سلیکٹڈ حکومت کا سلیکٹڈ میڈیا اور اس کے سلیکٹرز، ایک بے معنی تقریر کے گُن گا رہے ہیں جبکہ پوری قوم خاص طور پر کشمیر کی عوام مایوس ہے کہ کٹھ پتلی نے مسئلہ کشمیر کے ساتھ انصاف نہیں کیا: بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ عوام دشمن اور نااہل حکومت کو گھر بھیجیں گے،ملک میں احتساب کا عمل نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا چل رہا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر پری سلیکٹڈ تھی، عمران خان کشمیر کو اپنی پی آر کیلئے استعمال نہ کریں،سلیکٹڈ لیڈر کورین لیڈر کی طرح لوگوں سے تالیاں نہ بجوائیں ، سلیکٹڈ میڈیا نے سلیکٹڈ وزیراعظم کی تعریف کی ۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کاش احتساب کا عمل چل رہا ہوتا، ملک کو اصل احتساب کی ضرورت ہے، یہ احتساب کا عمل نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا چل رہا ہے اور یہ عوام دشمن حکومت ہے اور ہم عوام دشمن، نااہل حکومت کو گھر بھیجیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام دشمن بجٹ کے پیش ہونے کے بعد عوامی رابطہ مہم پر نکلے تھے اور عوامی رابطہ مہم آگے بھی ہوتا رہے گا، سندھ اور پنجاب میں احتجاجی مہم چلا رہے ہیں، ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے، اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے۔

وزیراعظم کے نیویارک کے کامیاب دورے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا میں جس طرح لوگوں کو کھڑا کر کے تالیاں بجوائی جاتی ہیں اسی طرح آج پاکستان میں بھی ہو رہا ہے اور سلیکٹڈ حکومت کی تعریف ہو رہی ہے۔ 

چیئرمین پی پی نے کہا کہ وزیراعظم بے بسی سےکہیں کہ میں کیاکروں؟ تو عوام مایوس ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم ملک بھر میں احتجاجی جلسے کریں گے اور عوام دشمن، نااہل اور نالائق حکومت کو گھر بھیجیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری: ایک غیر جمہوری شخص جو اپنے ملک میں انسانی و معاشی حقوق محفوظ نہیں بنا سکتا، وہ کیسے ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے رائے شماری اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائے گا؟

نیب گردی اور پولیس گردی کے ذریعے قائم حکومت جانے کی تیاری کرے: ڈاکٹر نفیسہ شاہ

فائل فوٹو

اسلام آباد :پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پشاور میں پولیس کی جانب سے ڈاکٹروں پر وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کو خون میں نہلانے والی حکومت شرم کرے، ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں۔

ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پشاور میں پولیس کی جانب سے ڈاکٹروں پر وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈاکٹروں پر تشدد سونامی کی بھیانک تصویر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو خون میں نہلانے والی نالائق حکومت شرم کرئے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری سے غریب علاج سے محروم ہونگے۔ انہو ں نے کہا کہ نیب گردی اور پولیس گردی کے ذریعے قائم حکومت جانے کی تیاری کرے ۔

اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کو پیچیدہ، مبہم اورناقابل عمل قرار دے دیا

لاہور: پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے خلاف ایک طرف جہاں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے نمائندے پنجاب بھر میں احتجاج کر رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف ماہرین کی طرف سے بھی تحریکِ انصا ف کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے سنگت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، اور اظہار خیال کیا۔ مقامی حکومتوں پر متعدد کتابوں کے مصنف اور سماجی تنظیم سنگت فاؤنڈیشن کے سربراہ زاہد اسلام نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے متعدد موضوعات پر بات کرتے ہوئے مقامی حکومت کے نئے قانون کو ‘پیچیدہ اور ناقابل عمل ‘ تصور قرار دے دیا۔

انہوں نے اس میں پائے جانے والے ابہام اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے بنیادی طور پر دو مسودے تیار کیے ہیں۔ پہلے مسودے کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 جبکہ دوسرے مسودے کو پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے درمیان کوئی انتظامی یا قانونی تعلق نہیں ہوگا۔ دوسری طرف پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019 اس بات کی ٹھیک سے وضاحت نہیں کی گئی کہ نیبرہوڈ کونسل کن علاقوں پر بنائی جائیں گی۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت 20 سے 25 ہزار آبادی کے حامل نیم شہری قصبوں کو نیبر ہوڈ کونسلز کا نام دے گی اور ان کا دیہی علاقوں کی تحصیل کونسلوں اور شہری علاقوں کی میٹروپولیٹین کارپوریشن یا مونسپل کمیٹیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
نیبر ہوڈ کونسل ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہوگا جس کے ارکان کی تعداد پانچ سے آٹھ ہوگی جبکہ ویلج کونسل کے ممبران کی تعداد تین سے پانچ ہوگی۔ پنچائیت اور نیبرہوڈ کونسل کے الیکشن غیر جماعتی ہونگیں اور ان کا دورانیہ تین سال ہوگا۔

نئے بلدیاتی انتخابات میں نوجوان، ٹیکنوکریٹ کی نشستیں اور تعلیم کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جب کہ اسمبلی کی مدت بھی پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی گئی ہے۔ اقلیتی علاقے میں اقلیتی نمائندہ ہی الیکشن لڑ سکے گا۔

بل کے متن کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر کم سے کم 25 سال مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ ووٹرز کی عمر اٹھارہ سال ہے، اس عمل سے یوتھ کو سیاسی عمل سے باہر کردیا گیا ہے۔

سنگت فاوُنڈیشن کی جانب سے منعقد اس نشست میں اکژیت نے نیبر ہوڈ کونسلز کے تصور کو رومانوی اور مبہم قرار دیا۔ زاہد اسلام نے کہا کہ وہ ان ابہام کی وضاحت کے لئے عدالت بھی جارہے ہیں۔
اس نشست میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی جنید قیصر اور احسن عباس رضوی نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی وفاقی پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی وفاقیت کے اصولوں پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے مضبوط مقامی حکومتیں چاہتی ہے، مگر اس سارے عمل میں جمہوری تقاضوں کو بلڈوز کیا گیا ہے، حکومت کو نیا ایکٹ بنانے کی اتنی جلدی تھی کہ اس نے ایک بھی سٹیک ہولڈر مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود اس کو منظور کرلیا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت غیر سیاسی اور غیر جمہوری نظام چاہتی ہے اس لئے نئے قانون کے ذریعے غیر سیاسی عناصر اور ٹیکنوکریٹس کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دئیے گئے ہیں۔ چونکہ اس سارے عمل میں سٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، لہذا یہ ناقابل عمل ہے، اور اس کی عمر مختضر ہوگی۔

اس نشست میں ٹراس جینڈر کیمونٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، نشست اور لنچ کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی کے شکرگزار ہیں کہ پارٹی نے پارلیمینٹ سے خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ کا بل کثرت رائے سے منظور کروایا۔

انہوں نے پی پی پی سینیٹر روبینہ خالد کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سینیٹ میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کا بل پیش کیا۔ یاد رہے کہ منظور کردہ بل میں حق وراثت، تعلیم کا حق، روزگار، حق رائے دہی، عوامی عہدہ رکھنے کا حق، صحت کا حق، اجتماع کی آزادی کا حق، عوامی مقامات تک رسائی کا حق اور جائیداد کا حق اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سئیے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے ٹراس جینڈر کیمونٹی کے وفد کو پارٹی آفس آنے کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا۔

پاکستان میں جمہوریت کی خاطر جتنی قربانیاں پیپلز پارٹی نے دیں ہیں، وہ کسی اور جماعت نے نہیں دیں: بلاول بھٹو زرداری

کراچی (28 ستمبر 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے ان 16 کارکنان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے، جنہیں تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کے دوران 29 ستمبر 1983ع کو گاوَں پنہل خان چانڈیو میں ضیاء کی آمریت کے ہاتھوں شہید کردیا گیا تھا۔

شہید کارکنان کی 36 ویں برسی کے موقعے پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی خاطر جتنی قربانیاں پاکستان پیپلز پارٹی نے دیں ہیں، وہ کسی اور جماعت نے نہیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زیرِ قیادت چلنے والی ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران کوڑے کھانے والے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے، جلاوطنیاں جھیلنے والے اور اپنی جانوں کی قربانیاں دینے والے عظیم لوگ تھے۔ قوم کے ہر باشعور فرد کے دل و دماغ میں ان کے لیئے احترام و جذبہ تاقیامت موجزن رہے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے شہید چیئرپرسنز اور کارکنان کے مشن پر سختی سے پابند ہے اور اس کی پاداش میں موجودہ قیادت و کارکنان کو قید و بند سمیت ظلم و جبر کے تمام ہتھکںڈوں کا سامنا آج بھی ہے۔ لیکن ہمارا عزم غیرمتزلزل اور حوصلے بلند ہیں۔ حقیقی جمہوری پاکستان ہماری منزل ہے، اب منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔

واضح رہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران 29 ستمبر 1983ع میں ضلع شہید بینظیر آباد کی تحصیل سکرنڈ کے گاوَں پنہل چانڈیو میں پیپلز پارٹی کے 16 کارکنان کو شہید کردیا گیا تھا، جن میں ٹھارو چانڈیو، رجب علی چانڈیو، علی شیر چانڈیو، غلام مصطفیٰ چانڈیو، پیر بخش چانڈیو، عرس چانڈیو، صدیق چانڈیو، گلاب چانڈیو، ہاشم خاصخیلی، جانب خاصخیلی، میرو خاصخیلی، علی گل خاصخیلی، محمد رمضان خاصخیلی، محبوب علی سولنگی، اللہ رکھیو سولنگی اور حسین بخش منگنھار شامل تھے۔