہادت پر حاضری دینے کے لئے آئے تھے۔ سڑکوں پر شاہراہوں پر پارٹی کے پرچم ہر طرف دیکھے جاسکتے تھے۔ عوام کے اس سمندر کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے، کہ پارٹی ایک بار پھر سے پنجاب میں اپنی عظمت بحال کرنے جارہی ہے۔ 

چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا خطاب بلاشبہ مدلل، جامع، اور پرُاثر تھا، اس میں موجودہ بدترین صورت حال کی عکاسی بھی تھی، اور ان کے حل کے لئے اقدامات کی نشاندہی بھی موجود تھی۔ ایک حقیقی جمہوری معاشرے کا روشن منظر بھی ہمیں ان کے خطاب میں ملتا ہے، اگر عوام ماضی کی طرح اُن کا ساتھ دیتی ہے تو پاکستان کو ترقی وخوشحالی کے راستے پر ڈالا جاسکتا ہے۔ جس سے پسے ہوئے طبقات کا مقدر بھی تبدیل ہوگا۔