آئندہ انتخابات میں پنجاب میں کامیابی پیپلزپارٹی کا مقدر ہے ۔ منظور وٹو

شریف برادران کو آئندہ انتخابات میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا ، پنجاب کے عوام سریا برادران کے جھانسے میں آنے والے نہیں، پنجاب حکومت کی ساری توجہ لاہور پر مرکوز ہے ، باقی صوبے میں کسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں

ق لیگ کے ساتھ تمام معاملات طے کر لئے ،اتحاد برقرار رہےگا ،کارکنوں کو ساتھ لیکر چلوں گا عوام سریا برادران کے جھانسے میں آنے والے نہیں:پریس کانفرنس ، کارکنوں سے گفتگو
اسلام آباد /لاہور/ساہیوال (ثناءنیوز،آئی این پی) وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت’ بلتستان اور پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر منظور احمد ووٹو نے آئندہ عام انتخابات میں پنجاب کو میدان جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک کی62فیصد آبادی پنجاب میں ہے پنجاب نے فیصلہ کرنا ہے کہ اقتدار کا تاج کس کے سر پر سجے گا؟، پیپلز پارٹی نے صوبے میں مسلم لیگ(ق) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سمیت تمام معاملات طے کرلئے ، ہمارا اتحاد برقرار رہے گا،پنجاب کی تمام تحصیلوں ڈویژنوں اور یونین کونسلوں میں پیپلز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے گا، پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے جیل جانے والوں کو ساتھ لیکر چلوں گا اور خاموش ساتھیوں کے پاس خود جاؤں گا ۔وہ پنجاب ہاؤس میں ضلع راولپنڈی کے نمائندوں سے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے نام ورکرز کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں(ق) لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریگی اور آئندہ دو یا چار روز میں مسلم لیگ(ق) کے سربراہ کے ساتھ مل کر تمام معاملات کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ ساہیوال اور لاہور سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکنوں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا کہ شریف برادران کو آئندہ انتخابات میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا ، پنجاب کے عوام سریا برادران کے جھانسے میں آنے والے نہیں، پنجاب حکومت کی ساری توجہ لاہور پر مرکوز ہے ، باقی صوبے میں کسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ، آئندہ انتخابات میں پنجاب میں کامیابی پیپلزپارٹی کا مقدر ہے ۔ منظور وٹو نے کہاکہ فوجی آمر کی پیداوار (ن)لیگ آج بھی ضیاءالحق کے دور کے خواب دیکھ رہی ہے لیکن اب اس ملک میں نہ تو کوئی ضیاءالحق آئے گا اور نہ ہی (ن)لیگ کو چور دروازے سے اقتدار میں آنے کا موقع ملے گا ۔

Source: Roznama Dunya

مفاہمت کی سیاست ۔۔۔۔۔۔۔ضمیر نفیس



صدر مملکت آصف علی زرداری نے عید الضحیٰ کے موقع پر متعدد سیاسی شخصیات کو فون کرکے انہیں عید کی مبادکباد پیش کی اس موقع پر بات چیت کے دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ ملک میںسیاسی ماحول کو خوشگوار رکھنے کیلئے حکومت مفاہمت کی سیاست کو جاری رکھے گی مفاہمت کی سیاست کی اصطلاع شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے تدبر اور ان کی فراست کا نتیجہ ہے انہیں اگر ملک وقوم کی خدمت کرنے کا موقع ملتا تو یقیناً وہ خود مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیتیں لیکن انہیں دہشتگردوں نے شہید کردیا چنانچہ وہ سیاست اور معیشت کے شعبہ میں اس روڈ میپ پرعمل نہ کرسکیں جس کا انہوں نے تعین کررکھا تھا تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد شہید لیڈر کے مفاہمت کی سیاست کے فلسفے پر عمل شروع کردیا مفاہمت کی سیاست کا فلسفہ دراصل جمہوریت کے استحکام کے سمت جانے والا راستہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پاکستان میں انتقام اور محازآرائی کی روایتی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ہے اور تمام جماعتوں کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ہے جبکہ سیاسی مسائل کو مل بیٹھ کربات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے یہ مفاہمت کی سیاست کا اصول ہی تھا جس کے تحت صدر مملکت آصف علی زرداری نے ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد رائے ونڈ کادورہ کیا اور میاں نواز شریف سے ملاقات کی پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت سازی کیلئے اگر چہ مسلم لیگ (ن) کے تعاون کی قطعی ضرورت نہ تھی اس کے باوجود اسے حکومتی اتحاد میںشامل کیا گیا وجہ محض یہی تھی کہ سیاست میں محاز آرائی کے بجائے مفاہمت کی روش اختیار کی جائے اور تمام جماعتیں مل جل کر قوم کو مختلف بحرانوں سے نکالنے کے سلسلہ میںاپنا مشترکہ کردار ادا کریں تاہم مسلم لیگ (ن) جو پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہوئی چند ہی ماہ بعد اس نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کرکے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں میںاپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا یہ بھی مفاہمت کی سیاست تھی کہ صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے عوام سے ان کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں ماضی کی حکومتوں کی غفلت اور کوتاہیوں پر معافی مانگی اور اس کے ازالے کا وعد ہ کیا اوریہ ریکارڈ کی بات ہے کہ اس وعدے کی تکمیل کے سلسلے میں آغاز حقوق بلوچستان کا پروگرام سمیت متعدد اقدامات کئے بلوچستان کی سیاست میں مفاہمت کے فروغ کے حوالے سے صدر مملکت کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا جس کے تحت مشرف دور میں صوبے کے سیاسی لیڈروں اورکارکنوں کے خلاف قائم تمام مقدمات کو ختم کرکے ان کی رہائی عمل میں لائی گئی پاکستان کے سیاسی اورجمہوری ادوار کی مدت آمرانہ فوجی ادوار کے مقابلے میں بہت کم رہی منتخب حکومتوں کازیادہ سے زیادہ دورانیہ تین سال تک رہا جبکہ فوجی اور مارشل لاء حکومتیں دس دس برسوں تک قائم رہیں ستم ظریفی تو یہ تھی کہ اپنے محدود دورانیہ میں بھی برسراقتدار حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور کچلنے کیلئے ریاستی وسائل استعمال کئے اورانتقامی سیاست کو فروغ دیا لیکن اس پس منظر میں 2008 میں قائم ہونے والی موجودہ جمہوری حکومت نے ایک نئے سیاسی اسلوب کو تخلیق کیا کسی مخالف کے خلاف کوئی مقدمہ قائم ہوا نہ اسے کچلنے کیلئے ریاستی وسائل استعمال کئے گئے اس کے برعکس اختلاف رائے اور تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی دوسری طرف ناقدین اورمخالفین کے انتہا پسندانہ رویے کا یہ عالم تھا کہ حکومت کو قائم ہوئے بمشکل ایک سال ہی ہوا تھا کہ اس کے رخصت ہونے کی تاریخیں دی جانے لگیں مگر عوام کو گمراہ کرنے اورجمہوریت کے بارے میں اس درجہ کی بد گمانیوں پر بھی سیاست اور میڈیا کو متعلقہ شخصیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی حکومت کا یہ طرز عمل دراصل سیاست میں اس نئے اسلوب کی غمازی کررہاتھا جس کے سونے مفاہمت کی سیاست اور جمہوریت کو فروغ دینے کے عزم سے پھوٹتے ہیں اس مثبت سیاست ہی کا یہ اعجاز ہے کہ آج جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کو ہے آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ اپنا بھر پور آئینی کردار ادا کررہے ہیں حزب اختلاف کی آزادی کاتو یہ عالم ہے کہ بسا اوقات یہ اپنے آئینی کردار اور اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کرجاتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی مفاہمت کی سیاست نے یقیناً جمہوریت کے استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اب سیاست کو ماضی کے منفی راستوں پر کبھی واپس نہیں لے جایا جاسکتا یہ اس دور کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

Source: Daily Asas

Govt ready to probe concerned persons on bribe charges in accordance with SC verdict: Kaira

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق رانا مقبول سمیت تمام متعلقہ افراد کے خلاف تحقیقات کیلئے تیار ہے‘ قصور وار افراد کے خلاف ضروری کارروائی ہوگی‘کیس کے مجرموں کو قوم سے معافی مانگی چاہئے۔گزشتہ شب ایک نجی ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) اسلم بیگ نے پہلے ہی عدالت میں اپنا جرم تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل فیصلہ صرف تادیبی کارروائی نہیں‘درحقیقت 1990ءکا الیکشن ہائی جیک ہوا اور چوری کیا گیا،عوام کے حقوق پر ڈاکہ مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ایسے انتخاب کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کی کیا قانونی حیثیت تھی، اس کا مینڈیٹ جھوٹا تھا، اس نے سیاسی مخالفین کے خلاف جو مقدمے بنائے وہ جھوٹے تھے، ان کے الزامات جھوٹے تھے۔

ISLAMABAD, Oct 29 (APP): Federal Minister for Information and Broadcasting Qamar Zaman Kaira said that the government was ready to hold investigations against the concerned persons, including Rana Maqbool in accordance with the Supreme Court verdict in Asghar Khan case. Talking to a private television channel Sunday night, the Information Minister said that action against the convicts would be initiated soon.

The persons, convicted in the Asghar Khan case must tender apology to the people, he added. In response to a question about General (Retd) Aslam Baig, he said Baig had already confessed his crimes before the court, but he was not punished at that time. He may be punished now for his deeds, the Minister added. The government accepted the Supreme Court verdict in Asghar Khan case in toto, he added.

Aseefa Bhutto Zardari @AseefaBZ spends Eid with #Malala family in Birmingham


BIRMINGHAM, Oct 28 (APP): Aseefa Bhutto Zardari spent Eid with Malala’s family here on Friday.Accompanied by Pakistan High Commissioner for UK Wajid Shamsul Hasan, Aseefa travelled from Oxford Brooks University, where she is currently studying, to Birmingham to meet Malala’s parents and inquire after their daughter’s health.

She spent about two hours with the family and hoped that Malala would soon recover.While strongly condemning the attack she said that this kind of brutal act could not be done by Muslims and those who had done it were not Muslims.

On this occasion, Aseefa said that the whole of Pakistan was standing with Malala, who had become a symbol of peace, enlightenment and women empowerment. She also conveyed the full support of President Asif Ali Zardari to the family.During the meeting the senior officials of Queen Elizabeth Hospital were present while Medical Director Dr Dave Rosser briefed Aseefa about Malala’s health status.Malala’s father thanked Aseefa and the High Commissioner for being with his family on Eid Day.

Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif should quit politics‚ on their involvement in election rigging: Mian Manzoor Wattoo


President of Pakistan People’s Party Central Punjab Mian Manzoor Ahmad Wattoo has said that the PPP government has full confidence on the Chief Election Commissioner that he will conduct next general elections impartially.

Talking to the party workers in Chichawatni today he said that Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif should quit politics‚ on their involvement in election rigging in 1990.