تحریک انصاف اورمسلم لیگ نواز نے ابھی تک دہشت گردی کے بارے میں واضح پالیسی نہیں بنائی: راجہ عامرخان

IMG_4847

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات راجہ عامرخان نے کہا ہے ڈیرہ اسماعیل خان پرطالبان کا حملہ اور اپنے 250سے زیادہ ساتھی چھڑا کر لے جانا بہت تشویش ناک اور باعث شرم بات ہے، اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جو لوگ جیل میں ڈیوٹی کر رہے تھے ان کو معطل کر دیا گیا ہے یا ان کا ٹرانسفر کر دیا گیا ہے جبکہ ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں ہے قصور تو موجودہ حکومت کا ہے انھوں نے کہا ہے کہ خبیر پختوانخواہ میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ابھی تک دہشت گردی کے بارے میں واضح پالیسی نہیں بنائی کہ انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینا ہے یا ان کا ساتھ دینا ہے تب تک ایسے ہی سکیورٹی اداروں کے بے قصور لوگ شہید ہوتے رہیں گے یا معطل ہو تے رہیں گے انھوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا ارداہ کیا تھا مگر غیر معقول اورغیر عقلی شرائط کی وجہ سے ابھی تک کانفرنس نہیں ہو سکی انھوں نے کہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کی پہلے ان کی چیف آف آرمی سٹاف اور وزیر اعظم نواز شریف سے بند کمرے میں علیحدہ ملاقات ہویہ عوامی لیڈر ہیں اور جن لوگوں نے ان کو ووٹ دیے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ انھوں نے جو بات کرنی ہے کھل کے عوام کے سامنے کریں نہ کی بند کمروں میں عوام سے چھپا کر فیصلے کئے جائیں آگے ہی ہم دہشت گردی کے اوپر دوہری پالیسی کی وجہ سے بہت نقصان کر چکے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پالیسی رکھی ہے اور اس وجہ سے پچھلے دور حکومت میں نہ صرف سوات اور بونیر دہشتگردوں سے آزاد کرایا گیا بلکہ تقریبا سارے انتہائ مطلوب ترین دہشت گرد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں مارے گئے۔

شریف بردران چائنہ کی سیر کر کے واپس آ گئے ہیں یہ ان کی فیملی ہولی ڈے پکنک تھی: راجہ عامرخان

IMG_4847

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات راجہ عامرخان نے کہا ہے کہ شریف بردران چائنہ کی سیر کر کے واپس آ گئے ہیں یہ ان کی فیملی ہولی ڈے پکنک تھی۔انھوں نے کہاکہ جتنے بھی منصوبے باشمول بلٹ ٹرین ،اینڈ ر گراؤ نڈ ٹرین یا میٹرو بس وغیرہ وغیرہ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں لوگوں کو ضروریات زندگی کے مسائل درپیش ہیں انھوں نے کہا کہ یہاں پر سرکاری سکولوں میں ٹیچر ز نہیں ہیں ،ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہیں۔پولیس کے پاس اسلحہ بارود نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ نوبت یہاں تک پہینچ گئی ہے کہ ڈاکوؤ ں نے پولیس والوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ پچھلے تین دن سے پوری پنجاب حکومت کی کوششوں کے باوجودڈاکوں سے پولیس والوں کو چھوڑانے میں ناکام ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں افسانوی منصوبوں پر ملک وقوم کے پیسے خرچ کرنے زیادتی ہو گی۔انھوں نے کہا کہ یہاں پر ایک روٹ پر میٹرو بس تو چلا دی ہے ۔مگر ان روٹوں کی طرف دیکھناچاہیے جہاں پر گھنٹوں کوئی ٹرانسپورٹ نہیں آتی اور لوگ بسوں ویگنوں کی چھتوں پر بیٹھ کر اور ان سے لٹک کر سفر کرتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ان سکولوں کی طرف دیکھنا چاہیے جہاں پر نہ استاد ہیں نہ کتابیں ہیں اور لوگوں کو لیپ ٹاپ کے خواب دیکھائے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ہم حکومت سے پوچھتے ہیں کہ وزیر اعظم ،وزیر اعلی اپنے بچوں حسین نواز اور سلیمان شہباز کو سرکاری دوروں پر کس کھاتے میں ساتھ لے کر جاتے ہیں اور یہ کس حیثیت سے ملک میں اور ملک سے باہر سرکاری میٹنگز میں شامل ہوتے ہیں ۔انھو ں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان ہے کوئی میاں برادران کی ذاتی فیکٹری یا کاروبار نہیں ہے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ نوازکی دہشت گردی کی جنگ میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے: راجہ عامرخان

IMG_4847

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات راجہ عامرخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا گراف تیزی سے نیچے کی طرف آرہا ہے۔انھوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی کوئی پلاننگ نہیں ۔ان کو ابھی تک یہ نہیں پتا چلا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہم نے دہشت گردوں کا ساتھ دینا ہے یا ان کے خلا ف ہو نا ہے انھوں نے کہاکہ اسی وجہ سے جو موجودہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس دہشت گردی کے اوپر 12جولائی کو بلائی ہے۔اس میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان صاحب برطانیہ کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ خیبر پختون خواہ میں ان کی حکومت کنفیوژن کا شکار ہے۔اور کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی کہ کیاکرنا ہے۔انھوں نے کہاکہ یہی حال پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کا ہے۔ان کی بھی دہشت گردی کی جنگ میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان میں واحد پیپلز پارٹی ہے جو ایک مستقبل کی دنیا کے ساتھ چلنے والی اور دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پالیسی رکھتی ہے۔انھوں نے کہاکہ اگر موجودہ حکومت نے جلد کوئی واضح پالیسی دہشتگردی کے متعلق نہ بنائی تو جیسے آج کل کو ئی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سکیورٹی ایجنسی کے افراد معصوم شہریوں کے ساتھ یوں ہیہلاک ہوتے رہے گے۔

ملکی سلامتی کا سودا نہ کرنے پر بھٹو کو سزا دی گئی، میاں منظور وٹو

485417_443005825806244_1453380507_n

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ جمہوری نظام پر غریبوں اور مزدوروں کے حقوق اور ملکی سلامتی پر سودے بازی نہ کرنے پر بھٹو کو سزا دی گئی ۔لاہور میں 5 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں منظور وٹو نے کہا کہ بھٹو شہید کی سوچ اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

اپنی غلطیوں سے سیکھ کر کمزور طبقے کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو حکومت تو مل گئی مگر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، مہنگائی، امن و امان، ڈرون حملے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کہاں گئے،
میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ خادم اعلی صاحب آئیں ان کے ساتھ مل کر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک مینار پاکستان کے نیچے کیمپ لگائیں۔
1017670_443003272473166_1803239305_n

1011038_442460395860787_1754499189_n

موجودہ حکومت کی کوئی سمجھ نہیں آرہی کہ ان کی دہشت گردوں سے مزاکرات کرنے کی کیا منصو بہ بندی ہے: تنویر اشرف کائرہ

960088_424951554278338_282540976_n

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکر ٹری تنویر اشرف کائرہ نے کہا ہے کے دنیا میں ہونے والے تمام کرکٹ مقابلے 2023تک ہونے ہیں ان کے شیڈول کا علان کر دیا گیا ہے اور پاکستان حکومت کے لیے نہایت شرمند گی کی بات ہے کہ 2023تک ایک میچ بھی پاکستان میں نہیں کھیلا جائے گا ۔انھوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی موجودہ حکومت کے منہ پرطمانچے کے برابر ہے کیونکہ یہ دعوے کرتے تھے کہ آتے ہی دہشت گردی پر مزاکرات کے ذریعے قابو پالیں گے انھوں نے کہاکہ ابھی تک موجودہ حکومت کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کی دہشت گردوں سے مزاکرات کرنے کی کیا منصو بہ بندی ہے یہ نہ ہی ان کے خلاف کوئی ایکشن کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی مزاکرات میں پیش قدمی کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معصوم لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری سکیورٹی کرنے والے افرادبھی روز دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں انھوں نے کہاکہ پچھلی حکومت نے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے جتنے بھی ا قدامات کیے تھے ان پر پانی پھیر دیا گیا ہے اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ ہی ملک میں کوئی غیر ملکی سیاح آنے کو تیار ہے اور نہ ہی کوئی غیر ملکی ٹیم کھیلنے کے لیے آنے کو تیار ہے انھوں نے کہاکہ پوری دنیا کو یہ یقین ہے کہ یہ دہشت گردوں کی دوست حکومت پیار محبت سے دہشت گردوں کو ختم نہیں کر سکے گی اس لیے عالمی کرکٹ کونسل نے بھی اس حکومت سے مایوس ہو کر 2023تک پاکستان میں کوئی بڑا کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں رکھا یہ ہمارے لیے اور خاص طور پر موجودہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے