جیل کی دہشت، کھوکھلے سُورمے اور مردِحُر

ZARDARI

تحریر: امام بخش

imamism@gmail.com

 ایک زمانہ تھا کہ ہمارے کمانڈو پرویزمشرف نے اپنی بہادری کی دھاک پوری قوم پر بٹھائی ہوئی تھی کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ وردی میں سوا چھ لاکھ فوج کے بل بوتے پر بڑھکیں مارنا اور بات بات پر مُکے دکھانا اُن کی فطرت ِ ثانیہ بن گئی تھی۔ ان کے دلیر چہرے سے نقاب بیچ چوراہے تب اُترا، جب غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اُنھیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ۔ اور بہادر کمانڈو خود ساختہ حیلے بہانوں کے بعد ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کےجلوس میں، عدالت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ہی  ‘کثرتِ شُجاعَت’ کا شکارہونے کے بعد اب ایک فوجی ہاسپٹل میں قلعہ بند ہیں۔

عمومی طور پر سچ سمجھی جانے والی ایک رائے کے مطابق پرویز مشرف کا ہارٹ اٹیک یا دوسری بیماریاں صرف بہانےہیں۔ اگر یہ گُمان دُرست ہے تو بھگوڑے کمانڈو نے بہادروں کی بجائے بُزدلوں کی طرح 1965ء اور کارگل کی جنگوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی اپنی روایت ایک بار پھر دوہرا کر پاک فوج کی ‘توقیر’ میں خوب اضافہ کیا ہے۔ ویسے کمانڈو جنرل پاک فوج کا ‘وقار’ بڑھانے کے کئی دیگر ریکارڈ پہلے ہی قائم کرچکے ہیں۔ موصوف کی طرف سے ٹیک اوور کے ‘صائب’ فیصلے کے بعد فوج کی ‘مقبولیت’ کا عروج تب دیکھنے میں آیا جب فوجی جوان عام پبلک کے سامنے وردی پہن کر نہیں جاسکتے تھے۔

جب سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی ہے، اُن کے چہرے پر ہوائیوں کے مسلسل طوفاں برپا ہیں۔ اُن کےحواس مختل ہو چکے ہیں، سارا جاہ وحشمت، کروفراورتحکم ہوا ہوگیا ہے اور موصوف ہمہ وقت زہریلے کانٹوں اور دہکتے کوئلوں پر لَوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جناب عدالت سے ایسے بدک رہے ہیں جیسے وہاں عزرائیل بیٹھا ہوا ہے جو شدت سے صرف ان کے انتظار میں ہے۔

آثار بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف سچی جھوٹی پھیلی افواہ سے دہشت زدہ ہوگئے ہیں کہ نظربندی کے احکامات تیار ہیں اور پہلی پیشی کے بعد اُن کو چک شہزاد میں واقع ان کے اپنے ذاتی عشرت کدے یعنی فارم ہاؤس میں بھیجنے کی بجائے کسی ریسٹ ہاؤس میں نظربند کر دیا جائے گا ۔

نظربند ی کے خوف سے پرویز مشرف پر بیتنے والی یہ “واردات قلبی” ہمیں قوم کے چند دوسرے رہنما ؤں کےاحوال یاد دلا گئی جو مختلف ادوار اور مختلف مقدمات میں نظربند رہے یا جیلوں میں قید ہوئے۔ پاکستان کی دلچسپ سیاسی تاریخ کے حوالے سے یہ فہرست ہے تو طویل مگر ہم یہاں اختصار کی خاطر محض وقتِ موجود کے چند سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ ہی کررہے ہیں۔

1۔ شریف برادران

حکمرانی  کی سِلور جُوبلی منانے والے اور ‘لشکرِصادق و امین’ کے محبوب ترین خاندانِ شریفاں نے جیل میں ایک سال  کا عرصہ نالوں، فریادوں،  مِنتوں اور ترلوں میں  بڑی مشکل سے کاٹا۔  جیسے ہی ان کے معاملا ت ڈکٹیٹر  پرویز مشرف کے ساتھ طے  پائے،  تو یہ پُورا خاندان عوام  اور  جیلوں میں بندمسلم لیگی لیڈروں تک کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میں  انھیں تنہا چھوڑکررفوچکر ہو کر سعودی عرب میں سَروَر  پیلس میں سَرُور لینے  جاپہنچا۔ یاد رہے کہ یہ خاندان اپنا پُرتعیش سامان،  پسندیدہ باورچی اور مالیشئے ساتھ لے جانا نہیں بُھولا۔

اُن دنوں جیل میں نوازشریف کے ساتھ والے سَیل میں  بند سینئر مسلم لیگی رہنما غوث علی شاہ  ( جن کو میاں صاحب نے جیل سے چُھوٹنے اور پاکستان چھوڑنے کے معاہدے کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی اوراُنھیں خاندانِ شریفاں کی روانگی کے بعد حقیقتِ حال کا پتہ چلا) کی طرف سے اپنے قائد نوازشریف کے حضور اس یاس بھرے شِکوے نے بہت سوں کو رُلا دیا تھا کہ “جناب اِتنے بڑے جہاز میں ایک سیٹ ہمارے لیے بھی رکھ لی ہوتی، ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کے گھرچلے جاتے اور اس عذاب سے بچ جاتے جو بعد میں بُھگتا”۔

ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے “حرم” میں نازونعم سے پرورش پانے والے شریف برادران، اپنے پورے خاند ان سمیت ایک دوسرے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدوں کی دستخط شدہ دستاویزات منظر عام پر آ نے سے پہلے کامل سات سال (2000ء سے لے کر 2007 ء تک) قوم کے سامنے پورے اعتماد سے بار بارجھوٹ بولتے رہے کہ انھوں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط۔

پاکستانی قوم 22 اگست 2007ء کو اُس وقت سکتے میں آگئی، جب پرویز مشرف حکومت کی طر ف سے اُس معاہدے کی مصدقہ نقول سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئیں، جس پرمیاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے 20 دیگر افراد نے دسمبر 2000ء کو جیل سے جان چھڑانے اورپاکستان چھوڑنے کے وقت دستخط فرمائے تھے۔

سرور پیلس میں گذری اس “وی وی آئی پی جلاوطنی” کے دوران خاندانِ شریفاں پاکستان سے آنے والی ٹیلیفون کال کی گھنٹی پر بھی تھرتھرا جاتا تھا، حالت یہ تھی کہ قربانیاں دینے والے مسلم لیگی لیڈروں تک کے فون نہیں سُنے جاتے تھے۔

شریف فیملی نے سعودی عرب میں بھی سٹیل ملز لگا کر نوٹ کمانے کا سفر البتہ جاری رکھا۔ وہاں سرُور پیلس میں بیٹھ کر لطیفے سننے اوراپنے پسندیدہ کھابے کھانے اور کھلانے میں وقت خُوب مزے میں گزرتا رہا۔ البتہ پیچھےنون لیگ کے متوالے ذلیل وخوار ہوکر مُنہ چھپاتے پھرے۔

سات برس سے زیادہ عرصہ بیتنے کے بعد بالآخر 8 ستمبر2007ء کو میاں نواز شریف نے وطن واپس لوٹنے کا اعلان کرتے ہوئے لندن میں، پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ان کی جلاوطنی ایک معاہدہ کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم ان کا ارشاد تھا کہ اس معاہدے کی مدت 5 سال کے لیے تھی نہ کہ 10 سال کے لیے۔

میاں محمد نواز شریف نے نومبر 2007ء میں پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کمال ڈھٹائی کا پھر سے مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ”ہم کوئی عہدہ لینے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر واپس آئے ہیں۔ ہم ڈیل ویل پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم ڈیلوں والے لوگ نہیں ہیں، ہماری رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا ہے۔ ہم نے کبھی سات دن ملک سے باہر نہیں گذارے تھے لیکن ملک و قوم کی خاطر سات برس جلاوطنی کاٹی اور ڈیل نہیں کی”۔

جدّہ اور لندن میں نواز شریف کی جانب سے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے سے انکاراور پرویز مشرف کا ساتھ دینے والو ں کو اپنے ساتھ کبھی نہ ملانے کی بے شمار قسموں،  وعدوں کے چشم دِید گواہ صحافی اِس دنیا میں ابھِی موجود ہیں۔ جن کے مطابق میاں صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ “پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہو گا”۔ بعد میں جیل سے جان چُھڑانے کےلئے پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے منظر عام پر آگئے، ثابت بھی ہوگئےاور آمر پرویز مشرف کے تقریباً 200 پارلیمنٹرین ساتھی بھی آج نون لیگ میں نواز شریف کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

2۔ چوہدری نثار علی خان

جیل تو بہرحال جیل ہوتی ہے، مگر اپنے گھر میں دنیا بھر کی سہولتوں کے ساتھ نظر بند ی بھی بہت سوں کیلئے ناقابل برداشت ہوا کرتی ہے۔ یقین نہیں تو طنطنے اور رعونت کے طومار  اور بڑھی پونچھ کے آدمی چوہدری نثارعلی خان سے پوچھ لیں، جو پرویز مشرف کے دورحکومت میں جب اپنے گھرمیں فرمائشی طور پرنظربند تھے تو نظربندی کی تکلیف اتنی شدت تک پہنچ گئی کہ موصوف اپنی والدہ سے پرویز مشرف کو خط لکھوانے پر مجبور ہوگئے۔ جس میں درخواست کی گئی کہ جنرل صاحب ان کے بیٹے کو رہا کردیں تو وہ وعدہ کرتی ہیں کہ برخوردار آئندہ کبھی سیاست نہیں کریں گے، اور اگر کبھی سیاست کرتے نظر آئے تو وہ انھیں اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔

3۔ شیخ رشید اور اعجازالحق

جیل کی دہشت کا راز ‘پسرِ عسکر’ اعجازالحق اور شیخی بازشیخ رشیدپر تب کھلا، جب 1993ء میں اُن کی طرف سے راولپنڈی کے ایک جلسے میں کلاشنکوف لہرا لہرا کر حکومت کے خلاف بڑھکیں مارنے کے بعد نصیر اللہ بابر مرحوم ایکشن میں آگئے۔ اعجازالحق تو کھلونا کلاشنکوف کہہ کراپنی جان بچاگئے مگر شیخ رشید اپنی زبان کی تُندی کو کلاشنکوف سے زیادہ تیز سمجھ کر اس پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے جیل جا پہنچے۔ بے خزاں باتونی کا زبان پر بھروسہ سچا نکلا کیونکہ زبان تو تیز تررہی مگر بچوں کی طرح بلند چیخیں مارکر ہمسائے قیدیوں کا جینا حرام کردیا اور خود ساختہ بہادری کا سارا کچا چٹھا کھل کر سامنے آگیا۔ یہ کھجلی زدہ زبان کے مالک شخص پانچ کلو برف روزانہ اور ایک عدد روم کُولر کے لیے پارٹی تک بدلنے کو تیار ہوگئے۔ سیدہ عابدہ حسین کے ذریعے فریادوں کے انبار لگادیئے مگر محترمہ بینظیر بھٹونے انھیں اپنی پارٹی میں لینے سے انکار کردیا۔

4۔ عمران خان

آج کے ‘محمود غزنوی’ عمران خان، جو جمہوری رویّے کے حامل اشخاص پر بہ ہتھیار دشنام طرازی باربار حملے کرنے میں  ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ اُن کا فرمان ہے کہ وہ ٹیپو سُلطان کی طرح جینا چاہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے تخلیق کاروں سمیت طالبان کی بدمعاشیوں پر بطور احتجاج ہلکی سی “چُوں” بھی نہیں فرما سکے۔ اِن سے متعلق ایک ضرب المثل یاد آتی ہے “ڈریں لومڑی سے نام دلیر خان”۔

عمران خان پر  بھی جیل کی حقیقت پوری طرح وا ہے کیونکہ اُن کے اپنے بقول  جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو پولیس نے اُن کے گھر چھاپہ مارا، والد صاحب کے علاوہ اُن کی بہن بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھیں، اور گُفتار کے “ٹیپوسُلطان” ان سب کو بدتمیزی کرتی پولیس کے رحم وکرم پر چھوڑکر دس دس فُٹی دو دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گئے کیونکہ آپ پہچان گئے تھے کہ پولیس اُنھیں صرف ہاؤس اریسٹ کرنے نہیں بلکہ جیل میں بند کرنے کے لیے لینے آئی تھی۔

5۔ یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مشرف دور میں مسلسل 6 سال بڑی بہادری سے جیل کاٹی اور فوجی حکومت کے بے پناہ پریشر کا جوانمردی سے سامنا کیا۔ اُن کے خلاف بطور سپیکر نیشنل اسمبلی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 300 افراد کو ملازمت دینے کے الزام میں، نواز شریف کے دُوسرے دور میں، نیب میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ بعد ازاں 11 فروری 2001ء میں اُنھیں پرویز مشرف کی حکومت نے اِسی الزام میں گرفتار کرلیا ۔ ستمبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اُنھیں 10 سال قید با مشقت اور دس کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ پابندِ سلاسل کردیئے گئے۔ دورانِ جیل ان کے سب بینک اکاؤنٹ سِیز کردیئے گئے۔ ان کی مالی حالت یہاں تک جا پہنچی کہ ان کے بچوں کے پاس سکول فیس تک کیلئے رقم نہیں تھی اور اِن کو ملتان میں واقع اپنے گھر کا ایک پورشن بیچنا پڑا۔ گیلانی کی جیل جانے کی خبر اُن کی والدہ سے پوشیدہ رکھی گئی تھی۔ جب اُنھیں معلوم ہوا کہ گیلانی پنڈی جیل میں ہیں تو وہ صدمے سے انتقال کرگئیں۔

6۔ جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کا نام نامی بھی اُن سیاستدانوں میں شامل ہے، جنھوں نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء بارے ایک واضح موقف اختیار کیا اور فوجی حکومت پر تنقید کی پاداش میں 6 سال تک جیل کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔ جاوید ہاشمی نے شریف برادران کی پاکستان سے غیر موجودگی کے دوران نُون لیگ کو زندہ رکھا اور ڈکٹیٹر کی بھرپور مزاحمت کی، مگر شریف برادران نے پاکستان لوٹنے پر اُن سے بے رُخی برتنا شروع کردی۔ “شرفاء” اِس سے قبل ہاشمی کی بیٹی کو جسمانی طور پر پِٹوا کر اس خاندان کی قربانیوں کا بھرپور ‘اعتراف’ بھی کرچکے تھے۔ میاں برادران نے خود پرویز مشرف کے اقتدار میں مزے لُوٹنے والوں کے ساتھ پینگیں جُھولنا شروع کردیں جبکہ مارشل لاء کے بُرے دنوں میں پُرتعیش زندگی کے مزے لینے والے چوہدری نثار علی خان کو جاوید ہاشمی کی جگہ پہلے سینئر منسٹر اور پھر اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا گیا۔

جاوید ہاشمی سرائیکی بیلٹ کی محرومیوں پر بھی کھل کر بولتے تھے جواپنے تَئیں  پنجاب کے مالک شریف برادران کو سخت ناپسند تھا (اب ہاشمی البتہ اِس سنجیدہ معاملے پر خاموش ہیں،  امکان غالب ہے کہ اُنھیں نئی پارٹی میں بھی پہلے والی صورتحال کا سامنا ہے)۔  ایک بار جب جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی میں سرائیکی صوبے کے حق میں تقریر کی تو اگلے ہی روز نواز شریف کے رشتہ دار ایم این اے عابد شیر علی نے قومی اسمبلی میں ہی اس کا جواب دیتے ہوئے پنجاب کی تقسیم کی بات کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنے اور زبان کھینچنے کی دھمکی دے کر ایک طرح سے جاوید ہاشمی کو ’شٹ اپ‘ کال دی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ عابد شیر علی نے یہ تقریر نواز شریف کے کہنے پر ہی کی تھی۔ ایک اور واقعے میں ایک مُسلم لیگی لیڈر نے جاوید ہاشمی کو نوازشریف کے سامنے بیٹھ کر گالیاں دی، مگر نوازشریف نے نہیں روکا۔ جاوید ہاشمی پارٹی کی لیڈرشپ کی طرف سے مُسلسل بے رُخی اور تذلیل کی وجہ سے بددل رہتے تھے۔ پھر بھی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ ہاشمی مارشل لاء کی صعوبتوں کے سامنےتو پورے قد کے ساتھ کھڑے رہے مگر اُس وقت بالکل ٹوٹ گئے جب اُنھیں معلوم ہوا کہ ان کے لیڈر نواز شریف نے سپریم کورٹ میں متنازعہ میمو پر پٹیشن دائر کرنے سے پہلے، اس واقعہ میں اہم کردار ادا کرنے والے ایک سینئر فوجی اہلکار سے خُفیہ ملاقات کی تھی۔ جاوید ہاشمی اپنی قربانیوں کے باوجود پارٹی قیادت کی سرد مہری سے خائف تو تھے ہی لیکن اس ملاقات سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور بالآخر اُنھوں نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔

7۔ آصف علی زرداری

آصف علی زرداری تقریباً بارہ برس جیل (عمر قید کا برابر عرصہ) بغیر کسی جُرم کے، صرف انتقامی سیاسی مقاصد کے طفیل کاٹ چکے ہیں۔ اُن کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور ‘عدل’ بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پاگئے لیکن حکومت اور افتخار چودھری سمیت تمام ججوں نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کردیا۔

اسیر زرداری پردورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے کہ کیسے انھیں ذلت آمیز طریقے سے رات بھر سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ انھیں گھنٹوں کھڑا رکھ کر ان کی آنکھوں میں مسلسل تیز روشنی ماری جاتی تھی۔ انہیں دہشت زدہ رکھنے کے لئے تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جاتے رہے، زبان اور گردن پر کٹ تک لگائے گئے۔ انھیں جیل میں ہی دل کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، مگر آصف علی زرداری فوجی اور سویلین، ہر قسم کی حکمرانوں کے تشدد کا بہادری سے سامنا کرتے رہے۔ اپنی ہر تکلیف صبر، خاموشی، شجاعت اور حُسن توازن پر مبنی عظمت ِکردار سے جھیلی اورکسی لمحے بھی خوف اور ناامیدی کو خود پر طاری نہیں ہونے دیا اور اس طرح اِس مردِ آہن نے مخالفین کو اُن کے مذموم ارادوں میں کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دِیا۔

آئی بی کے سابق سربراہ اور میاں نوازشریف کے پی ایس او کرنل (ر) محمد خان نیازی کا اعتراف تاریخ کا حصَّہ ہے، جس میں انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ نواز شریف اور سیف الرحمٰن نے ان سے کیسے قانون شکنی کروائی۔ کراچی جیل میں تشدد کے واقعہ کو آصف زرداری کے قتل کی کوشش کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ سی آئی اے کے شواہد سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ زرداری کو جانی نقصان پہنچایا جانا مقصود تھا۔ الغرض ہر دور کے حُکمرانوں نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو تنگ کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ بغیر کسی واضح الزام کے ان کے بنک اکاؤنٹس تک سیز کردیئے گئے۔ محترمہ بےنظیر بھٹو صبح راولپنڈی کی عدالت میں ہوتیں تو دوپہر کو لاہور اور دوسری صبح کراچی میں پیشی بھگت رہی ہوتی تھیں۔ جب محترمہ بےنظیر بھٹو بچوں کے ساتھ اپنے خاوند سے ملاقات کے لیے جیل میں جاتی تھیں تو انھیں اکثر جیل کی ڈیوڑھی میں سخت گرمی اور تپتی دھوپ میں فٹ پاتھوں پر بٹھا کر طویل انتظارکروایا جاتا۔

آصف علی زرداری اپنی اولاد کے بچپن کا دور تک دیکھنے سے محروم رہے۔ بچوں کا ساتھ تب نصیب ہوا جب وہ اپنی نوعمری کی دہلیز پار کر چکے تھے۔ اِن بچوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد زیادہ وقت انھیں صرف جیل میں ہی دیکھا تھا۔ ہر ملاقات پر معصوم بچے انجانے میں ان سے اِصرار کرتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ گھر چلیں۔ چھوٹی بیٹی آصفہ تو اکثر پوچھا کرتی کہ وہ دوسرے بچوں کے بابا کی طرح ان کے ساتھ گھر میں کیوں نہیں رہتے؟۔ اور جج انھیں جیل کی چھوٹی سی کوٹھڑی سے رہا کیوں نہیں کرتے؟  ایک دن تو ننھی آصفہ ضِد کر بیٹھی کہ وہ اپنے بابا کو ساتھ لے کر جج کے پاس جائے گی اور اس سے خود لڑائی کرے گی کہ وہ اس کے بابا کو گندی سی اس جگہ سے رہا کیوں نہیں کرتے۔ معصوم آصفہ اپنے بابا سے بار بار پُوچھا کرتی کہ آخر جج صاحب کو احساس کیوں نہیں کہ ہمیں بھی اپنے بابا کی ضرورت ہے؟

بعد میں بچے کچھ بڑے ہو کر باتوں کو سمجھنا شروع ہو گئے۔ اور ان کو بھی  معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے بابا کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہو رہا ہے؟

آصف علی زرداری  نے قید کے دوران اپنے آپ کو شیر کہلانےکے شوقین نوازشریف اور  ان کے احتساب سیل کے انچارج سنیٹر سیف الرحمٰن کی طرح صنف ِلطیف ایسے احساسات سے مغلوب ہو کر آنسوبھری آنکھوں کے ساتھ گلوگیری انداز  کبھی نہیں اپنایا۔   دیکھنے والوں نے  اُنھیں جب بھی دیکھا ،وہ ہر وقت  اپنے چہرے پر مسکراہٹ  لئے ہوئے ملے۔  وہ قید کے دوران کبھی ڈرے نہیں اور نہ  ہی اللہ کی رحمت سےمایوس ہوئے بلکہ ہمیشہ پُراُمید رہے۔ انھوں نے  کٹھن ترین  مراحل کو ہمیشہ مُثبت انداز میں لیا۔  نومبر 2004ء میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت میں پیشی پر صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے قید کے دوران کیا کھویا اور کیا پایا تو انہوں نے کہا کہ “قید میں جوانی تو گئی،  لیکن سیاسی تدبر،  حالات کو سمجھنے کی صلاحیت،  اچھے دوست اور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے”۔

پرویز مشرف کے دور میں جب ایک بار آصف علی زرداری کو جیل سےراولپنڈی عدالت میں پیشی پر لایا گیا تونوازشریف کے دوسرے دورِحکومت کے اِحتساب  سیل کے سابق چیئرمین  سیف الرحمٰن کوبھی  ہتھکڑیوں میں  وہاں لایا گیا  تو اُس نے جیسے ہی  آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن  کے قدموں میں  گرگیا اور  گِڑ گڑا کر معافیاں  مانگنے لگا،  وہیں سیف الرحمٰن کی ماں بھی موجود تھیں ، انھوں نے بھی معافی کی درخواست کی تو زرداری نے کوئی گلہ کئے بغیر اُسے فوراً معاف کردیا۔ یاد رہے  یہ وہی  سیف الرحمٰن  تھا،  جس نے  محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کئے،  جو نوازشریف کی خواہش پر شہباز شریف کے ساتھ مل کر ججوں کو فون کر کے ان کو زیادہ سے زیادہ سزا دِلوا کر عبرتنا ک مثا ل بنانا چاہتا تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیڈروم کی ویڈیوز بنانے تک   کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ سیف الرحمٰن کے بارے میں میاں شہباز شریف خود انکشاف کر چکے ہیں کہ کیسے سیف الرحمٰن لاہور میں ایک عدالتی پیشی کے دوران آصف علی زرداردی کو قتل کرنے منصوبہ بنا چکا تھا۔

اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہئے کہ جب آصف علی زرداری کراچی جیل میں بند تھے تو اُنھیں پابند سلاسل کرنےکا ذمے دار اور سب سے بڑا کردار میاں نوازشریف خود روتے دھوتے وہیں آن قیدی بنا۔ اور اس زودِ پشیماں نے نوید چوہدری کو معافی کی درخواست کا پیغام دے کر آصف علی زرداری کے پاس بھیجا ۔ زرداری پیغام سُن کر مُسکرائے اور لمحہ بھر کو سوچے بغیر نوازشریف کو معاف کردیا۔ یقین جانئے کہ آصف زرداری کی جگہ کوئی بھی دوسرا ہوتا، وہ مرحوم پیر پگاڑا کےمیاں محمد نواز شریف سے متعلق ایک ثابت شدہ قول کی سچائی پر کم از کم ایک بار ضرور غور کرتا کہ “یہ جب کمزور ہوتا ہے تو پاؤں پکڑ لیتا ہے اور جب طاقت ور بن جاتا ہے تو گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے”۔

آصف علی زرداری کو ہر حکمران نے جھکانے اور توڑنے  کی بھرپور کوشش کی۔  زرداری کو جھکا کر یہ حکمران محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنی  مرضی کی شرائط  پرمعاملات   طے کرنا چاہتے تھے۔ مگر وہ  آبرو مندانہ استقلال کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے رہے ۔ زرداری ساری عمر دکھ جھیلتے رہے ،  زخم سہتے رہے  اور صبر کرتے  رہے۔ کیسز بنانے والے تینوں بڑوں غلام اِسحٰق خان، نوازشریف اور پرویزمشرف کے اعترافات ریکارڈ پرہیں کہ کیسز جھوٹ بنائے گئے۔ مگر زرداری نےکبھی  شکوہ سنجی اور برہمی کا اظہار نہیں کیا۔حتٰکہ اپنی عظیم بیوی کی شہادت کے بعد بالکل صبر اور خاموشی کے ساتھ تابوت اٹھا کر گڑھی خدابخش لے گئے۔  جیلیں بھلا دیں۔ قتل فراموش کر دئیے۔ ہر ظلم اور زیادتی کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی جوانی کا قیمتی دور جیلوں، عقوبت خانوں اور تنگ و تاریک قلعوں کی نظر کر دیا۔ زرداری نے قیدوبند کے اس طویل اور صبرآزما دور میں ایسے مثالی استقلال کا مظاہرہ کیا کہ دائیں بازو کی صحافت کا بااثر ترین کردار، خاندانِ شریفاں کا قریبی تعلق دار اور پیپلز پارٹی کا  نظریاتی طور پر مخالف ترین شخص مجید نظامی بھی عش عش کر کے زرداری کو ”مَردِحُر” کا خطاب دینے پر مجبور ہوگیا۔  بعد ازاں گلہ کرنے پر مجید نظامی کی طرف سے میاں نوز شریف کو دیا گیا یہ دندان شکن جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ “میاں صاحب، اگر آپ معاہدہ کرکے ملک سے فرار ہونے کی بجائے زرداری کی طرح صعوبتوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت دکھاتے تو تب میں آپ کو مردِ حُر سمجھتا”۔

بشکریہ دی سپوکس مین، 14 جنوری 2014ء

http://thespokesman.pk/index.php/opinion/opinion/item/7464-2014-01-10-10-48-32 

Advertisements