Asif Zardari’s May Day Message, says PPP will not permit retrenchments in the name of privatization

003
Islamabad April 30, 2017: The observance of the international Labor Day is an occasion to pay homage to the workers and wage earners as well as to renew our pledge to defend the dignity and ensure decent living to the workers of the country.

In a message on the on the eve of international Labor Day on Monday May 1 the former President of the Pakistan Asif Ali Zardari also vowed to not permit sacking of workers in the name of privatization.

“The Party will strive hard and harder for protecting the rights and privileges of the working classes and to expand them even further”.

The Party will always stand by the working classes as they continue their struggle for dignity and rights, he said.

Asif Zardari said that the Party is keeping an eye on the privatization process and will not permit the regime to sack workers in the name of privatization. The Party saves workers’ jobs and will not allow retrenchments.

The former president said that both the founding Chairperson and his daughter Shaheed Benazir Bhutto promised workers right to job security, decent wages and right to dignity and a rightful place in society. They also struggled alongside the labor for the attainment of these rights. We will ensure that the promises made by our Shaheed leaders are fulfilled in letter and spirit, he said.

The struggle for improving the working conditions of workers and protection from exploitation is a continuous one and the Party will continue its struggle to secure the rightful place of workers in the society, he said.

Advertisements

PPP calls for making inquiry report in Dawn leaks made public

Farhatullah Babar
Islamabad April 30, 2017: The Pakistan People’s Party calls upon the government to make public the inquiry report in the so called Dawn leaks to allay a host of doubts and misgivings.
In a statement Spokesperson Senator Farhatullah Babar said that the unceremonious sacking of Special Assistant Mr. Tariq Fatemi and Principal Information Officer Mr. Rao Tehseen, the unprecedented advice to APNS to proceed against the Editor and Reporter and the highly unprecedented public rejection by the ISPR of actions taken as ‘incomplete and not in line with recommendations of the inquiry board’ makes it absolutely necessary that the report is made public.
Confusion is confounded by the remarks attributed earlier to Mr. Tariq Fatemi dismissing the reports that he had been shown the door. The categorical statement of Interior Minister in Karachi on Saturday that his Ministry had not yet issued any notification just when the PM Office had indeed issued orders has given rise to several questions that need answers, he said.
The public statement by the ISPR through tweet rejecting publicly the order issued by the PM Office lends a new dimension to the incident that will give rise to some serious questions which will refuse to die down.
“The botching up of the incident is a measure of the incompetence of the government and insistence to keep the inquiry report under wraps will only complicate the matters further”, he said recalling also the statement of Interior Minister at the time that the report shall be made public.
He said that initially the government sought to clarify the news report sometimes as ‘baseless and fabricated’ and sometimes as ‘planted’. Despite declaring it as untrue at the time the government also termed the report as posing ‘threat to national security’ without explaining how.
Asking the media watchdog APNS to take action against the Editor and Reporter for alleged breach of national security takes the issue of stifling freedom of expression in the name of national security to new heights, he said.
These are some of the issues that call for making public the inquiry report and a thorough debate in the Parliament for devising appropriate guidelines, he said.

پیپلزپارٹی قومیت اور لسانیت کی سیاست پریقین نہیں رکھتی،سی پیک کو ناکام بنانے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا: حاجی علی مدد جتک

0

کوئٹہ : پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ مودی کے یارگوادر سی پیک کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کے کارکن اور عوام سی پیک کو ناکام بنانے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کو مضبوط اور بلوچستان کے 10لاکھ کے قریب نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ،پیپلزپارٹی قومیت اور لسانیت کی سیاست پریقین نہیں رکھتی ہمیں امت رسولؐ بن کر پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے انسانیت کی خدمت کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا قوم اورمذہب پرستوں نے عوام کو نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا 2018ء انشاء اللہ پیپلز پارٹی کا ہوگا اور اقتدار میں آکر عوام کے مسائل حل کرینگے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کلی نیک میں امیر بخش لہڑی ، کریم بخش ،ظہور احمد محمد شہی ، محمد اعظم محمد شہی ، نصیراحمد محمدشہی ، راشد ،عبدالراق زہری کی اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ بی این پی سے مستعفی ہوکر پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تقریب سے صوبائی جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ،سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی ،ثناء اللہ جتک ،حاجی ہاشم محمد شہی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر الطاف گجر، شہزادہ کاکڑ،عبدالباری موسیٰ خیل ، مولوی جمال ،ربانی خلجی ،جہانگیر خلجی ، یادگارسارنگزئی،ندیم آفریدی ،حیات ،جہانگیر اور دیگر بھی موجود تھے۔اس سے قبل امیر بخش لہڑی ،کریم بخش لہڑی اوردیگر نے بی این پی سے مستعفی ہوکر پیپلزپارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ بلوچستان میں قوم پرستوں اور مذہب پرستوں نے لوٹ مار اور کرپشن کے علاوہ عوام کو کچھ نہیں دیاسریاب پیکج کے نا م ر آنے والے اربوں روپے خوردبرد کی نظر ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ 67سال گزرنے کے باوجود ہمارے نوجوان غلط راستے پر بھٹک رہے ہیں انہیں پہاڑوں پر بھیج دیا گیامیں پہاڑوں پر جانے والوں اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور پاکستان کا جھنڈا بلند کریں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر یہاں کے مظلوم اور محکوم عوام کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پڑھے لکھے طبقے ،ٹیچروں،پروفیسروں کونشانہ بنایا گیااور تعلیم کے میدان میں بلوچ قوم کو 100سال پیچھے دھکیل دیا گیا جسکی وجہ سے ہم پسماندگی اور غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پیپلز پارٹی نفرت اور لسانیت کے نام پر سیاست یقین نہیں رکھتی ہمیں چاہئے کہ امت رسولؐ بن کر پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر عوام کی خدمت کریں ۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے شہید چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے چین کے ساتھ دوستی کی بنیاد رکھی تو انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن آج پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے چین کے ساتھ دوستی کی باتیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک منصوبہ صوبے کیلئے گیم چینجرکی حیثیت رکھتے ہیں جسے مودی کے یاراور ملک دشمن عناصر ناکام بنانا چاہتے لیکن پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن اور عوام ملکر انکی ان کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک منصوبے کی کامیابی کے بعددنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اور تاجر آپ کے ملک کے ویزے کیلئے ترسیں گے اور گوادر سی پیک منصوبے کے تحت بلوچستان کے 10لاکھ سے ذائد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اوربلوچستان دوسرا دوبئی ثابت ہوگا۔ انہوں نے نئے شمولیت کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہرکی کہ وہ پیپلز پارٹی کوعلاقے میں فعال اور منظم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ تقریب سے صوبائی جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ،سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی،ثناء اللہ جتک اوردیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اور قوم پرستی کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والوں نے عوام کو نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا صوبے کے عوا م آج بھی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پیپلزپارٹی غریبوں اور متوسط طبقے کی جماعت ہے جو اقتدار میں آکر عوام کی بلا رنگ و نسل خدمت کریگی گزشتہ دور اقتدار میں پیپلز پارٹی نے بلوچستان کو آغاز حقوق بلوچستان پیکج ،این ایف سی ایوارڈ،سرحد کو خیبر پختونخوا کا نام ،چھوٹے صوبوں کو صوبائی خودمختاری اور ملک کے غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا جس سے لوگ بھر پور استفادہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کے باعث آج بلوچستان کے ہرایم پی اے کو 25سے 27کروڑروپے فنڈز مل رہے ہیں موجودہ مخلوط حکومت صوبے کو ملنے والے فنڈز خرچ نہیں کر پارہی ہے اور صوبے کے 1کھرب سے ذائدکے فنڈز لیپس ہوکر لاہورمیں میٹروبس اور اورنج لائن منصوبے ر خرچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ خاص کر سرایب پیپلز پارٹی کے جیالوں کا گھر ہے ایک بار پھر بلوچستان کی سڑکوں پر جیئے بھٹو کے نعرے بلند ہورہے ہیں پیپلزپارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے عوام کے حقوق کیلئے پھانسی کے پھندے کو شہادت کو قبول کیا لیکن کبھی بھی اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی بلوچستان میں باقی عہدیداروں ، ذیلی تنظیموں اور اضلاع کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گااورپیپلز پارٹی کو صوبے بھر میں یونین کونسل کی سطح پر فعال اور منظم بنایا جائے گا ۔