The PM should personally invite the political leadership of the country, says Mian Manzoor Wattoo

DSC_0720
Prime Minister should personally invite the political leadership of the country of all spectrum, not through the military Secretary, without delay to evolve political consensus on war against terrorism that is war of survival, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP in a statement issued from here today.
He said that all political leaders were respectable people who were committed to defeat terrorism and known for their unwavering commitment to Pakistan and democracy.
While underscoring the importance for forging unity among the political leadership he said that the government should play a pro-active role in this regard because country needed such unity when it was in a state of war and fighting the war to save the state, its way of life and the constitution.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the government should open dialogue with the political parties those had been agitating for the acceptance of their demands. It should be the endeavor of the government to address their grievances through negotiations instead of resorting to tardiness and cauldron keep boiling, he added.
He said that in democracy you could not wrap up the things under rug adding you have to face these issues with the determination to resolve the same through engagement and reconciliation with other political forces with the spirit of accommodation and tolerance.
While commenting on the reported imitative of the Prime Minister to meet the former President, Mr. Asif Ali Zardari, Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that PPP Co-Chairman, being a matured and wise leader, would give him good piece of advice for facilitating the continuity to the political process in the country and also seeking out whole hearted support from the political parties for the military operation in FATA.
He observed that ironically, the political leadership of the PML (N) had been victim of its delayed or no action in the past on important political issues of national importance leading to shooting its foot with its own gun. Unfortunately, we do not see a paradigm shift even now of an appropriate proportion, he added.
He said that on October 4, 1999, the whole political leadership was gathered under the banner of Grand Democratic Alliance (GDA) at the residence of Ghulam Muhammab Balior in Peshawar. The whole opposition was in the street but the government led by PML (N) being the biggest stakeholder was indifferent to the whole political scenario that led to the imposition of Martial Law by General Musharraf on October 12, the same month.

وزیراعظم پاکستان کو ملک کی تمام سیاسی قیادت کو ذاتی طور پر’’ ملٹری سیکرٹری کے ذریعے نہیں‘‘ فوری دعوت دینی چاہیے تا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کے لیے قومی وحدت پیدا کی جاسکے۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین قابل احترام ہیں جنکی پاکستان اور جمہوریت سے وفاداری متنازع نہیں ہے اور تمام دہشتگردی کو شکست فاش دینا چاہتے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اِسوقت جتنی سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے کبھی نہ تھی کیونکہ قوم اور فوج ریاست کی بقاء، طرز زندگی اور آئین کی جنگ لڑ رہی ہیں۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت کو اُن سیاسی پارٹیوں سے فورًا مذاکرات کرنے چاہئیں جو اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر آنا چاہتی ہیںیا پہلے ہی سڑکوں پر ہیں۔ حکومت کی ہرممکن کوشش ہونی چاہیے کہ اُنکے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور مذاکرات کے ذریعے اُنکی شکایات کا ازالہ کرے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مسائل کو التواء میں نہیں ڈالا جاسکتا اس لیے یہ ضروری ہے کہ اِنکو حل نہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے اِنکو حل پر پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔وزیراعظم پاکستان کے حوالے سے چھپنے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اُنکی سابق صدر آصف علی زرداری سے متوقع ملاقات ملک میں ایک اچھا سیاسی ماحول پیدا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدرآصف علی زرداری ایک زیرک اور تجربہ کار سیاستدان ہونے کے ناطے وزیراعظم کو جمہوریت کے تسلسل اور دہشتگردی کے خلاف سیاسی اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل (این) کی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ سیاسی مسائل کا سامنا نہیں کرنا چاہتی یا بڑی دیر کے بعد اُن پر توجہ دیتی ہے جسکی وجہ سے مسائل گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4اکتوبر 1999میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے بینر تلے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پشاور میں غلام محمد بلور کی رہائش گاہ پر اجلاس میں موجود تھے جو جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے لیکن اُسوقت کی پی ایم ایل (این) کی حکومت سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہونے کے باوجود اُسکے کان پر جوں تک نہ رینگی اور ٹھیک آٹھ دن کے بعد جنرل مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا تھا۔

Advertisements

پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک باد

MMW
JMW

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو، جنرل سیکریٹری تنویراشرف کائرہ، سیکریٹری اطلاعات راجہ عامر خان، سیکریٹری ریکارڈ اینڈ ایونٹ میاں منظور مانیکا، ہیڈ سوشل میڈیا جہاں آرا وٹو نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد پر دلی مبارک باد پیش کی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ماہ صیام تمام مسلمانوں کے لئے باعث رحمت ،باعث مغفرت اور باعث نجات کا سامان لے کرآتا ہے، اور یہ قربانی، تزکیہ نفس اور صبر وبرداشت کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کی بہت بہت مبارک باد اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی زندگیوں اور پاکستان میں رمضان المبارک کی برکت سے امن، استحکام، محبت اور ترقی لائے اور پاک فوج کو دہشتگردوں کے خلاف جنگ” ضرب عضب“ میں کامیابی عطا فرمائے۔ ہیڈ سوشل میڈیا جہاں آرا وٹو نے کہا کہ رمضان المبارک نیکیوں کا مہینہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، بخششوں اور مغفرتوں کو سمیٹ لینے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ہمیں غربا، یتیموں، بے سہاروں، بیواؤں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرکے زیادہ سے زیادہ رحمتوں، بخششوں اور مغفرتوں کو سمیٹ لینا چاہیے۔