Spokesman for Asif Ali Zardari, says the Bilawal House, Lahore, has not issued any statement and no media delegation held a meeting with PPPP President

LAHORE: Discrediting a news, Amir Fida Paracha, the Spokesman for PPPP President Asif Ali Zardari, said the Bilawal House, Lahore, has not issued any statement and no media delegation held a meeting with the PPPP President.

Yesterday, the news surfaced on media that the PPPP President Asif Ali Zardari has said that former prime minister Nawaz Sharif deceived him and now he had to pay for it.

According to the news, Asif Zardari revealed the details of his tense relationship with Nawaz in a meeting with party leaders, sources informed the Geo News on Monday. “We used to think that Nawaz was very innocent, but he is far more cunning and opportunistic than we thought,” Zardari said, as per sources. They added that Zardari said Nawaz looked like innocent but he was very cunning at the core.

“We kept on agreeing on democracy, Constitution and civilian supremacy. While we were engaged in politics, Nawaz was busy in trading,” he said. “Nawaz has sold us out on every occasion and we were duped by him at all times. I wanted to maintain social relations with Nawaz but he took advantage of my goodwill,” said Zardari.

He added, “Nawaz will suffer now. I will not join hands with him anymore.” The former president further said that Nawaz had encouraged him to fight the establishment but then he shook hands with them.

“When I announced to hold former president Pervez Musharraf accountable, Nawaz didn’t support me. We had supported Nawaz when he filed a treason case against Musharraf. Nawaz had assured us that we will not let Musharraf go. When I made the statement that Musharraf won’t be allowed to travel abroad, Nawaz sent him out of the country. It turned out that Nawaz had made a deal with Musharraf prior to taking me into confidence,” he reportedly said.

Commenting upon his ‘responding a brick with a brick’ speech, Zardari said he made the statement after being insisted by Nawaz. In a heated speech on June 16, 2015, Zardari had warned the establishment not to overstep its mandate. “Don’t disturb us or we will also respond to a brick with a brick,” he had said, adding “there is a limit to everything. Do not interfere in matters where you have no authority.”

Zardari explained that Nawaz took advantage of the statement and tried to set the record straight with former army chief General Raheel Sharif. Nawaz also ordered organisations such as the National Accountability Bureau (NAB) among others to take action in Sindh, Zardari claimed.


آصف علی زرداری کا بلاول ہاؤس لاہورسےکوئی بیان جاری نہیں ہوا، میڈیا کا کوئی وفد ملا ہے نہ ہی ان کی کوئی میڈیا سے بات چیت ہوئی ہے: ترجمان آصف علی زرداری کی تردید

پیپلزپارٹی پارلیمینٹرینز کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان عامر فدا پراچہ نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدرآصف زرداری کا بلاول ہاؤس لاہورسےکوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان آصف علی زرداری عامرفدا پراچہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ آصف علی زرداری سے میڈیا کا کوئی وفد ملا ہے نہ ہی ان کی آج کوئی میڈیا سے بات چیت ہوئی ہے۔
آصف زرداری کا بلاول ہاؤس لاہورسےکوئی بیان جاری نہیں ہوا۔واضح رہے پیپلزپارٹی پارلیمینٹرینز کے صدر آصف علی زرداری کا بیان میڈیا پر آیا تھا جس کے مطابق انہوں نےبلاول ہاؤس لاہور میں پارٹی رہنماؤں اور سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ نواز شریف نے ہرموقع پر ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے لڑا کر خود ہاتھ ملا لیا، پرویز مشرف کے مواخذے سے لے کر اینٹ سے اینٹ کے بیان تک نواز شریف نے ہاتھ کرایا، میں نے پرویز مشرف کے مواخذے کا اعلان کیا تو نواز شریف پیچھے ہٹ گئے، انہوں نے پرویز مشرف کے مواخذے میں ساتھ دینے کے لئے شرائط عائد کردی تھیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ نواز شریف نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ بنایا تو ہم نے ان کا ساتھ دیا۔ نواز شریف نے اپنے قریبی افسر کے ذریعے یقین دلوایا کہ وہ پرویز مشرف کو جانے نہیں دیں گے، میں نے یقین کر لیا اور بلے کو جانے نہ دینے کا بیان دیا مگر نواز شریف نے پرویز مشرف کو باہر بھجوا دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ نواز شریف جب مجھے یقین دلا رہے تھے اس سے پہلے ہی وہ پرویز مشرف کے معاملے پر ڈیل کر چکے تھے۔
آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے میرے اینٹ والے بیان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راحیل شریف سے معاملات سیدھے کرنے کی کوشش کی، سندھ میں نیب اور دیگر اداروں کے ذریعے کارروایاں بھی نواز شریف کے کہنے پر ہوئیں، وہ اپنا کیا خود بھگتیں، میں اب کسی صورت اس سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔

Bilawal Bhutto Zardari extends felicitations to newly-elected body of Karachi Union of Journalists (KUJ), assures full support for protecting freedom of press and freedom of expression

KARACHI, April 30: Chairman Pakistan Peoples Party Bilawal Bhutto Zardari has extended felicitations to the newly-elected body of Karachi Union of Journalists (KUJ) and assured them his Party’s full support for protecting freedom of press and freedom of expression.

In a congratulation message to the newly-elected President Hassan Abbas and General Secretary Aajiz Jamali of KUJ, the PPP Chairman said his Party has always struggled together with journalist fraternity against the draconian laws enacted by dictatorial regimes. It was PPP government which abolished such laws aimed at gagging the press, he added.

Bilawal Bhutto Zardari hoped that newly-elected KUJ body will serve the journalist community and asked them to convey his felicitations to the other office-bearers.

#BilawalKarachiKa: Bilawal Bhutto Zardari thanks Karachiites, says Karachi remains Pakistan’s heart

Karachi: Pakistan Peoples Party (PPP) Chairman Bilawal Bhutto Zardari took to the micro-blogging site Twitter on Sunday, to say Thank you to the people of Karachi for welcoming him with open arms. He also said: “Thank you Liaquatabad, Karachi for welcoming me with open arms. Overwhelmed by the love you have shown at Tanki ground today. Karachi remains Pakistan’s heart.”


While addressing a rally in Karachi, he said his party will free Karachi from ‘Mustaqil Qaumi Musibat’. Bilawal said Karachi’s mandate was always hijacked by use of force.

“PPP is not the party of target killers or sector commanders. We didn’t run the city’s affairs on directions received from London,” he said, adding that if the founder of MQM was considered wrong for his political stance, so should his associates.

“We were against the politics of MQM-founder from day one. How could those who couldn’t be loyal to their leaders be loyal to you? They may have parted ways with him but they are still pursuing his political stance.”

The PPP chairman appealed to the people of Karachi to vote for him. He claimed that his party had continued to work for the city’s development even after its mandate was ‘stolen’.

“We brought peace in the city by launching the Karachi Operation under Sindh CM Murad Ali Shah against terrorists and militant wings,” said the PPP chief.

بلاول بھٹو زرداری کا کراچی میں خطاب ۔۔۔۔ رپورٹ وائس آف امریکہ #BilawalKarachiKa

رپورٹ وائس آف امریکہ
کراچی —
کراچی میں سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا 44 سال بعد مقامی سیاست کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ’لیاقت آباد‘ میں اتوار کی رات پہلا جلسہ ہوا۔ جلسے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن ان کی جماعت نے قائم کیا ہے لیکن اس کا کریڈیٹ دوسرے لوگ لینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں امن کا بیڑا اٹھایا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو کراچی پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ اگر کراچی کے شہریوں نے انہیں ووٹ دیا تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ شہر کو غیر امن پسند لوگوں سے نجات دلادیں گے ۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی اور بھٹو کا رشتہ نسل در نسل کا رشتہ ہے لیکن درمیان میں کچھ لوگوں نے نسل پرستی اور لسانیت کے نام پر دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف لاکھڑا کیا جبکہ آج میں محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی کچھ بھی کہے کراچی والے جانتے ہیں کہ اس تاریک دور میں نسل پرست قوتوں کا کسی نے مقابلہ کیا تو وہ پیپلز پارٹی تھی۔
کراچی کے مسائل کراچی سے محبت کرنے والا ہی ختم کرسکتا ہے ۔میں کراچی میں پیدا ہوا اور یہ میرا شہر ہے ، مجھے اس سے محبت ہے۔ہم نے کراچی میں امن کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ اگر آج کراچی آپریشن کو قیام امن کا سبب کہا جارہاہے تو اس کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ تھے ۔ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے سامنے ڈٹ گئی اور بلاخر کامیابی رہی۔
بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف پر بھی سخت تنقید کی ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے امجد صابری قوال کے نام سے صوفی انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
جلسے سے سندھ کے وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ نے بھی خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ کراچی ان کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شہر ہے ۔ دونوں کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی ۔ اس شہر کی اونر شپ اُن سب سے کہیں زیادہ ہے جنہوں نے اس شہر کو یرغمال بنا کر لوٹا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی بلاول اور بلاول کراچی کا ہے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پڑوسی ملک سے آئے لوگ کسی بھی شہر میں رہیں وہ سندھی ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے بھی سعودی عرب سے آئے مگر انہوں نے خود کو سندھی کہلوایا۔‘
انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے یہاں نئے وارث پیدا ہوگئے ہیں ۔ساتھ ہی انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بلا لے کر کرکٹ کھلیں ، عوام کی خدمت کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔
مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں مختص کئے جانے والے 5 ارب روپے پر بھی تنقید کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنا تو کراچی کا صرف دو مہینے کاخرچ ہے ۔
انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 4 سال تک وزیر اعظم رہنے کے باوجود ایک رات بھی کراچی میں گزارنا گنوارا نہیں کیا ۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں متحدہ قومی موومنٹ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر اس وقت بدامنی کا شکار ہوا جب یہاں کے عوام نے دھوکے میں آکر ایک ایسی پارٹی کا انتخاب کیا جس نے قوم پرستی کے نام پر انہیں یرغمال بنایا۔ مگر آج ایک مرتبہ پھر شہر کی رونقیں بحال ہورہی ہیں ۔ ہم نے دہشت گردی سے شہر کو پاک کرنے کے بعد اس کی تعمیر نو شروع کی۔ آج اس شہر کی اہم شاہراہیں عالمی معیار کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں۔ انڈر پاسز، فلائی اوورز،نالے اور نکاسی و فراہمی آب کا نظام دوبارہ تعمیر کیاجارہاہے اور اگلے مہینے کے آخر تک بڑے بڑے اہم کام مکمل ہوجائیں گے۔


پاکستان پیپلز پارٹی کا لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں 44سالوں میں ہونے والا پہلا جلسہ تھا ۔ چوالیس سال پہلے بلاول بھٹو زرداری کے نانا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسی گراؤنڈ میں جلسہ منعقد کیا تھا ۔
جلسے میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل بلاول ہاؤس میں بلاول بھٹو کی چھوٹی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری نے انہیں امام ضامن باندھا ۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شام 6 بجکر 55 منٹ پر جلسہ گاہ پہنچے ۔شرکاء نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ بلاول بھٹو نے حسب روایت گہرے بلو رنگ کا شلوار قمیض پہناہوا تھا۔بلاول کی تقریر سے پہلے پارٹی پرچم سے مشابہ رنگوں کے غبارے فضاء میں چھوڑے گئے ۔بلاول نے اپنی تقریر کا آغاز نعروں سے کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے خواتین اور مردوں سے الگ الگ نعرے لگوائے ۔جلسے سے شیری رحمٰن اور جاوید ناگوری نے بھی خطاب کیا۔
معروف قوال امجد صابری کی والدہ اوربھائی طلحہ صابری بھی جلسے میں خصوصی طور پر شرکت کی غرض سے جلسہ گاہ پہنچے جہاں ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔اس موقع پر طلحہ صابری نے غلام فرید صابری کا کلام ’بھٹو زندہ ہیں ‘ پیش کیا۔
ٹنکی گراؤنڈ ایف سی ایریا میں عوامی جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جلسہ گاہ میں 120 فٹ لمبا ، 40 فٹ چوڑا اور 24فٹ اونچا اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔ جلسے کا باقاعدہ ایک سلوگن’ پرامن کراچی سب کا کراچی ‘ تھا ۔ جلسہ گاہ میں پارٹی پرچم ، بڑی بڑی اسکرینز اور پینا فلیکس لگائے گئے تھے جن پر ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو ، آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو اور فریال تالپور کی تصاویر آویزاں تھیں۔