پاکستان میں پرو طالبان قوتوں کو الیکشن جتوانا اور اقتدار دلوانا طے ہو چکا تھا: تنویر اشرف کائرہ

12-22-2010_7515_l_u

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری تنویر اشرف کائرہ اور نائب صدر طارق گجر نے کہا ہے کہ 11 مئی 2013 کے عام انتخابات خصوصی طور پر ڈیزائین کئے گئے تھے اس لئے اس کے پہلے سے طے شدہ نتائج کے حوالے سے کسی بھی پارٹی کی کارکردگی یا عوامی مقبولیت کے حوالہ سے بے سرو پا پاتوں اور الزام تراشیو ں کا سلسلہ ختم ہو جانا چاہئے ۔ پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ حالیہ عام انتخابات میں عالمی طاقتوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آ رہے ہیں خصوصا ” افغانستان سے امریکی و نیٹو فورسز کے انخلا کے حوالے سے محفوظ راستہ دینے کے عوض طالبان کی پیش کردہ شرط تسلیم کرتے ہوئے پاکستان میں پر و طالبان قوتوں کو الیکشن جتوانا اور اقتدار دلوانا طے ہو چکا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ عہد حکومت میں عوامی خدمات کی شاندار خدمات کی قابل قدر مثالیں رقم کیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 75 لاکھ گھرانوں کے 5 کروڑ سے زائد مستحقین کی مالی اعانت ’ توانائی بحران ،سے نمٹنے کے لئے بھاشا دیامرڈیم اور پاک ایران گیس معاہدہ سمیت متعد د قلیل مدتی اور طویل المیعاد منصوبے شروع کئے گئے ، 1973 ء کے متفقہ آئین کو اصل صورت میں بحال کیا گیا ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 158فیصد اضافہ ، پنشن معاہدے ، روس سے تعلقات کی بحالی،علاقائی تعاون برائے ترقی کے فروغ اور خارجہ پالیسی کو جراتمندانہ خطوط پر استوار کر کے قومی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے جیسے انقلابی اقدامات پیپلز پارٹی کے کریڈٹ پر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لئے اپنے قائدین کی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والی پیپلز پارٹی نے جمہوری استحکام کے لئے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے اور نئی حکومت کے ساتھ تعاون کااعلان بھی اس حوالہ سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معروضی حقائق اور ٹھوس شواہد منظر عام پر آنے کے بعد انتخابی ہار جیتکے حوالہ سے فضول بیان بازی اور الزامات کا سلسلہ ختم کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب بھی ملک کی سب سے بڑی اور مقبول عوامی جماعت ہے جو نئے عزم کے ساتھ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رکھے گی ۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر کام کریں گے، رحمان ملک

ہم میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کریں گے، اپوزیشن میں بیٹھ کر تعمیری کردار ادا کریں گے, رحمان ملک۔
ہم میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کریں گے، اپوزیشن میں بیٹھ کر تعمیری کردار ادا کریں گے, رحمان ملک۔

اسلام آ باد: پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ مل کر کام کریں گے، کہیں بھاگ نہیں رہا مرنے کے بعد اپنی سرزمین میں ہی دفن ہوں گا۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کیلئے ہماری جماعت نے جو قربانیاں دیں وہ ضائع نہیں ہونی چاہئیں، اسی لئے تمام تر دھاندلیوں اور تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج قبول کئے، ہم چاہتے ہیں نئی منتخب قیادت کو بھی پورے پانچ سال ملیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ پٹواری کے اختیارات نہیں دیتے، پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں اختیارات پارلیمنٹ کو تفقیض کئے، ہم میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کریں گے اور اپوزیشن میں بیٹھ کر تعمیری کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جہاں اچھا کام کر رہی ہو گی پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔

رحمان ملک نے کہا کہ پورا پاکستان امن چاہتا ہے، اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس مسئلے کے کسی حل تک پہنچ گئی تو بہت اچھی بات ہوگی، پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اس سلسلے میں بارہا کوششیں کیں، اُس وقت طالبان نے نوازشریف یا مولانا فضل الرحمن کو ضامن بنانے کا مطالبہ کیا، اب نوازشریف خود وزیراعظم بن رہے ہیں تو طالبان کو کسی ضمانت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ کہیں بھاگ نہیں رہے نہ ہی ان کا نام ای سی ایل میں درج ہے انہوں نے وصیت کر رکھی ہے کہ انہیں اپنی سرزمین میں ہی دفن کیا جائے، انہوں نے کہا کہ اگر ایک صوبے کے لوگ دوسرے صوبے پر حکومت کریں گے تو وفاق پر اس کا تاثر کبھی بھی اچھا نہیں پڑے گا۔ الطاف حسین نے مذاکرات کے دوران کہا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم مل کر کام کریں گے، انہوں نے الطاف حسین کا پیغام صدر آصف زرداری تک پہنچا دیا ہے۔

PPP: preparing for another dawn

65333_435177886570757_5159208_n

THIS is apropos F.S. Aijauzuddin’s article (May 23). While working on my book “40 Years of Pakistan People’s Party” (published in 2007), I was amazed to observe the frequency of declarations made by armchair intellectuals to the effect that the party was sinking, or had collapsed, or was over, since the inception of the party in 1967. But every time the resilience embedded in the party has proved all such declarations and predictions wrong.

The doomsday scenario for the party was first painted in darkest shades in 1977 when the PNA-led agitation led to imposition of martial law. There was jubilation in circles opposed to ZAB that he had been sorted out by the army and that with him his party was over. Soon it was clear that the observation was no more than wishful thinking.

Since then these doomsday scenarios have been repeated with regularity: when Nusrat Bhutto and Benazir Bhutto left the country in the 1980s; when PPP governments were dismissed in 1990 and 1996 by the then presidents on charges of poor governance and corruption; Benazir Bhutto’s going into exile in 1999 and the recent one when she was killed in December 2007.

But every time the party’s springing back to the centre-stage of Pakistan’s politics has exposed the superficiality of those observations and predictions.

This time the favourite observation regarding the end of the party has been based on the party’s securing just 35 seats in the National Assembly in recent elections. They conveniently ignore the fact that the party has even secured 17 seats, half of the present number, in the 1997 elections, under Benazir Bhutto’s leadership. This type of ebbs and flows are part of parties’ histories all over the world.

Then, there has been bemoaning on alterations, some real and some imaginary, in the party’s hierarchy ever since President Asif Ali Zardari took charge. Again it is forgotten here that every leader has a right to select his kitchen cabinet according to his or her choice.

It is also a fashion to say that the PPP has deviated from its original manifesto unveiled in 1967. The writer of the article has even blamed ZAB for deviating from the manifesto that he had given to the nation. Here again, the concept of evolution amongst the parties is conveniently forgotten.

The policies and programmes of parties are not frozen in times but keep on evolving as time passes. Just have a look at the Indian National Congress’s creed and programmes in 1885 and the All-India Muslim League in 1906, when they were founded and what they preached in the 1940s.

Hence, the party is not sinking. It is preparing for another dawn.

DR MUHAMMAD ALI SHAIKH
Professor of Communication
SMI University
Karachi

Source: DAWN

چیف جسٹس نگراں حکومت کے منی بجٹ کا نوٹس لیں، کائرہ

معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے، ربانی،نگراں مینڈیٹ سے تجاوز کررہے ہیں، خورشید شاہ۔
معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے، ربانی،نگراں مینڈیٹ سے تجاوز کررہے ہیں، خورشید شاہ۔

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ نے 152ارب روپے مالیت کا مِنی بجٹ متعا رف کرانے پر نگران حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اُسے غیر آئینی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹیکسوں کا نفاذ صرف منتخب پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں، نگراں حکومت ٹیکس تجاویز سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ نگران حکومت ٹیکس تجاویز کو واپس لیکرنئی حکومت کو اِس سلسلے میں فیصلے کا موقع دے ۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ نگراں حکومت آئین کے آرٹیکل 73 اے کے تحت منی بل نہیں لا سکتی، نگرانوں کا یہ غیر آئینی اقدام ہے، سینیٹ کے اجلاس میں ہم اس معاملے کو اٹھائینگے اور جب قومی اسمبلی وجود میں آ جائیگی تو وہاں بھی اس معاملے کو پیش کیا جائیگا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ نگران حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کررہی ہے، جی ایس ٹی لگانا ان کا مینڈیٹ نہیں۔ دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کے چیئرمین زاہد خان نے کہا ہے کہ بجلی کے بلوں پرفیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کوعوام سے وصول نہیںکرنے دینگے، یہ عوام کیساتھ ظلم ہے۔

Source: Daily Express

پی پی کی قربانیوں کی بدولت جمہوریت مضبوط ہوئی: تنویر اشرف کائرہ

دھاندلی کے باوجودجمہوری استحکام کے لئے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا:میڈیا سے گفتگو
12-22-2010_7515_l_u

لاہور:پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری تنویر اشرف کائرہ نے کہا ہے کہ تمام تر سازشوں کے باوجودپیپلز پارٹی نے وسیع تر قومی مفاہمت کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار جمہوری اداروں کی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں جس کی بدولت آج جمہوریت مضبوط ہوئی ہے ۔پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے شہید بھٹو کے حقیقی جانشین ہونے کا ثبوت دیااور بروقت شفاف انتخابات کا انعقاد کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد پارٹی کی قیادت سنبھال کر صدر زرداری شہید بھٹو کے مشن کو ہر صورت مکمل کریں گے ۔ انتخابات میں دھاندلی کے باوجود جمہوری استحکام کے لئے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ صدر زرداری کے پاک ایران گیس معاہدہ ، گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے جیسے جراتمندانہ فیصلوں سے پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔